آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان جوڑا جس کی شادی پر بم پھٹا: عروسی جوڑے میں خون کے دھبوں سے لے کر لوگوں کے چبھتے طعنوں تک
- مصنف, سکندر کرمانی
- عہدہ, بی بی سی نیوز
یہ ان کی زندگی کا خوشگوار دن ہونا چاہیے تھا لیکن ان کے لیے یہ بدترین دن ثابت ہوا۔
گذشتہ سال افغانستان کے دارالحکومت کابل میں میر واعظ اور ریحانہ کی شادی کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ یعنی آئی ایس کے خودکش بمبار نے نشانہ بنایا تھا، جس میں ان کے 90 سے زائد مہمان ہلاک ہوگئے تھے۔ اس جوڑے نے اپنے نزدیکی رشتے داروں اور دوستوں کو کھو دیا، اتنا ہی نہیں اس حملے نے ان کی ذہنی صحت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اس ہفتے حملے کی برسی منائی جارہی ہے اوراٹھارہ سالہ ریحانہ نے پہلی بار اس حملے کے بارے میں بات کی ہے۔
ریحانہ نے بی بی سی کو بتایا ’ہر رات مجھے ڈراؤنےخواب آتے ہیں۔ میں روتی ہوں اور سو نہیں سکتی۔‘
یہ بھی پڑھیئے
لوگوں کی بھیڑ کے درمیان انھیں گھبراہٹ ہوتی ہے اس لیے وہ کار سے سفر کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا ’جب بھی میں گولیوں کی آواز یا دھماکے سنتی ہوں تو اس دن کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ جیسے دوبارہ سے کچھ ہو جائے گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برسی کے موقع پر مرنے والوں میں سے کچھ کے لواحقین نے شادی ہال کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا تھا جہاں یہ حملہ ہوا تاکہ حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا جائے تاہم میر واعظ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ دھماکے کے بارے میں سوچ کر ہی ان کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شادی سے پہلے ہم بہت خوش تھے لیکن اچانک جیسے کسی نے آسمان سے زمین پر پٹک دیا ہو، ہماری ساری خوشیاں غارت ہو گئیں۔
اس جوڑے کی شادی کو اس لیے نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ ان کا تعلق افغانستان کی شیعہ اقلیت سے ہیں جسے دولتِ اسلامیہ ’کافر‘ خیال کرتی ہے۔ آئی ایس کے عسکریت پسندوں نے حالیہ برسوں میں شیعہ برادری پر کئی بار حملے کیے ہیں۔
ریحانہ اور میر واعظ کے لیے حملے کا صدمہ غیر متوقع طور پر اس وقت مزید بڑھ گیا جب کچھ رشتہ داروں اور جاننے والوں نے انھیں اس حملے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔
میر واعظ نے بتایا کہ ’ایک دن میں بازار میں خریداری کر رہا تھا۔ وہاں ایک ایسی عورت سے ملاقات ہوئی جو میری شادی میں اپنے ایک رشتہ دار سے محروم ہوگئی تھی۔ اس نے مجھے قاتل کہہ کر پکارا۔‘
انھوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کے کچھ خاندانوں نے انھیں اور ان کی بیوی کو اپنا 'دشمن' سمجھنا شروع کر دیا۔ میر واعظ کو جو کہ ایک درزی ہیں اس طرح کی زیادتی کی وجہ سے اپنی دکان بند کرنی پڑی۔
ریحانہ کو بھی نفرت کا نشانہ بنایا گیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ اگر ان لوگوں نے شادی نہ کی ہوتی تو یہ حملہ نہیں ہوتا۔ ریحانہ کا کہنا تھا ’ہر کسی نے مجھے قصور وار ٹھہرایا لیکن میں کچھ نہیں کہتی خاموش رہتی ہوں۔‘
نام نہاد دولت اسلامیہ جس نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی افغانستان میں طالبان سے کہیں کم طاقتور ہے لیکن اس گروپ نے درجنوں ہلاکت خیز حملے کیے ہیں۔ مئی میں اس تنظیم نے کابل میں زچگی یونٹ پر ایک خوفناک حملہ کیا تھا جہاں عسکریت پسندوں نے 24 خواتین ، بچوں اور نوزائیدہ بچوں کو ہلاک کیا تھا۔ اس ماہ کے اوائل میں آئی ایس نے مشرقی شہر جلال آباد کی ایک جیل کا محاصرہ کر کے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کرایا تھا۔
ملک میں جاری شورش ریحانہ اور میر واعظ کے زخموں کو بار بار ہرا کر دیتی ہے۔ میر واعظ نے بتایا کہ ’شادی کے کچھ ہفتوں بعد کابل کے ایک اور حصے میں دھماکہ ہوا اور میری اہلیہ اتنی خوفزہ ہوئیں کہ وہ بیہوش ہو گئیں۔‘
کابل میں مقیم ایک خیراتی ادارے ’پیس آف مائنڈ افغانستان‘ کی بدولت ریحانہ کو اب نفسیاتی مدد مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ تھراپی سے انھیں حملے کی تکلیف اور اس کے لیے انھیں ذمہ دار ٹھہرائے جانے کی ذہنی الجھن کو دور کرنے میں مدد مل رہی ہے۔ انھوں نے کہا ’میرے لیے اچھا ہے کہ کم سے کم اب میں اپنی پریشانیوں کو شیئر کر سکتی ہوں۔‘
ان کی ماہر نفسیات لیلا شوارٹز نے اس جوڑے کے ساتھ بی بی سی سے بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ریحانہ کی حالت آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے ’لیکن پھر ایک دھماکہ ہوتا ہے اور وہ پریشان ہوجاتی ہیں۔‘
افغانستان میں ہر سال ہزاروں افراد کے ہلاک یا زخمی ہونے کے باوجود بہت کم کو نفسیاتی ماہرین کی مدد ملتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی مشکل ہے وہاں دماغی صحت کو اکثر ترجیح کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔ ریحانہ اور میر واعظ جو پرائیویٹ تھراپی کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے انھوں نے خیراتی ادارے سے فائدہ اٹھایا ہے۔
ریحانہ نے بتایا کہ ماہرِ نفسیات سے بات کرنے اور اپنی پریشانیوں کو بانٹنے سے انھیں بے حد مدد ملی ہے۔ میر واعظ نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کو ذہنی صحت پر کام کرنے والے بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے۔‘ انکا کہنا تھا تقریباً ہر افغان کو کسی نہ کسی تکلیف کا سامنا رہا ہے یا پھر اس نے کسی اپنے کو کھویا ہے۔
توقع ہے کہ آئندہ ہفتے افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات شروع ہوں گے لیکن لڑائی جاری ہے۔ آئی ایس مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔ ریحانہ کا کہنا کہ اب وہ افغانستان میں خود کو محفوظ تصور نہیں کرتیں۔
محترمہ شوارٹز اس جوڑے کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے فنڈز جمع کر رہی ہیں۔تاکہ وہ اپنی شادی کے بعد ہونے والے سانحے اور اس کے الزام اور خودکشی دھماکوں سے دور کچھ وقت گذار سکیں۔
میر واعظ کو بھی کونسلِنگ سے مدد ملی ہے لیکن ریحانہ ہی کی طرح وہ بھی ملک میں امن کے امکانات کے بارے میں مایوسی کا شکار ہیں۔
یہ بھی دیکھیے