آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نام بتانے پر عورت کی پٹائی کیوں؟
- مصنف, مہجوبہ نوروزی
- عہدہ, بی بی سی افغان سروس
شمالی افغانستان سے تعلق رکھنے والی رابعہ (فرضی نام) نامی ایک خاتون تیز بخار کی علامات کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئی، ڈاکٹر نے اس میں کورونا وائرس کی تشخیص کی۔ رابعہ شدید درد اور بخار کے ساتھ واپس گھر آئی اور اس نے ڈاکٹر کا نسخہ اپنے شوہر کو دیا تاکہ وہ اسے دوائی لا دے۔
لیکن جب اس کے شوہر نے ڈاکٹر کے نسخے پر اپنی بیوی کا نام دیکھا تو وہ غصے میں آ گیا اور اس نے اپنی بیوی کو ایک انجان آدمی پر اپنا نام ظاہر کرنے کی پاداش پر پیٹ ڈالا۔
افغانستان میں خواتین کو اکثر ان کے اہل خانہ کی طرف سے اپنا نام خفیہ رکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے حتیٰ کہ ڈاکٹروں سے بھی لیکن کچھ خواتین اپنی شناخت کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
’میرا نام کہاں ہے؟‘
افغانستان میں یہ مسئلہ بچی کے جنم سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور اسے اپنا نام یا شناخت حاصل کرنے میں ایک عمر لگتی ہے۔ ملک میں جب کسی لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کی شادی کے دعوت نامے پر بھی اس کا نام نہیں لکھا جاتا۔ جب وہ بیمار ہوتی ہے تب بھی اکثر اس کے ڈاکٹری نسخے پر اس کا نام درج نہیں ہوتا۔
حتیٰ کہ جب اس کا انتقال ہو جاتا ہے تب بھی اس کی موت کے سرٹیفیکٹ پر یا اس کی قبر کے کتبے پر اس کا نام نہیں لکھا جاتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی لیے افغانستان میں کچھ خواتین ’میرا نام کہاں ہے؟‘ نامی مہم کے ذریعے اپنے نام کے آزادانہ استعمال کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں۔ اور اس مہم کے تحت افغانستان کے سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین ’میرا نام کہاں ہے؟ پر بنے پوسٹر استعمال اور شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔
’میرے باپ، بھائی اور منگیتر کی عزت‘
افغانستان کے اسی صوبے ہرات سے ایک اور خاتون نے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاپتی تھیں اور نہ ہی ریڈیو پر اپنی آواز سنانا چاہتی تھیں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملک میں مردوں کے اس رویے کو درست قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب کوئی مجھ سے میرا نام پوچھتا ہے تو مجھے اپنے باپ، بھائی اور منگیتر کی عزت کے بارے میں خیال آتا ہے، اور میں انھیں اپنا نام بتانے سے انکار کر دیتی ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے خاندان کو پریشانی میں کیوں ڈالوں، میرا نام بتانے کا کیا مقصد ہے، میں خود کو اپنے والد کی بیٹی، اپنے بھائی کی بہن اور مستقبل میں اپنے شوہر کی بیوی اور پھر اپنے بیٹے کی ماں کے نام سے جانی جانا چاہتی ہوں۔‘
ایسی کہانیاں بہت حیران کن لگتی ہیں لیکن افغانستان میں یہ کہانیاں نئی نہیں ہیں۔ یہاں مقامی معاشرے میں عورت کا نام استعمال کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے اور افغانستان کے بہت سے علاقوں میں اسے بے عزتی کے طور تصور کیا جاتا ہے۔
بہت سے افغان مرد سرعام اپنی بہنوں، بیویوں یا ماؤں کا نام پکارنے میں ہچچکاہٹ محسوس کرتے اور کتراتے ہیں کیونکہ یہ باعث شرم اور غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔
افغان معاشرے میں عمومی طور پر خواتین چاہیں وہ ماں، بیوی، بیٹی یا بہن ہوں خاندان کے سب سے بزرگ مرد کے نام سے منسوب یا پکارا جاتا ہے۔ افغانستان کے قانون کے مطابق کسی بھی خاتون یا لڑکی کے پیدائش کے سرٹیفیکٹ پر صرف اس کے باپ کا نام درج کیا جا سکتا ہے۔
شوہر موجود نہیں ہے
اس ضمن میں روز مرہ زندگیوں میں جہاں بہت سی عملی مشکلات کا سامنا ہے وہی اس کے ساتھ جذبات عنصر بھی موجود ہے۔
فریدہ سعادت کی شادی بچپن میں ہی ہو گئی تھی اور وہ ایک نابالغ دلہن تھیں، ان کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش 15 برس کی عمر میں ہوئی۔ کچھ برس بعد ان کی اور ان کے خاوند کی علیحدگی ہو گئی اور وہ اپنے چار بچوں کے ہمراہ جرمنی چلی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر کبھی بھی ان کے بچوں کی زندگیوں میں جذباتی اور ظاہری طور ہر شامل نہیں رہا اس لیے اسے کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ ان کے بچوں کے شناختی کارڈز پر اس کا نام درج ہو۔
وہ کہتی ہیں کہ میں نے اپنی بچوں کی پرورش اکیلے کی کیونکہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دینے سے انکار کر دیا تھا اور میں دوبارہ شادی نہیں کر سکتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اب میں ان اس کا نام بچوں کے شناختی کارڈ پر لکھے جانے سے انکار کر دیا ہے۔ افغانستانی معاشرے میں ایسے بہت سے مرد اور خاوند ہیں جن کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوتی ہیں جیسا کہ میرے سابقہ شوہر، یہ مرد اپنے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے لہذا میں افغان صدر سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ ملکی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے بچوں کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور شناختی کارڈز پر ماؤں کے نام کا اندراج کریں۔
یہ مہم کیسے شروع ہوئی؟
’یہ ایسے نہیں چل سکتا’ یہ وہ سوچ تھی جو ایک 28 سالہ افغان خاتون کو تین برس قبل آئی تھی۔ جب لیلہٰ عثمانی نامی خاتون جن کا تعلق بھی اسی ہرات صوبے سے ہے اپنے معاشرے میں اس فرسودہ رواج سے اکتا گئی تو انھوں نے میرا نام کہاں ہے؟ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد معاشرے میں خواتین کو ان کا بنیادی حق واپس دلانا تھا۔
لیلہٰ نے بی بی سی افغان سروس کو بتایا کہ وہ اور ان کی ساتھی افغان خواتین سے یہ سوال پوچھنا چاہتے تھے کہ انھیں ان کی شناخت سے محروم کیوں رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ مہم اپنے مقصد کی جانب ایک قدم بڑھ رہی ہے اور اب لوگ افغان حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ بچوں کے پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر ماں اور باپ دونوں کا نام درج کیا جائے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ بی بی سی افغان سروس کی اس مہم کی کوریج نے افغان پارلیمان کی خاتون رکن مریم سما کو اس کے متعلق ایوان میں بات کرنے پر مجبور کیا ہے۔‘
مریم سما نے افغان پارلیمان میں کہا تھا کہ بچوں کی پیدائش کی سرٹیفکیٹ پر باپ کے ساتھ ساتھ ماں کا نام بھی درج کیا جائے۔
سخت ردعمل
لیلہٰ عثمانی کے بی بی سی کے انٹرویو کے بعد افغانستان کے سوشل میڈیا صارفین نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
زیادہ تر صارفین نے لیلہٰ عثمانی کو اس مہم کے بارے میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھیں ’اپنی ترجیحات درست کرنے‘ کا مشورہ دیا تو چند نے اس مہم کی حمایت بھی کی۔
