آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایئر انڈیا کا مسافر طیارہ کالی کٹ کے ہوائی اڈے پر حادثے کا شکار، کم از کم 18 ہلاکتیں
انڈیا کی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کا ایک مسافر طیارہ ملک کی جنوبی ریاست کیرالہ کے شہر کوزیکوڈے یعنی کالی کٹ کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گیا ہے جس میں حکام نے دو پائلٹ سمیت کم از کم 18 افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
یہ حادثہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بج کر 41 منٹ پر پیش آیا ہے اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے پر دس بچوں سمیت 184 مسافر اور عملے کے چھ ارکان سوار تھے۔
طیارہ حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ملاپورم کے ضلعی مجسٹریٹ کے گوپالکرشنن نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز ایک اور زخمی شخص کی موت ہوگئی ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے۔
ضلعی مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔
بی بی سی ہندی کے مطابق ملاپورم کے آئی جی پی اشوک یادو نے بتایا کہ '160 کے قریب زخمی مسافروں کو مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ 20 سے زیادہ ایسے مسافر ہیں جو شدید زخمی ہیں۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
حادثے کا شکار ہونے والی ایئر انڈیا کی ایکسپریس پرواز آئی ایکس 1344 جمعے کی شام دبئی سے کالی کٹ کے کوئیکوڈ ہوائی اڈے پہنچی تھی اور ایئر انڈیا کے ترجمان کے مطابق خراب موسم میں اترتے ہوئے طیارہ رن وے سے پھسل کر نیچے جا گرا۔
انڈین ذرائع ابلاغ پر دکھائے جانے والے مناظر میں بوئنگ 737 طیارے کو ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی نے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے خبر دی ہے کہ طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے پر رک نہیں سکا اور وادی میں گر کر دو ٹکڑے ہو گیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس وقت طیارہ ہوائی اڈے پر اترا تو حدِ نگاہ بہت کم تھی۔ خیال رہے کہ کوئیکوڈ کے ہوائی اڈے کا رن وے ایک پہاڑی پر واقع ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کے باوجود طیارے میں آگ نہیں لگی اور جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس پرواز میں بیشتر مسافر ایسے تھے جن کی کورونا وبا کے باعث دبئی میں ملازمتیں ختم ہو چکی تھیں اور وہ اپنے وطن واپس لوٹ رہے تھے جبکہ چند ایسے مسافر بھی تھے جو چھٹیاں منانے دبئی گئے تھے لیکب وبا کے باعث وہاں پھنس گئے تھے۔
طیارے میں سوار مسافروں میں سے 26 ملازمین اپنی ملازمت سے محروم ہوچکے تھے اور قریب 28 جن کے ویزے کی میعاد ختم ہوگئی تھی۔
اس کے علاوہ ایسے 54 کے قریب لوگ تھے جو دبئی گھومنے پھرے تھے لیکن کوڈ کی وبا کی وجہ سے وہاں پھنس گئے تھے۔ نیز 6 افراد ایسے تھے جو طبی وجوہات کی بنا پر آرہے تھے اور تین شادی کے لیے جا رہے تھے۔
ائیر انڈیا ایکسپریس نے ٹویٹ کرکے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس سے متعلق معلومات کو شیئر کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ 'مجھے امید ہے زخمی افراد جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔ میں نے صورتحال پر کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینا رائی وجے یان سے رابطہ کیا ہے اور حکام جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور متاثرین کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔'
جبکہ انڈین ریاست کیرالہ کے وزیر اعلیٰ پینارائی وجے یان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جہاز حادثے کے باعث پولیس اور آگ بجھانے کے عملے کو فوراً کاری پور کے کوئیکوڈ ہوائی اڈے پر پہنچنے کے احکامات دے دیے ہیں۔ جبکہ متعلقہ حکام کو زخمیوں کو طبی امداد اور ریسکیو فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
حادثے کے فوراً بعد انڈیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ اور حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کی جانب سے افسوس کا اظہارکیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بھی انڈیا کی ریاست کیرالہ میں ہونے والے طیارہ حادثے کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے اس حادثے میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔
انڈیا میں مون سون کے موسم کے دوران پہلے بھی طیاروں کے حادثات پیش آچکے ہیں۔ مئی 2010 میں ایک ایئر انڈیا کے طیارے کو منگلور شہر کے ایئر پورٹ پر حادثہ پیش آیا تھا جس میں 158 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ دوبارہ جولائی 2019 میں منگلور میں پیش آیا تھا جس پر تحقیقات بھی ہوئی تھیں۔