کورونا وائرس: دہلی کی صورت حال میں اس قدر جلد بہتری کیونکر ممکن ہوئی؟

کووڈ 19 جانچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران کورونا انفیکشن کے متاثرین میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

تو کیا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دہلی، جسے کچھ دن پہلے انڈیا کا 'سب سے بڑا کورونا ہاٹ سپاٹ' کہا جا رہا تھا، وہاں آنے والے دنوں میں کورونا متاثرین کا گراف فلیٹ ہو جائے گا؟

دو ہفتے قبل دہلی میں انفیکشن کی رفتار دیکھ کر ایسا لگا کہ صورتحال بے قابو ہوگئی ہے۔

دہلی میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 18 ہزار سے زیادہ کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے 17 ہزار سے زیادہ فعال متاثرین ہیں جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 97 ہزار سے زیادہ ہے۔

جون کا مہینہ دہلی کے لیے بہت برا رہا۔ ہر دن ریکارڈ تعداد میں نئے متاثرین سامنے آ رہے تھے۔ پورا ملک دہلی میں متاثرین کی بڑھتی تعداد پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

لیبارٹریاں کووڈ 19 ٹیسٹنگ کرانے والوں کے ہجوم سے بھری تھیں، سرکاری ہسپتالوں میں خوف و ہراس اور تناؤ تھا۔ نیز، دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے بیانات سے متضاد معلومات سامنے آرہی تھیں۔

لیکن جون کے آخر میں، دہلی کی ریاستی حکومت نے اپنی حکمت عملی میں کچھ تبدیلیاں لائیں۔ جیسے گھر گھر جا کر صحت کی سکریننگ اور اینٹیجن ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ کرنا۔ تاہم اینٹیجن ٹیسٹ کو آر ٹی- پی سی آر ٹیسٹ کے مقابلے میں کم قابل اعتماد سمجھا جاتا ہے۔

دہلی ہسپتال

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ڈاکٹر اور نیشنل کووڈ 19 ٹاسک فورس کے ممبر کے سری ناتھ ریڈی کا کہنا ہے کہ 'لیکن ان سب چیزوں نے اپنا اثر دکھایا ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ 'دہلی میں پہلے کی طرح ٹیسٹنگ ہو رہی ہے لیکن کورونا انفیکشن کے نئے متاثرین میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔'

رواں ہفتے روزانہ 1200 سے 1600 کے درمیان نئے مریض رپورٹ ہوئے، جو جون کے آخری ہفتے میں روزانہ کے تین ہزار کے اوسط کے نصف سے بھی کم ہیں۔

جبکہ مہاراشٹر میں جہاں انفیکشن کے سب سے زیادہ متاثرین ہیں وہاں انفیکشن کی رفتار ویسی ہی ہے۔

تمل ناڈو بھی انڈیا میں کورونا انفیکشن کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ وہاں بھی نئے کیسز سامنے آرہے ہیں، لیکن اس کی رفتار پہلے سے کم ہوئی ہے۔

لیکن ڈاکٹر ریڈی دہلی کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں: 'اس کی وضاحت فی الحال دو طریقوں سے ہو سکتی ہے۔ پہلی تو یہ کہ دہلی میں واقعی متاثرین میں کمی آرہی ہے اور صورتحال بہتر ہورہی ہے۔ دوم دہلی حکومت نے جس طرح اینٹیجن ٹیسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے یہ اس کا نتیجہ ہے۔'

لاکڈاؤن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اینٹیجن ٹیسٹ اور آر ٹی-پی سی آر کے درمیان فرق

اینٹیجن ٹیٹنگ ایک تیز رفتار عمل ہے۔ اس کے ذریعے چند منٹوں میں ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ جبکہ آر ٹی - پی سی آر ٹیسٹ کے نتیجے میں وقت لگتا ہے اور یہ تھوڑا پیچیدہ بھی ہے۔

ان دونوں کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ وہ انفیکشن کے ثبوت کے طور پر وائرس کے مختلف حصے تلاش کرتے ہیں۔ اینٹیجن ٹیسٹ وائرل پروٹینز کی تلاش کرتا ہے جن کی موجودگی انفیکشن کے ثبوت کے طور پر لی جاتی ہے۔ لیکن اس کی عدم موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخص متاثر نہیں ہے۔

دوسری طرف آر ٹی-پی سی آر ٹیسٹ وائرس کے آر این اے کی تلاش کرتا ہے جو زیادہ قابل اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آرٹی-پی سی آر ٹیسٹ اینٹیجن ٹیسٹ سے زیادہ مضبوط ٹیسٹ سمجھا جاتا ہے۔

درحقیقت انڈیا کے موجودہ ٹیسٹنگ پروٹوکول کے تحت ایسے تمام افراد کا جن کا اینٹیجن ٹیسٹ منفی آیا ہے ان کا آر ٹی-پی سی آر ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے۔

تو سوال یہ ہے کہ دہلی میں ہر قسم کے کتنے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں؟ اور کیا ہر ایک کی دوبارہ جانچ کی جارہی ہے؟ فی الحال ان کا جواب دینے والے اعداد و شمار عوامی طور پر دستیاب نہیں ہیں اور اسی وجہ سے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ دہلی میں انفیکشن کے نئے کیسوں کی گرتی رفتار جانچ کی ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر ریڈی نے کہا: 'میں یہ تسلیم کرنا چاہتا ہوں کہ کووڈ 19 کے نئے متاثرین میں کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔'

