آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین نے دس روز بعد پانچ انڈین نوجوانوں کو انڈیا کے حوالے کر دیا
چینی فوج نے تبت سے ملحقہ انڈین ریاست اروناچل پردیش سے دس روز قبل لاپتہ ہونے والے انڈین شہریوں کو انڈیا کے فوجی حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
انڈین فوج کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان پانچ افراد کو ضابطے کی کارروائی کے بعد سنیچر کے روز کیِبیِتھو کے مقام پر انڈین فوج کے سپرد کیا گیا۔
اروناچل سے حکمراں جماعت بی جے پی کے رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر کرن ریجیجو نے بھی اس افراد کی حوالگی کی تصدیق کی ہے۔
انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا: 'اروناچل پردیش کے تمام پانچ نوجوان، جنھیں پی ایل اے (چینی فوج) نے کیبیتھو کے مقام پر ہماری فوج کے حوالے کیا، بالکل ٹھیک ہیں۔ البتہ ان مقررہ وقت کے لیے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔'
انڈیا کا موقف ہے کہ ریاست اروناچل پردیش سے تعلق رکھنے والے یہ افراد ادویاتی جڑی بوٹیوں کی تلاش میں راستہ بھٹک گئے تھے۔
بعض انڈین حلقوں نے چین پر انھیں اغوا کرنے کا الزام لگایا تھا۔
تاہم سرکاری سرپرستی میں شائع ہونے والے چینی روزنامے، گلوبل ٹائمز، نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دراصل یہ افراد شکاریوں کے بھیس میں انڈین جاسوس ہیں۔
روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے فوج کے ایک ترجمان لیفٹنٹ کرنل ہرش وردھن پانڈے کے حوالے سے لکھا ہے کہ'ان افراد کو ان کے اہل خانہ کے حوالے کیے جانے سے پہلے چودہ روز تک قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی میڈیا کے مطابق چینی حکام نے ابتدائی طور پر ان افراد کی لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے چین کی جانب موجودگی کی تردید کی تھی۔
چینی فوج، پیپلز لبریشن آرمی، سے ہاٹ لائن پر رابطے کے بعد چینی فوجی حکام نے منگل کے روز تصدیق کی کہ یہ نوجوان ان کی تحویل میں ہیں اور بالکل ٹھیک ہیں۔
اس برس جون میں اس متنازع سرحد پر انڈین اور چینی فوجیوں میں تصادم میں کم سے کم 20 انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ خیال ہے کہ چینی فوج کا بھی نقصان ہوا تھا تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے دونوں جانب فوجوں کا زبردست اجتماع ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں۔
تاہم جمعرات کو دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے درمیان ماسکو میں ملاقات کے دوران سرحد پر کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ان پانچوں افراد کا تعلق تگین قبیلے سے ہے اور یہ انڈین آرمی کے لیے پورٹر کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ 2 ستمبر کو لاپتہ ہوگئے تھے۔
انڈین فوج کے مطابق اس برس اب تک اروناچل پردیش میں انڈو-چائنا سرحد کے قریب نوجوانوں کے راستہ بھٹک کر دوسری طرف نکل جانے کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