انڈیا میں یہودیوں کی تاریخ: جب ایک یہودی شخص انڈیا کی مسلم ریاست کا وزیر اعظم بنا

    • مصنف, اومکار کرمبیلکر
    • عہدہ, نمائندہ، بی بی سی مراٹھی

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے شہر علی باغ میں آج اگر آپ سیاحوں سے بھری کسی جگہ سے آگے بڑھ کر لوگوں سے پوچھیں گے کہ سیناگاگ (یہودی عبادت گاہ) کہاں ہے تو شاید آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملے گا۔

وہاں کے لوگ 'ماگن اوبوتھ' جیسے مشہور سیناگاگ کے بارے میں نہیں جانتے! یہ سوال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے۔ یہ سوال میرے ذہن میں بھی آیا لیکن پھر ایک مقامی خاتون نے مجھ سے کہا 'آپ سیناگاگ نہیں مشید (مسجد) کہیے۔' جب میں نے مسجد کے بارے میں پوچھا تو لوگ سمجھ گئے۔

"اچھا، آپ کو مسجد جانا ہے؟' یہ کہتے ہوئے کوئی بھی آپ کو سیناگاگ تک پہنچا دے گا اور پھر آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے گا کہ کسی سیناگاگ کو مسجد کیسے کہا جا سکتا ہے؟

لیکن اس کے بعد آپ کو اس طرح کے اور بھی جھٹکے لگیں گے اور آہستہ آہستہ آپ کو 'بنی اسرائیل' کے بارے میں پتا چل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

آج متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل کے مابین ہونے والے امن مذاکرات سے سب حیران ہیں۔ یہاں تک کہ یروشلم، واشنگٹن اور دبئی میں بیٹھے رہنماؤں کو بھی شاید اس پر یقین نہیں آ رہا ہوگا اور کئی لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ متحدہ عرب امارات جیسا مسلمان ملک اسرائیل کو غیر مشروط تسلیم کیسے کر سکتا ہے؟

انڈیا میں ماضی کی شراکت پوشیدہ ہے

انڈین مسلمان اور یہودیوں نے (خاص طور پر مراٹھی بنی اسرائیلی) کئی صدیوں پہلے ایک ساتھ رہنے کی مثال قائم کی تھی۔

سنہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے شاید ہی کوئی ایک سال پر امن رہا ہو۔ لیکن مہاراشٹر میں نہ صرف مسلمان اور یہودی بلکہ ہندو، پارسی اور عیسائی تمام مذاہب کے لوگ خوشی خوشی ایک ساتھ رہتے ہیں۔ صرف یہی نہیں مہاراشٹرا کی تاریخ میں ایک مسلمان ریاست کی حکمرانی ایک یہودی شخص نے سنبھالی تھی۔

جب رومن سلطنت نے بیت المقدس کے یہودی سیناگاگ (عبادت گاہ) کو توڑا تو یہودیوں نے یہودیہ (اب اسرائیل) اور شمالی گالیلی صوبہ چھوڑ دیا۔ سنہ 135 عیسوی یعنی آج سے 1885 سال قبل جب رومیوں نے ان کے علاقے پر قبضہ کیا تو یہودی اپنے مذہب اور ثقافت کو بچانے کے لیے رومن سلطنت سے فرار ہونے پر مجبور ہوگئے۔

یہودی گروہ در گروہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں آباد ہو گئے۔ ان گروہوں کو 'لاپتہ قبائل' کہا جاتا ہے اور انڈیا میں آنے ولے بنی اسرائیلی، کوچین میں آنے والے یہودی اور منی پور میں آباد بنی مناشے اس برادری سے تعلق رکھنے والے سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح سے بنی اسرائیل اور انڈیا کے کا رشتہ 1800 سال سے زیادہ پرانا ہے۔

موروڈ جنجیرہ ریاست

اب مسلمانوں کی اس شاہی ریاست کی بات جس نے یہودی کو اپنا وزیر اعظم بنایا۔

موروڈ-جنجیرہ ریاست مہاراشٹر کے مغربی کنارے پر تھی۔ یہاں سدی برادری کا راج تھا۔ عربی زبان کا لفظ جزیرہ مقامی زبان میں بدل کر جنجیرہ ہو گیا۔ یہ ریاست ایک جزیرے پر آباد تھی اور وہاں ایک قلعہ تعمیر تھا۔