چند سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان کا مزاق اڑائے جانے پر لیلہٰ عثمانی کا کہنا تھا کہ انھیں ملک کی پڑھی لکھی نوجوان نسل کے اس طرح کے تبصروں پر سخت مایوسی ہوئی ہے۔
سیلیبریٹیز کی حمایت
افغانستان کی شوبز انڈسٹری کے چند بڑے اور نامور ناموں جن میں گلوکار و میوزک پروڈیوسر فرہاد دریا اور گلوکارہ و نغمہ نگار آریانہ سید شامل ہیں نے اس مہم کی بہت آغاز سے ہی حمایت کی تھی۔
گلوکار فرہاد دریا کا کہنا تھا کہ ماں، بہن، بیٹی یا بہن سماجی کردار یا پہلو ہیں یہ عورتوں کی شناخت نہیں ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب ہم عورتوں کو ان کے سماجی کرداروں سے منسوب کرتے ہیں تو ان کی اصل اور بنیادی شناخت کھو جاتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب مرد بہت عرصے تک عورتوں کو ان کی شناخت سے محروم رکھیں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عورتیں خود بھی اپنی شناخت چھپانا شروع کر دیتی ہیں۔‘
افغانستان کی مشہور گلوکارہ اور خواتین کے حقوق کی کارکن آریانہ سید نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس مہم کی حمایت کرتی ہیں لیکن انھیں خدشہ ہے کہ خواتین کو اس اپنا حق حاصل کرنے میں ابھی طویل سفر طے کرنا پڑے گا۔
’سورج اور چاند نے بھی اسے نہیں دیکھا‘
افغانستان کے ماہر سماجیات علی کاواہ کا کہنا تھا کہ ’ملک میں عورتوں کو شناخت سے محروم رکھنے کی بڑی وجہ پدرشاہی معاشرہ ہے جس میں مرد کی عزت نہ صرف ان کی عورتوں کو اپنے جسم ڈھانپنے پر زور دیتی ہے بلکہ اپنے نام چھپانے پر بھی مجبور کرتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’افغان معاشرے میں وہ خواتین سب سے بہتر ہیں جنھیں نہ کسی نے کبھی دیکھا ہو، نہ ہی سنا ہو، جیسا کہ مقامی کہاوت میں کہا جاتا ہے کہ ہے کہ ’اسے تو سورج اور چاند نے بھی نہیں دیکھا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغان معاشرے میں جو جتنا سخت مزاج اور سخت زبان مرد ہوتا ہے وہ اتنا ہی معتبر اور عزت دار سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس کے خاندان کی کچھ خواتین آزاد خیال ہوں تو انھیں بد کردار اور بے عزت سمجھا جاتا ہے۔‘
برطانیہ کے سرے ٹیکنالوجی سنٹر سے منسلک افغانستان کی ایوارڈ یافتہ میڈیکل فیزیسٹ شکردخت جعفری کا کہنا تھا کہ افغان خواتین کو شناختی خود مختاری کے ساتھ ساتھ مالی، سماجی اور جذباتی خود مختاری بھی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان جیسے ملک میں حکومت کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے جو خواتین کو ان کی شناخت سے محروم رکھتے ہیں۔
تقریباً گذشتہ دو دہائیوں سے طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد متعدد قومی اور بین الاقوامی تنظمیں افغانستان میں خواتین کو سماجی دھارے میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
تاہم آج بھی رابعہ جیسی خواتین کو ڈاکٹر کو اپنا نام بتانے پر ان کے شوہروں کی جانب سے مارا پیٹا جاتا ہے۔
شکردخت جعفری کا کہنا ہے کہ جب فرسودہ روایات اور افغانستان جیسے پدرشاہی نظام کو بدلنے میں سماجی جدوجہد کچھ نہ کر پائے تو ایسے میں حکومتوں کو آگے بڑھ کر اس نظام کے خلاف قانونی لڑائی لڑنی چاہیے۔
یہ معاملہ افغان پارلیمان میں اٹھایا گیا ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان کے سیاستدان میرا نام کہاں ہے کی مہم پر کیا اور کیسا ردعمل دیتے ہیں۔