آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا چین سرحدی تنازع: چین اور انڈیا کے درمیان فوجی مذاکرات کا چوتھا دور منگل کو
چین اور انڈیا کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے درمیان منگل کو مشرقی لداخ کے علاقے چسول میں دونوں ملکوں کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کا چوتھا دور ہوگا۔
انڈیا کے ذرائع ابلاغ میں اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کے چوتھے دور میں لداخ کے 'فنگر ایریا' اور دفاعی اعتبار سے اہم ڈپسانگ کے علاقوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق دونوں ملکوں میں گزشتہ آٹھ ہفتوں سے جاری فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی اور فوجی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں 30 جون کو فوجی کمانڈروں کی ملاقات اور اس کے بعد انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور چین کے وزیر خارجہ وانگ فی کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد کچھ پیش رفت ہوئی تھی۔
انڈیا کے سرکاری حلقوں کی طرف سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے گزشتہ دو ہفتوں میں ہونے والی فوجی اور سفارتی سطح کے مذاکرات کے بعد گلوان، ہاٹ سپرنگ اور گوگرا میں اپنے فوجی پیچھے ہٹانے پر اتفاق کیا تھا۔
یاد رہے کہ جون کی 15 تاریخ کو دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان لداخ کے علاقے گلوان وادی میں ہونے والی دست بدست لڑائی میں انڈیا کی فوج کے ایک کرنل سمیت 20 فوجی ہلاک جبکہ پچاس کے قریب شدید زحمی ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین نے اپنی فوج کے جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی تھی۔
انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ گو کہ فنگر ایریا اور ڈپسانگ کے علاقوں میں صورت حال غیر واضح ہے لیکن انڈیا کی فوج نے گلوان وادی، ہاٹ سپرنگ اور گوگرا سے چینی فوجیوں کے پیچھے ہٹنے کی تصدیق اور ان کی نگرانی کا کام شروع کر دیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز نے نام ظاہر کیے بغیر ایک اور فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ منگل کے روز ہونے والے مذاکرات میں بھاری ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کو بھی مرحلہ وار فریقین کے درمیان طے شدہ فاصلہ تک پیچھے ہٹانے پر بھی بات ہو گی۔
دونوں ملکوں کے اعلی فوج کمانڈروں کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جون کی 30 تاریخ کو ہوا تھا۔ ان مذاکرات میں انڈیا کی طرف سے انڈین فوج کے چودہویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور چین کی طرف سے سنکیانگ کے جنوبی علاقے کے کمانڈر میجر جنرل لیو لئن نے شرکت کی تھی۔
انڈین ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجوں کے پیچھے ہٹنے سے فوجیوں کے درمیان کے ایک 'بفر زون' یا ایک محفوظ فاصلہ تو وجود میں آ جائے گا اور کسی اچانک مسلح تصادم کا خدشہ دور ہو جائے گا۔ لیکن انڈین فوجی مبصرین کی طرف سے یہ خدشات بھی ظاہر کیے جارہے ہیں کہ اس بفر زون میں جہاں دونوں ملکوں کے فوجیوں کو عارضی طور پر گشت کرنے کی اجازت بھی نہیں ہو گئی کہیں مستقل صورت احتیار نہ کر لے۔
یہ بھی پڑھیے
لداخ میں فنگر ایریا پر انڈیا فنگر چار سے فنگر آٹھ تک کے علاقے پر دعوی کرتا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ چین فنگر آٹھ تک اپنی فوجیوں کو پیچھے ہٹائے جبکہ چین فوج فنگر چار تک خیمہ زن ہو چکی ہے اور اس نے کچھ مستقل تعمیرات بھی کر لی ہیں۔
مئی کے مہینے میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ملکوں نے بہت بڑی تعداد میں فوجی اور ٹینکوں، میزائلوں اور توپخانے سمیت بہت بڑے پیمانے پر جنگی ساز و سامان لداخ اور دوسرے سرحدی علاقوں میں پہنچا دیا تھا۔
چین اور انڈیا کے درمیان ساڑھے چار ہزار کلو میٹر طویل سرحد کا گزشتہ ستر برس میں تعین نہیں ہو سکا ہے اور اسی سرحدی تنازع پر سنہ 1962 میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بھی ہو چکی ہے جس میں انڈیا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