دادی رستم جی باناجی کی کتاب 'بامبے اینڈ دی سدیز' میں اس کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔

یہودیوں کی طرح سدی برادری بھی باہر سے انڈیا آکر آباد ہوگئی تھی۔ ساتویں صدی میں افریقہ سے آئے سدی پہلے غلام اور پھر بہادر سپاہی کی حیثیت سے انڈیا کے کئی حصے میں پھیل گئے۔ ان میں سے ایک ملک عنبر احمد نگر ریاست میں وزیر اعظم بھی بنے۔

جماعت الدین یعقوت نامی سدی غلام دلی کی ملکہ رضیہ سلطان کے لیے خاص کہے جاتے ہیں۔ جنجیرہ اور جعفرہ آباد سدی سلطنت تھی اور اس کے بعد گجرات کی سچن سلطنت سدیوں نے حاصل کرلی۔ ان کی جنگ کرنے کی صلاحیت قد کاٹھی کو دیکھ کر بہت سے بادشاہوں نے انھیں پناہ دی اور انھیں اپنی فوج میں بھرتی کیا۔ سدی آج بھی مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش، تیلنگانہ وغیرہ ریاستوں میں موجود ہیں۔

سدی پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ میں بھی رہتے ہیں۔

سدی کے زیر تسلط جنجیرہ قلعہ کو کوئی مراٹھی بادشاہ یا پیشوا نہیں جیت سکا تھا۔ سنہ 1948 میں انڈیا میں شامل ہونے کے بعد بھی یہ جنجیرہ قلعہ مراٹھی صوبے کے دائرہ کار میں نہیں آیا۔

گووند سکھارام سردیسائی کی تصنیف'مراٹھا ریاست جلد 3' سے ستارا کے ساہو مہاراج، پیشوا اور سدی برادری کی باہمی جدوجہد کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

موروڈ جنجیرہ ریاست کے لیے تاریخی دستاویزات اور پرانی کتابوں میں 'حبسان' لفظ کا استعمال کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 'حبسان' لفظ حبشہ (آج کے ایتھوپیا) سے آیا تھا۔

اس وقت سدی برادری کو مہاراشٹر میں 'حبشی' کہا جاتا تھا۔ اس سلطنت کے دیوان کا عہدہ شلوم باپوجی ورگھرکر کے پاس تھا۔ دیوان کے عہدے کو 'ریاست کا کارپرداز' بھی کہا جاتا تھا۔

شلوم باپوجی اسرائیل ورگھرکر

شلوم باپوجی اسرائیل ورگھرکر 7 اگست 1853 کو بیلگام میں پیدا ہوئے تھے۔ کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود انھیں کلرک کی نوکری مل گئی اور بعد میں وہ ہیڈ کلرک بن گئے۔

انھوں نے سنہ 1872 سے کام شروع کیا اور 1888 میں نواب جنجیرہ نے انھیں 'خان صاحب' کے خطاب سے نوازا۔ اس کے فورا بعد ہی انھیں 'خان بہادر' کا خطاب بھی ملا۔ صرف یہی نہیں وہ سنہ 1891-96 تک جنجیرہ سلطنت کے دیوان بھی رہے۔ یعنی اس دوران انھوں نے شاہی ریاست کے کام سنبھالے۔ اس وقت احمد خان سدی ابراہیم خان جنجیرہ کے نواب تھے۔

تل ابیب (اسرائیل) میں رہنے والے تاریخ دان الیانز دانڈیکر نے بی بی سی مراٹھی سے اس بارے میں بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ 'موروڈ جنجیرہ ریاست میں مسلمان اور ہندو دونوں برادریوں کے لوگ آباد تھے۔ شلوم نے دونوں مذہبی برادریوں کے مابین اتحاد قائم کرنے کے لیے کام کیا۔'

نواب نے قبرستان کے لیے جگہ دی

سنہ 1894 میں شلوم باپو جی کی بیٹی ملکہ کا موروڈ میں انتقال ہوگیا۔ اس وقت ان کی بیٹی کے لیے یہودی قبرستان میں جگہ نہیں تھی۔ شلوم باپوجی نے نواب کو یہ بات بتائی۔ اس کے بعد نواب نے یہودی قبرستان کے لیے زمین دی۔ یہ قبرستان ابھی بھی موروڈ میں موجود ہے۔

