کیا کشیدگی کے دوران انڈیا نے چین سے ہی کروڑوں ڈالر کا قرض لیا؟

،تصویر کا ذریعہHELDON COOPER/SOPA IMAGES/LIGHTROCKET V
- مصنف, محمد شاہد
- عہدہ, فیکٹ چیل ٹیم بی بی سی ہندی
انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی عروج پر ہے۔ اسی درمیان بدھ کے روز انڈیا کی پارلیمان میں ایک تحریری بیان کے بعد وفاق کی مودی حکومت پر حزب اختلاف نے شدید تنقید شروع کر دی ہے۔
کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ ایک جانب لداخ میں سرحد پر چین کے ساتھ جھڑپ میں انڈین فوجیوں کی ہلاکتیں ہو رہی تھیں، تو دوسری جانب وفاقی حکومت 'چینی بینک' سے قرض لے رہی تھے۔
اس بحث کا آغاز انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش کے وزیر خزانہ انوراگ ٹھاکُر کے ایک تحریری بیان کے بعد ہوا۔
بی جے پی کے دو اراکین پارلیمان نے سوال کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لیے وفاق نے فنڈز کا استعمال کیسے کیا اور اسے ریاستوں تک کیسے بھیجا۔
اس سوال پر انوراگ ٹھاکر کی جانب سے پارلیمان کو دی جانے والی معلومات میں یہ بات سامنے آئی کہ وفاقی حکومت نے چین میں واقع ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک یعنی ’اے آئی آئی بی‘ سے کورونا وائرس کے آغاز سے اب تک دو بار قرض لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ 'کووڈ 19 کے بحران سے نمٹنے کے لیے انڈین حکومت نے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک سے قرض کے دو معاہدے کیے۔ پہلا قرض 8 مئی 2020 کو 50 کروڑ ڈالر کا لیا گیا۔ یہ قرض انڈیا میں کووڈ 19 سے نمٹنے کے ایمرجینسی حل اور صحت کے منصوبے کے لیے لیا گیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد وبا کے سبب پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنا اور کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر صحت کے شعبے کو مضبوط کرنا تھا۔'
اس کے بعد انڈیا نے قرض کا دوسرا معاہدہ 19 جون کو کیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ لداخ کی وادی گلوان میں 15 جون کو انڈین اور چینی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں 20 فوجی ہلاگ ہو گئے تھے۔
انوراگ نے پارلیمان میں بتایا '19 جون 2020 کو دوسرے قرض کا معاہدہ ہوا جو 75 کروڑ ڈالر کا تھا، اس کا مقصد کووڈ 19 سے وابستہ سماجی تحفظ کے پروگرام میں تیزی لانا تھا۔ وزیر اعظم کے نام سے غریبوں کی نشونما کے منصوبے کے تحت چلائے جانے والے اس پروگرام میں کئی اقدامات کیے گئے، جس سے ریاستوں اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں تک فائدہ پہنچایا گیا۔'
اس کا مطلب یہ ہوا کہ انڈین حکومت نے 125 کروڑ ڈالر کے قرض کا معاہدہ کیا جو انڈین روپے میں 9200 کروڑ سے زیادہ رقم بنتی ہے۔ اس میں سے انڈیا کو ابھی تک 100 کروڑ ڈالر ملے ہیں، یعنی انڈیا کو اب تک 7300 کروڑ روپے ہی حاصل ہو پائے ہیں۔
ان اعداد و شمار کے سامنے آنے کے بعد کانگریس پارٹی کے راہنما راہول گاندھی نے ٹویٹ کیا 'مودی حکومت انڈین فوج کے ساتھ ہے یا چین کے ساتھ؟'
اس کے بعد کانگریس کے متعدد رہنماوٴں نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرنی شروع کر دی۔ ایک رہنما نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ 'کیا پی ایم مودی پیسوں کے بدلے ہماری زمین بیچ رہے ہیں؟'
اس کے بعد ٹوئٹر پر بدھ کے روز ہیش ٹیگ AIIB ٹرینڈ کرنے لگا جس کے ساتھ کوئی مودی حکومت پر تنقید کر رہا تھا تو کوئی بتانے کی کوشش کر رہا تھا کہ یہ ارتقاء سے متعلق بینک ہے جس کا چین کے کمرشل بینک سے کوئی تعلق نہیں۔

،تصویر کا ذریعہXIAO LU CHU/GETTY IMAGES
اے آئی آئی بی کیا ہے؟
ایسے اداروں کو انگریزی میں ملٹی لیٹرل ڈیولپمنٹ بینک یا ایم ڈی بی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ بینک ہوتے ہیں جو دو یا اس سے زیادہ ممالک کے اتحاد سے بنے بین الاقوامی معاشی ادارے ہوتے ہیں۔
