آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایک پٹھان کا عہد اور کالے پانی میں انگریز وائسرائے کا قتل
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ مضمون پہلی مرتبہ 27 ستمبر، 2020 کو شائع کیا گیا تھا، قارئین کی دلچسپی کے باعث اسے دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے۔
لارڈ میؤ کا شمار ہندوستان کے سب سے زیادہ سیرو سیاحت کرنے والے وائسراؤں میں ہوتا ہے۔ ہندوستان کے چوتھے وائسرائے لارڈ میؤ نے ہندوستان میں اپنے تین سالہ دور حکومت میں تقریباً بیس ہزار میل کا سفر طے کیا تھا۔ اس سفر کا زیادہ تر حصہ گھوڑوں کی پیٹھ پر طے کیا تھا۔
ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ گھوڑوں کی پیٹھ پر ایک دن میں 80 میل کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں اپنی تقرری کے دوران انھوں نے انگریزوں کے لیے دستیاب ٹرانسپورٹ کے تمام طریقوں کا استعمال کیا جن میں سٹیمرز، ریل، ہاتھی، یاک اور یہاں تک کہ اونٹ بھی شامل تھے۔
جے ایچ ریوٹ کارناک اپنی کتاب 'مینی میموریز' میں لکھتے ہیں: 'ایک بار وسطی ہندوستان میں جب میؤ کو معلوم ہوا کہ وہاں صرف بیل گاڑی ہی کا استعمال کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے اپنے پاجامے پر کوٹ پہن لیا۔ اور بیل گاڑی میں پڑے پیال پر لیٹ گئے۔ انھوں نے اپنا سگار جلاتے ہوئے اعلان کیا کہ اس سے زیادہ سکون کی جگہ ہو ہی نہیں سکتی۔ صبح اپنی منزل پر پہنچ کر انھوں نے بتایا مجھے بہت اچھی نیند آئی۔ نیچے اترکر انھوں نے اپنی یونیفارم پہنی اور اپنے کوٹ پر لگے پیال کے تنکوں کو جھاڑ کر گرا دیا۔'
آخری وقت میں ماؤنٹ ہیریٹ جانے کا منصوبہ بنایا
سنہ 1872 میں لارڈ میؤ نے فیصلہ کیا کہ وہ برما اور جزائر انڈمان کا سفر کریں گے۔ اس وقت انڈمان میں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا تھا اور اس سے قبل کسی وائسرائے یا گورنر جنرل نے انڈمان کا دورہ نہیں کیا تھا۔
پہلی بار سنہ 1789 میں لیفٹیننٹ بلیئر کو انڈمان میں بستی بسانے کا خیال آیا تھا۔ لیکن سنہ 1796 میں ملیریا کے پھیلنے اور مقامی قبائل کی مخالفت کی وجہ سے انگریزوں نے جزیرہ چھوڑ دیا تھا۔
سنہ 1858 میں انگریزوں نے یہاں خطرناک قیدیوں کو بھیجنا شروع کیا۔ جنوری سنہ 1858 میں 200 قیدیوں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچی۔ جب لارڈ میؤ انڈمان گئے تو وہاں کی مجموعی آبادی آٹھ ہزار تھی جس میں سات ہزار قیدی، 900 خواتین اور 200 پولیس اہلکار شامل تھے۔
میؤ کا انڈمان کا سفر آٹھ فروری سنہ 1872 کو شروع ہوا۔ صبح نو بجے ان کا جہاز گلاسگو پورٹبلئر کے بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ جہاز سے اترتے ہی انھیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ اسی دن انھوں نے راس جزیرے میں یورپی بیرکوں اور قیدیوں کے کیمپ کا دورہ کیا۔ انھوں نے اپنے وفاداروں کے ساتھ چاتھم جزیرے کا دورہ کیا۔ جب چاتھم جزیرے پر ان کے تمام پروگرام وقت سے پہلے ہی ختم ہو گئے تو انھوں نے کہا کہ سورج غروب ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے کیوں نہ اس وقت کو ماؤنٹ ہیریئٹ کی سیر کے لیے استعمال کریں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاریکی میں شیر علی آفریدی نے چاقو سے وار کیا
اس سفر پر میؤ کے ساتھ آنے والے سر ولیم ولسن ہنٹر میؤ کی سوانح حیات 'لائف آف دی ارل آف میؤ' میں لکھتے ہیں ماؤنٹ ہیریئٹ تقریباً 1116 فٹ بلند تھا۔ اس کی چڑھائی سیدھی اور بہت سخت تھی۔ سخت دھوپ میں چڑھتے ہوئے ان کی ٹیم کے بیشتر ارکان تھک کر نڈھال ہو چکے تھے۔ لیکن میؤ اس قدر تازہ دم تھے کہ انھوں نے ساتھ چلتی ہوئی گھوڑی کی سواری کو یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اس کا کوئی اور استعمال کر لے۔ چوٹی پر پہنچ کر انھوں نے دس منٹ تک غروب آفتاب کا لطف اٹھایا اور اپنے آپ سے کہا یہ سب کتنا حسین ہے!'