ریاست جنجیرہ کی سالانہ رپورٹ دیکھنے کے بعد ہر مذہب کے لوگوں کو 'دیوان' کے عہدے پر کام کرنے کا موقع ملا۔ شلوم سے پہلے دیوان کے عہدے پر وناک سکھارام کارنک اور مرزا عباس بیگ فائز تھے۔ شلوم کے بعد راؤ بہادر وینکٹ راؤ سبباراو کوپیکار دیوان بنے۔

سن 1896-97 میں سلطنت جنجیرہ کی سالانہ رپورٹ کے بعد سرنیائے دھیش رگھوناتھ دامودر نے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ پارسی مذہب کے کرسیٹ جی جیون جی مستری کو مقرر کیا گیا۔

یعنی ریاست جنجیرہ میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو سینیئر عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملتا تھا۔ شاہی ریاست کی کچھ سالانہ رپورٹس میں دیوان کا لفظ مینیجر کی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر جنجیرہ کی سلطنت کی سالانہ رپورٹ 1890-98 کے درمیان دستیاب ہیں۔

مورخ الیاز دانڈیکر جو اب اسرائیل میں آباد ہیں ان کے پردادا بھی موروڈ ریاست کے ملازم تھے۔ وہ موروڈ کے چیف واٹر انجینیئر تھے۔

دانڈیکر وضاحت کرتے ہیں: 'میرے پردادا نے وہاں پانی کا انتظام کیا۔ ان کی منصوبہ بندی کا طریقہ اب بھی استعمال میں ہے۔ انھیں بھی اسی قبرستان میں دفن کیا گیا تھا جس کے لیے نواب نے یہ زمین دی تھی۔'

شلوم باپو جی 1942 میں پونا میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہوئے۔

جیکب باپوجی اور ہائم شلوم

شلوم کے بھائی جیکب باپوجی آندھ ریاست کے نگران بنے۔ وہ 1865 میں پیدا ہوئے تھے۔ انھیں بھی 'خان بہادر' کے خطاب سے نوازا گیا تھا۔

آندھ کے راجہ بھوان راو پنت پرتینیدھی نے اپنی سوانح عمری میں جیکب کا تذکرہ کیا ہے۔ اس وقت راجہ اور ملازم کے مابین جو رشتہ ہوتا تھا اس کا اندازہ ان سوانح عمری سے لگایا جاسکتا ہے۔

جیکب باپوجی کا انتقال 1933 میں ہوا۔ ریاست آندھ کی سنہ 1908 کی سالانہ رپورٹ میں ان کا ذکر 'جیکب بی اسرائیل' کے نام سے ہے اور ان کے نام کے ساتھ 'ذمہ دار، آندھ ریاست' لکھا گیا ہے۔

بعد میں شلوم باپوجی کے بیٹے ہائم وارگھرکر اکل کوٹ کی سلطنت کے دیوان بنے۔ ایسا لگتا ہے کہ وارگھرکر خاندان کے ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔

جیکب باپوجی نے سنہ 1926 میں 'دی ازرالائٹ' میگزین میں اپنی والدہ اور نانی کے بارے میں لکھا ہے۔

اس مضمون کو نینا ہائمز اور الیاشا ہائمز کی کتاب 'انڈین جیوئش وومن' میں پڑھا جاسکتا ہے۔ اس مضمون میں جیکب نے بتایا ہے کہ کس طرح ان کی ماں نے ہمیشہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھا۔

ریاست آندھ میں کام کرتے ہوئے جیکب کی ایک مسلمان عورت سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ماں کی یادیں اس خاتون کے ساتھ شیئر کیں۔

انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا: 'اس خاتون سے اپنی ماں کے بارے میں بات کرنے کے بعد میری آنکھیں بھر گئیں۔ میرے گھر خواہ ہندو سادھو آئے یا مسلمان فقیر میری ماں دونوں کو عطیہ کرتی تھیں۔ شادی بیاہ میں مسلمان خواتین کے ساتھ مل کرا ایک ساتھ گيت گایا جاتا تھا۔