یہ ادارہ مختلف اعلانیوں پر دستخت کے بعد وجود میں آتا ہے۔ اس کا مقصد غریب ممالک میں معاشی نشونما کو رفتار دینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ممبران ممالک کو سماجی اور معاشی ارتقا کے لیے قرض یا امداد بھی دیتا ہے۔
ایم ڈی بھی کئی طرح کے ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ورلڈ بینک، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، انٹر امریکن ڈیولپمنٹ بینک بھی ایم ڈی بی کی ہی قسمیں ہیں۔
اے آئی آئی بی نے جنوری 2016 میں کام کرنا شروع کیا تھا اور اس کا صدر دفتر چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہے۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے 2013 میں بالی میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکانومک کارپوریشن اجلاس میں اس بینک کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد 57 ممالک نے ساتھ مل کر اس کی بنیاد رکھی۔
متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بینک ان بین الاقوامی قرضداروں کے لیے ایک چیلنج ہوگا جن پر امریکی خارجہ پالیسی اپنانے کا الزام لگتا ہے۔ جاپان بھی اے آئی آئی بی کا ممبر نہیں ہے کیوں کہ یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک پر جاپان کا اثر و رسوخ ہے۔
انڈیا اس بینک کے بانی ممالک میں سے ایک ہے اور آج اس بینک کے 103 ممالک ممبر ہیں۔ ان میں ایشیا کے علاوہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت والا ملک جرمنی بھی شامل ہے۔ اس بینک میں سب سے زیادہ چین کی حصہ داری ہے، اس کے بعد انڈیا کا نمبر ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس بینک پر چین کا اثر و رسوخ
اے آئی آئی بی اپنی ویب سائٹ پر واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ ایشیائی ممالک اور اس کے علاوہ اربوں لوگوں کے بہتر مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
اس بینک کا کام کاج بورڈ آف گورنرز کے ذمہ ہے، جس میں ہر ملک سے ایک گورنر کے علاوہ ایک اضافی گورنر بھی ہوتا ہے۔ انڈیا سے گورنر وزیر خزانہ نرملا سیتارمن ہیں جبکہ آپشنل گورنر انڈیا میں معاشی معاملات کے سیکریٹری ترُن بجاج ہیں۔
بینک سٹاف کا کام کاج بینک کا سربراہ دیکھتا ہے جس کا تعین انتخابی عمل کے ذریعے پانچ برس کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس وقت اس کے سربراہ جن لیکو ہیں جو دوسری بار ادارے کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔
اے آئی آئی بی پر چین کے اثر و رسوخ کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں اور اس کی وجہ ہے اس کے پاس سب سے زیادہ ووٹنگ شیئر ہونا۔
چین کے پاس سب سے زیادہ 300055 ووٹ کا حق ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر انڈیا کے پاس 85924 ووٹز کا حق ہے۔ انڈیا اے آئی آئی بی سے قرض لینے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔
اے آئی آئی بی نے کووڈ 19 کی وبا کے بعد متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے 5 ارب ڈالر کا ایک ریلیف فنڈ بنایا تھا۔ جس کے تحت اس بینک نے سب سے زیادہ انڈیا کی مدد کی ہے۔ اسی فنڈ کے تحت انڈیا کو 50 اور 75 کروڑ ڈالر قرض دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا متعدد منصوبوں کے لیے اے آئی آئی بی سے پہلے ہی تین ارب ڈالر قرض لے چکا ہے۔
وہیں، کووڈ19 کے لیے اے آئی آئی بی نے 75 کروڑ ڈالر فلیپائنز اور انڈونیشیا، 50 کروڑ ڈالر پاکستان اور 25 کروڑ دالر بنگلہ دیش کو بھی دیے ہیں۔
مزید پڑھیے
اے آئی آئی بی میں چین کا پیسہ ہے؟
اے آئی آئی بی میں چین کے پیسے کے بارے میں معاشی امور کے ماہر پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا کہتے ہیں کہ یہ ایک ایم ڈی بی ہے جس میں صرف چین سے پیسہ نہیں آتا ہے بلکہ جرمنی اور روس جیسے کئی ممالک کا پیسہ شامل ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ پیسہ چین سے آیا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں دو رائے نہیں کہ چین کی اس میں سب سے بڑی حصہ داری ہے۔
جبکہ معاشی امور کے ماہر ڈاکر ارون کمار کہتے ہیں کہ اس بینک کی بنیادی تجویز چین نے دی تھی اس لیے چین کا اس پر اثر و رسوخ ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ اور چین کا اس بات پر بھی زور چلےگا کہ کہاں سرمایہ کاری ہو اور کہاں نہیں۔
’چین نے ایشین ڈیولپمنٹ بینک کے جواب میں اس بینک کو قائم کیا تھا کیوں کہ اے ڈی بی جاپان اور امریکہ کے زیر اثر ہے۔ اس لیے چین نے اپنے اثر و رسوخ والا ایک بینک قائم کیا۔ چین کے پاس اچھا خاصا فارن کرنسی کا ذخیرہ ہے اور وہ متعدد ممالک میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے تحت وہ سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس بینک کے وجود میں آ جانے سے وہ اپنی پسند کی جگہ پیسہ لگا سکتا ہے۔‘
ون بیلٹ ون روڈ منصوبے میں انڈیا شامل نہیں ہے۔ جبکہ وہ اے آئی آئی بی کے بانی ممالک میں سے ایک ہے۔

،تصویر کا ذریعہILLUSTRATION BY AVISHEK DAS/SOPA IMAGES
قرض کی ضرورت کیوں پڑی؟
پروفیسر ارون کمار کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور اے ڈی بی جیسے ادارے شرائط کی بنیاد پر قرض دیتے ہیں۔ ایسا ہی اے آئی آئی بی نے بھی کیا ہوگا۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ انڈیا کو قرض لینے کی ضرورت کیوں پڑی؟
وہ کہتے ہیں 'انڈیا کے پاس 500 ارب ڈالر کا فارن کرنسی ہے اور یہ بینک بہت زیادہ قرض نہیں دے پاتے ہیں۔ تو ہم ان سے قرض کیوں لے رہے ہیں؟ ہم لوگوں کو اپنا پیسا خود خرچ کر کے اپنی پالیسی خود چلانی چاہیے اور آزاد رہنا چاہیے کیوں کہ یہ ادارے آپ کی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔'
انڈیا کا قومی خزانے کا خسارہ 23 فیصد سے نیچے چلا گیا ہے۔ ایسے میں انڈیا کو قرض نہیں لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا 'اگر انڈیا نے کووڈ 19 کے سبب پیدا ہونے والی مشکلات کے لیے قرض لیا ہے تو ہمارے پاس غریبوں کو دینے کے لیے پیسے تو پہلے سے ہی موجود ہیں۔ 90 ملین ٹن کا اناج کا ذخیرہ ہے۔ ورلڈ بینک، اے آئی آئی بی اور اے ڈی بی سے پیسے لینے کی کیا ضرورت ہے، یہ بات واضح نہیں ہے۔'
انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی کے بعد انڈیا میں چینی اشیاء پر پابندی کا مطالبہ ہوا۔ اس کے بعد جولائی میں انڈیا نے 59 چینی موبائل ایپز پر پابندی عائد کر دی اور پھر ستمبر میں 118 چینی موبائل ایپز بند کر دیے گئے۔
اس کے علاوہ انڈین حکومت نے احکامات جاری کیے تھے کہ ہمسائے ممالک کی کمپنیاں ریاستوں میں ٹینڈر لینے کے لیے پہلے وفاقی وزارت داخلہ سے منظوری لیں۔ خیال ہے کہ چین کے ساتھ تجارت میں کنٹرول کے لیے یہ اقدامات کیے گئے۔
اے آئی آئی بی کے قرض دینے کے بعد چینی حکومت کے زیر اثر اخبار گلوبل ٹائمز نے لکھا تھا کہ یہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔ یہ اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ سرحد پر کشیدگی کا دونوں ممالک کے معاشی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
گلوبل ٹائمز نے آگے لکھا ہے کہ چین کے انڈیا کے لیے اچھے ارادے ہیں اور وہ اس کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہتا ہے۔
گلوبل ٹائمز کے ان دعوؤں سے یہ لگتا ہے کہ اے آئی آئی بی کو چین اپنی جاگیر سمجھتا ہے۔ حالانکہ فیکٹ چیک کی تفتیش میں بی بی سی نے پایا ہے کہ اے آئی آئی بی پر چین کا زیادہ اثر ضرورت ہے لیکن وہ پوری طرح ان کی مٹھی میں ہو، ایسا بھی نہیں ہے۔ نا ہی بینک کا پیسہ صرف چین کا پیسہ ہے۔ اے آئی آئی بی ایک ملٹی لیٹرل ڈیولپمنٹ بینک ہے جس کا مقصد ایشیا میں سماجی اور معاشی حالات کو بہتر کرنے میں مدد کرنا ہے۔










