انڈیا: پیغمبر اسلام کے بارے میں ’توہین آمیز پوسٹ‘ اور پولیس کی کارروائی پر پاکستان کا احتجاج

پاکستان کی وزارت خارجہ نے انڈیا میں پیغمبر اسلام کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز پوسٹ پر احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور انڈین حکام سے احتجاج کیا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو انڈیا کے جنوبی شہر بنگلور میں ایک مبینہ توہین آمیز پوسٹ کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ سے کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے تھے اور تقریباً 110 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق انڈیا کے شہر کرناٹک میں ہندو اکثریت کے ایک انتہا پسند شخص کی طرف سے مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کے بارے میں توہیں آمیز پیغام سوشل میڈیا پر جاری کرنے کے معاملے پر اسلام آباد میں انڈیا کے سفارت خانے سے سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

یہ واقعہ کیسے پیش آیا؟

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک مقامی سیاستدان کے گھر کے سامنے ہجوم اکٹھا ہوگیا۔ سیاستدان کے ایک رشتہ دار پر پیغمبرِ اسلام کے خلاف 'جارحانہ' پوسٹ لکھنے کا الزام تھا۔

پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتعل بھیڑ نے پولیس پر خلاف پتھر برسایے اور ان کی گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

بنگلور کے پولیس کمشنر کمل پنت کے مطابق ڈی جی ہللی اور کے جی ہللی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ پورے شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مشتعل ہجوم نے دو پولیس سٹیشن اور ایک قانون ساز کے گھر پر حملہ بھی کیا جس کے بعد پولیس کو گولی چلانی پڑی۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی نے بنگلور کے جوائنٹ پولیس کمشنر (کرائم) سندیپ پاٹل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس معاملے میں اب تک 110 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پولیس کمشنر کمل پنت نے بتایا: 'گذشتہ رات پولیس فائرنگ میں زخمی ہونے والے تیسرے شخص کی موت ہو گئی ہے۔ ساڑھے بارہ بجے شب سے یہاں کی صورتحال تقریباً قابو میں ہے۔'

اطلاعات کے مطابق ایک ایم ایل اے کے رشتہ دار نے مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر ایک قابل اعتراض پوسٹ شائع کی تھی جس کے خلاف منگل کی شام لوگوں کی بڑی تعداد پولیس اسٹیشن پہنچی اور پوسٹ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم کا مطالبہ تھا کہ ایف آئی آر درج کی جائے اور ایم ایل اے کے رشتہ دار کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے کیونکہ اس نے ان کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم بے قابو ہوگیا اور پولیس اسٹیشن کے باہر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا جبکہ ایم ایل اے کے گھر باہر جمع ہونے والے ہجوم نے بھی وہاں کھڑی کچھ گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

پولیس کمشنر کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے والے شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

پولیس کمشنر نے کہا: 'پولیس اہلکاروں پر (ہجوم نے) بڑے پتھروں سے حملہ کیا۔ پھر اچانک بجلی چلی گئی اور ہمیں ہجوم سے نمٹنے میں کچھ وقت لگا۔ چونکہ تھانے پر چاروں طرف سے حملہ کیا جارہا تھا اس لیے پولیس کو گولی چلانے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں تھا۔'

کرناٹک کے وزیر داخلہ بسوراج بومئی نے بھی پولیس فائرنگ میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

مذکورہ ایم ایل اے کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں مسلمانوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی گئی ہے اور انھیں یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں اور اس معاملے میں کارروائی کی جائے گی۔

ایم ایل اے نے ویڈیو میں کہا: 'جو بھی معاملہ ہو ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو بھی اس کے ذمہ دار ہیں انھیں صحیح سزا ملے۔ میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔ میری گذارش ہے کہ آپ امن قائم رکھیں۔'

کرناٹک کے وزیر داخلہ نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہا گیا کہ 'آتشزدگی اور تشدد قانون کے خلاف ہیں۔ جو بھی معاملہ ہے اسے قانون کے دائرے میں ہی حل کرنا ہوگا۔ میں نے پولیس کو امن کی بحالی کا حکم دیا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنے ہی بڑے شخص ہوں، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ سخت کارروائی کی جائے۔ جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اسے سخت سزا دی جائے گی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔'

کرناٹک کے امیر شریعت مولانا صغیر احمد نے بھی مسلمانوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے کیونکہ پولیس نے وعدہ کیا ہے کہ جس نے بھی یہ قابل اعتراض حرکت کی ہے اسے سزا دی جائے گی۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، حکومت کارروائی کرے گی۔

’مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں‘

پاکستان کی طرف سے انڈیا کو بھیجے گئے اس مذمتی بیان میں کہا گیا کہ ’اسلام مخالف اس اشتعال انگیز پیغام سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ اس سے انڈیا میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف جذبات اور اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے تشویشناک رحجان کی عکاسی ہوتی ہے‘۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈیا میں پولیس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر کیے گئے جرم کو روکنے کے بجائے احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر قوت کا استعمال کرتے ہوئے تین افراد کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔‘

پاکستان کا کہنا ہے کہ 'مزید ناانصافی کرتے ہوئے علاقے میں مسلمانوں کے خلاف پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور املاک کو نقصان پہنچانے پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔'حکومتِ پاکستان کے احتجاج میں انڈیا میں اقلیتوں کے خلاف جرائم پر کہا گیا کہ مذہبی منافرت کی بنیادوں پر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم ’ہندتوا کے آر ایس ایس اور بی جے پی کے مشترکہ انتہاہ پسندانہ نظریات کا نتیجہ ہے‘۔

اس واقع کو اشتعال انگیزی اور پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں میں بے چینی اور تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے انڈیا کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ضمن میں مکمل تحقیقات کرائی جائیں اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کی حکومت اقلییوں اور خاص طور پر مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مناسب اقدامات کرے اور مذہبی منافرت پر مبنی بیانات اور جرائم کو روکنے کے لیے کارروائی کرے۔

اس بیان کے آخر میں بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر متعقلہ تنظیموں اور اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ انڈیا میں اسلاموفوبیا کی بلند ہوتی ہوئی لہر کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور انڈیا میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