جیکب نے لکھا ہے کہ ان کی نانی کو شلوم کے بیٹے ہائم کا نام رکھنے کی سعادت ملی۔

یہودی انڈیا کے لوگوں کے ساتھ کس طرح گھل مل گئے

یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہودی تقریبا 1800 سال پہلے انڈیا آئے تھے۔ یہ لوگ علی باغ کے قریب نوگاؤں کے ساحل پر جہاز کے خراب ہونے کے بعد ساحل پر آئے تھے۔ اس کے بعد وہ یہاں بس گئے اور انھوں نے تیل نکالنے کا اپنا پرانا کام جاری رکھا۔

ہفتے کے روز (سبت) چھٹی لینے کی وجہ سے انھیں کونکن میں 'شنوار تیلی' کہا گیا تھا۔ اس وقت ، ہندو تیلی پیر کے روز چھٹی لے کر جاتے تھے تاکہ ہندو عقائد کے مطابق بھگوان شیو کی سواری سمجھے جانے والے نندی (بیل) کو اس دن کام نہیں کرنا پڑے گا۔

انڈیا میں بنی اسرائیل، بغدادی، بنی مناشے اور کوچین کے یہودی فرقے ہیں۔ بنی اسرائیلی مقامی ثقافت سے ہم آہنگ ہونے لگے۔ وہ جس گاؤں میں آباد ہوئے وہیں کا نام اپنا شروع کر دیا۔

راج پورکر، تلکر، نوگاوکر،دانڈیکر، دیویکر، روہیکر، پینکر، پیزارکر، جھڑادکر، چیولکر، اشٹمکر، آپٹیکر، آوسکر، چنچولکر، چانڈگاوکر ایسے کم و بیش 350 اسم (کنیت) مراٹھی یہودی برادری میں شامل ہیں۔ ان لوگوں نے خود کو 'بنی اسرائیلی' یعنی 'بنی اسرائیل' کہنا شروع کیا۔

مقامی لوگوں کو ان کے بارے میں زیادہ دنوں تک زیادہ معلومات نہیں تھی۔ پھر ڈیوڈ راحب نامی ایک شخص کونکن آئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی یہاں آمد کا وقت اب سے ڈیڑھ ہزار سال کے درمیان ہے لیکن ان کی کوئی مستند تاریخ نہیں ملتی ہے۔

ڈاکٹر ایرین جوڈا نے ایک کتاب 'ایوولیوشن آف دی بنی اسرائیل اینڈ دیئر سیناگاگ ان دی کونکن' میں ڈیوڈ راہب کے بارے میں لکھا ہے۔ ڈیوڈ راحب نے دیکھا کہ ان لوگوں کا کھانا پینا اور رہن سہن یہودیوں کی طرح ہے۔

انھوں نے شاپورکر، جھیراڈکر اور راج پورکر خاندانوں میں سے تین افراد کا انتخاب کیا اور ان کی تربیت کی۔ ان تینوں کے لیے انھوں نے 'قاضی' کا لفظ استعمال کیا۔ کچھ عرصہ بعد یہودی برادری نے تعلیم کے بعد صحیفے پڑھنا بھی شروع کردیا۔

تعلیم اور نوکریاں

جس وقت ممبئی ترقی کررہا تھا اس وقت مغربی انڈیا میں انگریزی تعلیم کی اہمیت کا احساس بڑھ رہا تھا اس کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جارہا تھا۔ جن برادریوں نے پہلے انگریزی زبان سیکھی تھی انھیں پہلے نوکریاں ملیں جس سے ان کی معاشی حالت بہتر ہوئی۔

پارسی، بنی اسرائیل اور گور سارسوت برہمنوں نے 18 ویں صدی سے پہلے تجارت اور دیگر کاموں کے لیے ٹھیکے حاصل کیے تھے۔ بہت سے لوگوں کو ایسٹ انڈیا کمپنی میں پولیس اور دیگر محکموں میں کام ملا۔

'ممبئی چہ ورنن' یعنی ذکر ممبئی نام کی کتاب لکھنے والے گووند نارائن ماڈگاؤںکر کے مطابق بنی اسرائیل سنہ 1750 میں کونکن سے ممبئی آئے تھے۔ یہاں آکر انھوں نے کمانڈنٹ، میجر صوبیدار، نائک اور حوالدار جیسے عہدے حاصل کیے۔