دہلی میں کووڈ 19 سے ہونے والی روزانہ اموات جون کے اختتام کے بعد سے کم ہونا شروع ہوئی ہے۔

دہلی

،تصویر کا ذریعہReuters

دہلی میں کیا بدلا؟

تاہم بہت سارے ماہرین کی رائے ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی اموات کی صحیح تعداد نہیں بتائی جا رہی ہے۔

زیادہ تر ماہرین ٹیسٹنگ کی عدم مطابقت کو دیکھتے ہوئے کورونا انفیکشن کے تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد کے بعد کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کے اعداد و شمار کو دوسرا بہترین پیمانہ قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ریڈی کا خیال ہے کہ 'اینٹیجن ٹیٹنگ کے علاوہ دہلی حکومت نے کئی ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے کورونا انفیکشن کے نئے متاثرین کی رفتار کسی حد تک کم ہوئی ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'دہلی میں عوامی صحت پر زیادہ زور دیا جارہا ہے، زیادہ سے زیادہ گھروں کا دورہ کیا جارہا ہے، ٹیٹنگ کی تعداد زیادہ ہے اور عوامی رابطے بھی بہتر ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'لوگوں کے صحیح وقت پر احتیاط لینے سے بھی فرق پڑا ہے۔ کام کرنے میں مستعدی دکھائی جا رہی اور مرکز کے ساتھ دہلی حکومت کا رابطہ اب بہتر ہے۔'

لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'صورتحال میں بڑی تبدیلی آئی ہے، یہ کہنا قبل از وقت ہے۔ اس وقت نئے کیسز اور کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔'

انھوں نے کہا: 'دہلی حکومت کو ہسپتال میں داخلے کے عمل میں مزید بہتری لانی چاہیے تاکہ لوگوں کی صحت یابی کا عمل تیز تر ہو اور انھیں مرنے سے بچایا جاسکے۔ اس سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور لوگ انفیکشن کی صورت میں چھپانے کے بجائے خود ہی اطلاع دیتے ہیں۔

موت می بھی کمی واقع

،تصویر کا ذریعہEPA

لیکن فی الحال دہلی پر سے توجہ ہٹتی نظر آ رہی ہے اور اب ملک کی دیگر ریاستوں اور شہروں پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے جہاں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

جنوبی ریاست کرناٹک اور آندھرا پردیش میں کورونا انفیکشن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تیلنگانہ میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک انفیکشن کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے لیکن تیلنگانہ میں جانچ بہت بے ترتیب رہی ہے۔

تمل ناڈو میں انفیکشن کے نئے کیسز کی رفتار کم ہونے کی وجہ وہاں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس کی بڑی وجہ ٹیسٹنگ کی تعداد ہے۔ انڈیا میں میں سب سے زیادہ ٹیسٹنگ کی شرح تمل ناڈو میں ہے اور تمل ناڈو میں کووڈ 19 کی ٹیسٹنگ کے لیے صرف آر ٹی-پی سی آر کٹ ہی استعمال کی جارہی ہے۔

تمل ناڈو کے دارالحکومت چینئی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولوجی کے ڈائریکٹر منوج مرکھیکر کے مطابق: 'لاک ڈاؤن کے دوران تمل ناڈو میں بخار کے کئی کیمپ لگائے گئے تھے۔ ایسے لوگ جن میں علامات تھیں اور جنھیں کورونا سے متاثر ہونے کا شبہ تھا وہ ٹیسٹنگ سینٹر بھیجے گئے تھے، نقل و حمل کی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔ اس سے شاید فائدہ ہوا ہو لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ مقامی طور پر وائرس کی منتقلی اب کم ہونا شروع ہوگئی ہے یا رجحان اسی طرح جاری رہے گا۔'

ممبئی

،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images

متاثرین اور اموات کے لحاظ سے مہاراشڑا سب سے آگے

مہاراشٹرا میں اب بھی روزانہ کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ تاہم ریاستی دارالحکومت ممبئی میں بتدریج کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ لیکن آس پاس کے اضلاع جیسے تھانہ اور پونے یا ریاست کے دوسرے بڑے شہروں میں متاثرین میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔

کووڈ 19 کے معاملے میں حکومت مہاراشٹر کے مشیر ڈاکٹر سبھاش آر سالونکے نے کہا: لاک ڈاؤن کے بعد لوگوں کی نقل و حرکت حکومت کے اندازے سے کہیں زیادہ تھی۔ لہٰذا انفیکشن میں اضافہ ہوا۔ لیکن ہمیں ہلاکتوں پر زیادہ تشویش ہے۔'

اب تک انڈیا میں 25 ہزار 600 سے زیادہ افراد کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں سے صرف مہاراشٹرا میں 11 ہزار 150 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ ہے۔

مہاراشٹر کے بعد جمعہ کی شام تک دہلی میں 3545 افراد، تمل ناڈو میں 2236 اور گجرات میں 2089 افراد ہلاک ہوئے۔

ڈاکٹر سبھاش سالونکے کا کہنا ہے کہ 'جلد ہی ممبئی میں بھی متاثرین میں کمی نظر آئے گی۔ لیکن یہ بیماری جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔'