انڈین میچ میکنگ: نیٹ فلکس کا شو سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز، کسی کو لڑکی ’لچکدار‘ چاہیے تو کسی کو اپنی ’ماں جیسی‘

’انڈیا میں ارینج میرج نام کی کوئی چیز نہیں۔ ایک شادی ہوتی ہے اور دوسری لوو میرج (پسند کی شادی)۔‘

حال ہی میں سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس کے ایک شو میں کہی گئی یہ بات اور اس جیسے کئی جملوں پر سوشل میڈیا پر کافی بات ہو رہی ہے۔

کسی پوسٹ میں لوگ ایک لڑکے کی ’اپنی ماں جیسی لڑکی سے شادی کرنے‘ کی خواہش کا مذاق اڑا رہے ہیں تو کسی میں وہ ایک ماں کے اس جملے پر غور کر رہے ہیں جس میں وہ کہتی ہیں کہ ’لڑکی لچکدار ہونی چاہیے۔‘

بعض لوگ ارینج میرج سے جڑے اپنے بُرے تجربے بھی شیئر کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ ’یہ ایک خوفناک رسم ہے جس میں صرف رنگ، نسل، لمبائی، موٹاپہ، اور انفرادی خیالات جیسی باتوں کو دیکھا جاتا ہے۔‘

انڈین میچ میکنگ کیا ہے؟

سٹریمنگ سروس نیٹ فلکس پر حال ہی میں شروع ہونے والا ایک ٹی وی شو سوشل میڈیا صارفین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس شو کا نام 'انڈین میچ میکنگ' ہے اور اس میں آرینج میرج یعنی ماں باپ کی پسند سے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کے طور طریقوں کو دکھایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شو میں مرکزی کردار ایک ’رشتے کرانے والی آنٹی‘ سیما تپاریا کا ہے۔ وہ امریکہ اور انڈیا میں اپنے کلائنٹس کے لیے بہترین رشتے ڈھونڈنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ شو میں بتایا جاتا ہے کہ اس جدید دور میں بھی بعض خاندان اپنی مرضی کے جوڑے بنانے کے لیے کیسے اس رسم کو نبھاتے ہیں۔

انڈین میچ میکنگ نامی اس شو میں ایک خاتون شادی کی خواہشمند لڑکیوں اور لڑکوں کے اچھے رشتے ڈھونڈنے کے لیے خاندانوں سے ملتی ہیں، ان سے دریافت کرتی ہیں کہ انھیں اپنے شریک حیات میں کیا خوبیاں چاہییں اور پھر ان کی ملاقات کرواتی ہیں۔ اس دوران وہ ان کے ستاروں کا حال بھی جانتی ہیں تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ علم نجوم کے مطابق آیا یہ دو لوگ ایک دوسرے کے لیے ٹھیک رہیں گے۔

شو میں کئی ایسے کئی واقعے پیش آتے ہیں جن میں بظاہر بات سنجیدہ ہو رہی ہوتی ہے لیکن دیکھنے والے ہنسے بغیر نہیں رہ پاتے۔ جیسے ’ماں جیسی لڑکی‘ سے شادی کی خواہش، ’لچکدار‘ لڑکی کو کھوج اور شو میں حصہ لینے والے لڑکے اور لڑکیوں کے شادی سے متعلق خیالات۔

’تمہاری شادی نہ ہونے کی وجہ سے میرا بی پی بڑھ جاتا ہے‘

ارینج میرج یعنی خاندان کے پسند کی شادی کی رسم میں یقین رکھنے والے ماں باپ کا اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنے تجربے کی مدد سے بچوں کے لیے بہتر شریک حیات ڈھونڈ سکتے ہیں۔

وہ اس کام کے لیے رشتے کرانے والے میرج بیوروز کی خدمات لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اور اس طرح آج کے جدید دور میں واٹس ایپ کے ذریعے لڑکوں اور لڑکیوں کی تصاویر کے علاوہ ان کے خاندان سے متعلق معلومات اور کوائف کی فہرست موصول ہوجاتی ہے۔

لیکن یہ عمل طویل مدت تک بھی چل سکتا ہے کیونکہ والدین اور بچوں کے درمیان پسند ناپسند کی رسہ کشی بھی ہوسکتی ہے۔

اسی بات کی نشاندہی اس شو میں بھی ہوئی جب ایک ماں اپنے بیٹے سے کہتی ہے کہ ’تمھاری شادی نہ ہونے کی وجہ سے میرا بی پی بڑھ جاتا ہے‘

’بیٹا 150 لڑکیوں کو نہ کرچکا ہے‘

بعض صارفین نے میرج بیورو چلانے والی سیما تپاریا کے اقوال پر بھی تبصرہ کیا۔

ایک موقع پر سیما کہتی ہیں کہ ’بدقسمتی سے میری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں اگر ستارے ہی سید میں نہ ہوں۔

شو میں کچھ مائیں اس بات کا ذکر بھی کرتی ہیں کہ انھیں اپنے بیٹے سے شادی کے لیے کس قد کی لڑکی چاہیے۔ لڑکے کا قد لمبا ہونے کی وجہ سے ایک خاتون فرماتی ہیں کہ لڑکی کا قد پانچ فٹ تین انچ سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ’میرے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ لڑکی لچکدار ہو۔ مجھے معلوم ہے کہ اکشے کو ایسی لڑکی پسند آئے گی۔‘

اس پر ایک صارف نے مذاق میں کہا کہ ’ہوسکتا ہے آنٹی نے اسے جمناسٹ بنانا ہو۔‘

لیکن نیٹ فلکس کے اس شو میں برصغیر میں خاندان کی پسند کی شادی اور اس سے جڑی تلخ حقیقتوں سے بھی پردا اٹھایا ہے۔ جیسے ایک صارف لکھتی ہیں کہ کئی مرتبہ چائے پی کر مہمان چلے جاتے ہیں اور بعد میں رشتے سے منع کردیتے ہیں۔

ایک دوسری صارف نے لکھا: ’رشتہ کلچر خوفناک ہے۔ اس میں کوئی انصاف نہیں۔ زیادہ لمبی نہیں، موٹی ہے، بہت پتلی ہے، بہت آزاد خیال ہے، گھریلو نہیں وغیرہ کہہ کر لڑکیوں کے رشتے ٹھکرا دیے جاتے ہیں۔‘

شو کے ایک سین میں بھی ایک ماں کو یہ کہتے دیکھا جاسکتا ہے کہ ’ان کا بیٹا اب تک 150 لڑکیوں کو نہ کرچکا ہے۔‘