جب میؤ کا گروپ واپس جانے کے لیے نیچے اترا تو چاروں طرف اندھیرا چھا چکا تھا۔ ہوپ ٹاون جیٹی پر ایک فیری وائسرائے کو جہاز میں لے جانے کے لیے ان کا انتظار کر رہی تھی۔
کچھ لوگ مشعل لے کر میؤ کے آگے چل رہے تھے۔ میؤ کے دائیں طرف ان کے ذاتی سیکریٹری میجر اوون برن تھے اور بائیں طرف انڈمان کے چیف کمشنر ڈونلڈ اسٹیورٹ تھے۔ میؤ کشتی پر سوار ہونے ہی والے تھے کہ اسٹیورٹ محافظوں کو ہدایت دینے کے لیے آگے بڑھے۔ اسی وقت جھاڑیوں میں چھپے ہوئے ایک لمبے پٹھان نے میؤ کی پیٹھ پر چھرے سے وار کیا۔
ہنٹر لکھتے ہیں کہ ’مشعل کی روشنی میں لوگوں نے ایک شخص کا ہاتھ چھرا اٹھائے دیکھا۔ اس نے میؤ کے دونوں کندھوں کے درمیان دو بار چھرے سے وار کیا۔ میؤ کے سیکریٹری میجر برن نے دیکھا کہ ایک شخص تیندوے کی سی پھرتی کے ساتھ میؤ کی پیٹھ پر سوار ہو گیا۔ دو سیکنڈ میں ہی قاتل پکڑا گیا۔ میؤ پانی میں گھٹنوں کے بل گر چکے تھے۔
انھوں نے کسی طرح خود کو اوپر اٹھایا اور اپنے سیکریٹری سے کہا: 'برن دے ہیو ڈن اٹ۔' پھر انھوں نے اونچی آواز میں کہا مجھے نہیں لگتا کہ مجھے زیادہ چوٹ پہنچی ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ ایک بار پھر گر پڑے۔ ان کا سلیٹی رنگ کے کوٹ کی پشت ان کے خون سے سرخ ہو گئی تھی۔ وہاں موجود لوگوں نے ان کا کوٹ پھاڑ دیا اور رومال اور اپنے ہاتھوں سے بہتے ہوئے خون کو روکنے کی کوشش کی۔ کچھ فوجی ان کے ہاتھ پاؤں ملنے لگے۔‘
لارڈ میؤ نے دم توڑ دیا
اس واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے میؤ کے سیکریٹری میجر برن نے کیمبرج یونیورسٹی کی لائبریری میں رکھے ہوئے اپنے کاغذوں میں لکھا: 'وائسرائے نے دھیمی آواز میں کہا مجھے جہاز تک لے چلو۔ ہم نے انھیں فوری طور پر ملاحوں کی مدد سے اٹھایا اور کشتی پر لے آئے۔ ان کے آخری الفاظ میرے سر کو اوپر اٹھاؤ۔ میؤ کو فوری طور پر منتظر جہاز میں لے جایا گیا۔‘
ہنٹر لکھتے ہیں: 'جہاز پر سوار لوگ رات کا کھانا تیار کر رہے تھے۔ جیسے ہی میؤ کی کشتی جہاز پر پہنچی، جہاز کی ساری لائٹس بجھا دی گئیں تاکہ لوگ یہ نہ دیکھ سکیں کہ میؤ کو کیا ہوا۔ میؤ کو اٹھا کر ان کے کیبن میں لے جایا گیا۔ جب انھیں ان کے بستر پر لیٹایا گیا تو سب نے دیکھا کہ میؤ کی موت ہو چکی تھی۔ صبح ہوتے ہی جہاز پر لہراتا برطانوی پرچم نصف جھکا دیا گیا تھا۔'
یہ بھی پڑھیے
1869 میں ہی اعلیٰ انگریز عہدیدار کو قتل کرنے کی قسم
میؤ کو چھرا مارنے والے شیر علی کو بھی وہی سزا دی گئی تھی جو اس وقت اس جرم کے لیے دی جاتی تھی۔ میؤ کے قتل کے بعد شیر علی کو بھی اسی جہاز پر لایا گیا تھا جس پر میؤ کی لاش رکھی گئی تھی۔ وہاں جب برطانوی حکام نے شیر علی سے پوچھا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا تو ان کا جواب تھا 'خدا نے حکم دیا۔'
جب ان سے پوچھا گیا کہ 'کسی نے اس کام میں اس کی مدد کی تو انھوں نے کہا 'مرد کوئی شریک نہیں تھا۔ اس میں شریک خدا ہے۔'
شیر علی شمال مغربی سرحدی صوبے کے وادی تیراہ کے رہائشی تھے اور وہ پنجاب کی گھڑ سوار پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ انھیں پشاور میں اپنے کزن حیدر کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اپیل کے بعد اس سزا کو تبدیل کر کے انڈمان میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ بعد میں پھانسی سے پہلے اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ان کے خاندانی دشمن کو قتل کرنا ان کی نظر میں کوئی جرم نہیں ہے اور چونکہ انھیں 1869 میں سزا سنائی گئی تھی اس لیے انھوں نے اسی وقت یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اس کا بدلہ کسی اونچے انگریز عہدیدار کو قتل کر کے لیں گے۔