کتاب 'ممبئی چے ورنن' میں انھوں نے لکھا ہے کہ 'بنی اسرائیل انگریزی سیکھتے تھے اور ٹیچر بنتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنی اسرائیلی برادری میں تعلیم بہت تیزی سے پھیلنے لگی تھی۔

اس کے بعد وہ پورے انڈیا میں آباد ہونے لگے، لیکن یہودیوں کے مخصوص نئے ملک اسرائیل کے قیام کے بعد زیادہ تر لوگ وہاں منتقل ہوگئے۔

'مسجد بندر' کی مسجد کہاں سے آئی؟

علی باغ کی طرح ممبئی میں بھی 'مسجد بندر' سٹیشن کے بارے میں ایک دلچسپ کہانی ہے۔ جس مسجد سے سٹیشن کا نام آیا وہ مسلمانوں کی عبادت کی جگہ نہیں ہے بلکہ یہ یہودیوں کی عبادت گاہ سیناگاگ ہے۔ اور اس عبادت خانے کی تعمیر میں تھوڑا سا حصہ جنوبی ہند کے معروف سلطان ٹیپو سلطان کا تھا۔

انڈیا میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین رشتہ کچھ اسی طرح کا رہا ہے۔ ممبئی میں 'گیٹ آف مرسی' (رحمت کا دروازہ) 'شاہراہ میم' کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن مقامی لوگ اسے 'جونی مشید' (پرانی مسجد) کے نام سے جانتے ہیں۔

اس سیناگاگ کی تعمیر سموئیل آئیزیکیل دیویکر (ساماجی ہاساجی دیویکر) نے کی تھی۔ سموئیل اور اس کے بھائی انگریزی فوج کی طرف سے ٹیپو کے خلاف لڑتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔ ٹیپو کی عدالت میں ان دونوں کی سماعت کے بعد سزا ہوئی تھی لیکن ٹیپو کی والدہ کو لگا کہ ان کے نام مختلف ہیں اس لیے انھوں نے ٹیپو سے دونوں بھائیوں کو چھوڑدینے کے لیے کہا۔

سموئیل نے منت مانی تھی کہ اگر وہ صحیح سلامت بمبئی واپس آجاتے ہیں تو وہ وہاں سیناگاگ بنوائیں گے اور انھوں نے اپنی یہ منت پوری کی۔ اس طرح ممبئی کے یہودیوں کو اپنا پہلا عبادت خانہ مل گیا۔

مورخ الیاز دانڈیکر نے 'مدر انڈیا، فادر اسرائیل' نامی کتاب میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ دیویکر برادران نے ٹیپو سلطان کی خفیہ معلومات انگریزوں کو دیں اور اگلی جنگ میں انگریزوں نے ان سے فائدہ اٹھایا۔

شاید اسی وجہ سے ٹیپو کی والدہ فاطمہ فخر النسا نے دیویکر خاندان کو سات نسلوں تک غم میں مبتلا رہنے کی بددعا دی۔ دانڈیکر نے اپنی کتاب میں اس واقعے کا بھی تذکرہ کیا ہے۔

بنی اسرائیلی اپنی عبادت کو نماز، مدفن کو قبرستان، روزہ اور گروہ کے لیے جماعت جیسے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو اور فارسی زبان کے یہ الفاظ انڈین مسلمانوں کے توسط سے بنی اسرائیلیوں تک پہنچے۔

بنی اسرائیلی برطانوی سلطنت میں نوکریوں اور تجارت کی وجہ سے برطانوی سلطنت میں مقیم اور آباد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ مراٹھی یہودیوں کی قبروں پر کتبے عبرانی اور مراٹھی (دیواناگری) دونوں رسم الخط میں لکھے ہوئے ملتے ہیں۔

آج اگرچہ پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن مراٹھی یہودی وہاں بھی پہنچ گئے تھے اور ان کے مدفن بھی وہاں ہیں۔ اسی طرح کی چیزیں ملک یمن میں بھی ملتی ہیں۔ یمن کے شہر عدن میں موجود ایک یہودی قبرستان میں عبرانی زبان کے ساتھ مراٹھی دیوناگر رسم خط میں کتبے دیکھے جا سکتے ہیں۔

انڈیا کی تاریخ میں مسلمانوں اور یہودیوں کا بے مثال اتحاد درج ہے اور اس تاریخ کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