شیر علی کو پھانسی کی سزا
انڈمان میں سزا کاٹتے ہوئے انھوں نے تین سال تک اپنے شکار کا انتظار کیا تھا۔ آٹھ فروری سنہ 1872 کو جب انھوں نے لارڈ میؤ کی آمد کی خبر سنی تو انھوں نے صبح سے ہی اپنا چھرا تیز کرنا شروع کر دیا۔ شیر علی پہاڑوں میں رہنے والا ایک مضبوط آدمی تھا۔ اس کا قد 5 فٹ 10 انچ تھا۔ اپنے سیل میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں بندھے ہونے کے باوجود انھوں نے اپنی جسمانی طاقت کے زور پر ایک انگریزی سنتری سے سنگيں چھین لی تھی۔
ابتدائی طور پر انگریزوں کو شبہ تھا کہ مولوی تھانسیری اور دیگر مجاہدین جن کو انڈمان میں سزا دی جا رہی تھی انھوں نے شیر علی کی میؤ کو مارنے کے لیے 'ذہن سازی‘ کی تھی۔ لیکن گہری چھان بین کے بعد بھی یہ تصور باطل ٹھہرا۔
اس واقعے پر آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کی پروفیسر ہیلن جیمز اپنے مقالے 'دی اساسینیشن آف لارڈ میؤ: دی فرسٹ جہاد؟' میں لکھتی ہیں: 'شیر علی کے ساتھیوں سے پوچھ گچھ کے دوران پتہ چلا کہ انھوں نے بہت احتیاط سے اس قتل کا منصوبہ تیار کیا تھا۔ میؤ کے دورے سے پہلے ہی انھوں نے اپنے تمام ساتھیوں کو آخری بار الوداع کہہ دیا تھا۔ انھوں نے سب کے لیے کچھ کھانے کی اشیاء بنائیں تھیں اور اس میں اپنی ساری رقم خرچ کر دی تھی۔ لیکن ان میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ شیر علی اس حد تک جاسکتے ہیں۔ شیر علی نے اس سے قبل بطور کیولری میجر ہیو جیمز اور رینیل ٹیلر کے لیے پشاور میں کام کیا تھا۔ ٹیلر ان سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے شیر علی کو ایک گھوڑا، پستول اور انعام میں سرٹیفکیٹ دیا۔'
شیر علی کی موت کے پروانے کو ضابطے کے مطابق نظرثانی کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ کو بھیجا گیا تھا۔ 20 فروری سنہ 1872 کو ٹربیونل نے سزا کی تصدیق کی اور 11 مارچ سنہ 1872 کو شیر علی کو وائپر آئی لینڈ پر پھانسی دے دی گئی۔
لارڈ میؤ کو آئر لینڈ میں سپرد خاک کیا گیا
اس واقعہ نے برطانوی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے پر زیادہ دنوں تک دانستہ طور پر بات نہیں کی گئی۔
پروفیسر ہیلن جیمز اپنے تحقیقی مقالے میں لکھتی ہیں؛ 'یہ سراسر غیر متوقع تھا لیکن 1857 کے بغاوت میں وہابیوں کے کردار اور 20 ستمبر 1871 کو قائم مقام چیف جسٹس جان نارمن کے کلکتے میں ایک وہابی نواز عبد اللہ کے ہاتھوں قتل کے بعد برطانوی حکومت کو ایسے واقعے کے دوبارہ رونما ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے تھا۔ اس سے قبل بھی 10 ستمبر سنہ 1853 کو پشاور میں وہاں کے کمشنر کرنل فریڈریک میکسن کو ایک پٹھان نے ان کے بنگلے کے برآمدے میں چاقو مار کر قتل کر دیا تھا۔‘
لارڈ میؤ کے جسد خاکی کو اسی جہاز سے گلاسگو کے ذریعہ کلکتہ (اب کولکتہ) لایا گیا جس پر سفر کرتے ہوئے وہ پورٹ بلیئر گئے تھے۔ 17 فروری 1872 کو کلکتہ پہنچنے کے بعد ان کی میت کو پرنسیپ گھاٹ سے گورنمنٹ ہاؤس لایا گیا۔
کلکتہ میں مقیم تقریباً ہر انگریز ان کے جنازے میں شریک تھا۔
ان کی میت کو سرکاری اعزاز کے ساتھ دو دنوں تک گورنمنٹ ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد انھیں بمبئی اور پھر ڈبلن لایا گیا، جہاں 25 اپریل 1872 کو ریاستی اعزاز کے ساتھ انھیں ایک چرچ کے صحن میں دفن کیا گیا۔