وادی گلوان: لداخ میں انڈیا، چین جھڑپ کے بعد پھیلائی جانے والی جعلی تصاویر اور ویڈیوز

رواں ہفتے چین اور انڈیا کی افواج کے درمیان لداخ کی وادی گلوان کی متنازع سرحد پر جھڑپوں کے بارے میں تو اب تک آپ بہت کچھ پڑھ چکے ہوں گے لیکن اس دوران سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی آپ کی نظر سے گزری ہوں گی جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہو گا کہ یہ ان ہی جھڑپوں کے دوران بنائی گئی ہیں۔

دنیا بھر جب بھی کہیں غیر یقینی یا کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس دوران سوشل میڈیا جعلی خبروں، تصاویر اور ویڈیوز کا مسکن بن جاتا ہے۔

کئی مرتبہ ایسا پراپیگینڈا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جبکہ صارفین اپنے دلائل کی اہمیت بڑھانے کے لیے بھی ایسی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایسی ہی چند مثالوں کے حوالے سے ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں جن کے بارے دعویٰ تو یہی کیا تھا کہ یہ حالیہ جھڑپوں کی ہیں لیکن ان کا ان جھڑپوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

1۔ ایک ویڈیو جس میں فوجی آپس میں لڑتے دیکھے جا سکتے ہیں

ہماری پہلی مثال ایک ایسی ویڈیو کی ہے جو یوٹیوب پر موجود ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ وادی گلوان میں چین اور انڈیا کی افواج کے درمیان ’اصلی جھڑپوں‘ کی حالیہ فوٹیج ہے۔

اس ویڈیو کو اب تک 21 ہزار سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں جبکہ ٹوئٹر پر بھی اسے خاصی پزیرائی ملی ہے اور صارفین یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ انڈین افواج چینی فورسز پر ’حاوی‘ ہیں۔

تاہم یہ ویڈیو دن کے وقت بنائی گئی ہے جبکہ لداخ کے خطے میں ہونے والی حالیہ جھڑپیں رات کے وقت ہوئی تھیں۔

ہماری تحقیق کے مطابق یہ ویڈیو اگست 2017 اور ستمبر 2019 میں بھی پوسٹ کی گئی تھی اور اس کے بارے میں یہی دعویٰ کیا گیا تھاکہ یہ انڈیا اور چینی افواج کے درمیان ماضی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران بنائی گئی۔

2۔ انڈین فوجی ہلاکتوں پر افسوس کر رہے ہیں، یا یہ کچھ اور ہے؟

ایک ایسی ویڈیو جس میں ایک جذباتی منظر دیکھا جا سکتا ہے اور اس دوران انڈین فوجی روتے اور ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں اور ان کے دیگر ساتھ بظاہر ایک لاش اٹھائے کھڑے ہیں۔

متعدد صارفین نے اس حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یہ وادی گلوان میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے دوران بنائی گئی ویڈیو ہے۔

تاہم اصل میں یہ ویڈیو ’آج سے ایک سال قبل ایک ایسے واقعے کی ہے جو کشمیر کے خطے میں پیش آیا اور اس دوران انڈین فورسز کو شدت پسند کے ہاتھوں جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

اس واقعے کا انڈیا اور چین کے درمیان متنازع علاقے میں حالیہ جھڑپوں سے قطعی کوئی تعلق نہیں ہے۔

3۔ فوجی افسران کے درمیان ماضی میں ہونے والی بحث کی ویڈیو

ہماری نظر سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی ایسی ویڈیو بھی گزری جس میں چینی اور انڈین فوجی آپس میں بحث کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو کو اب تک ہزاروں افراد دیکھ چکے ہیں۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چینی فوجی ایک انڈین سپاہی کو ڈانٹ رہے ہیں اور یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔

یہ ویڈیو ٹک ٹاک کی چینی زبان والی ویب سائٹ پر بھی پوسٹ کی گئی ہے جسے 33 ہزار سے زائد لوگوں نے پسند کیا ہے اور اسے انڈیا میں حزبِ اختلاف کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کے ترجمان نے بھی شیئر کیا ہے۔

تاہم یہ ویڈیو رواں ماہ مئی میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کی گئی تھی اس لیے یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ کم از کم حالیہ جھڑپوں کے دوران تو نہیں بنائی گئی۔ مزید تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ یہ ویڈیو رواں برس جنوری میں یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ یہ بھی بہت واضح ہے کہ اس ویڈیو میں خطہ دیکھا جا سکتا ہے وہ کم از کم لداخ کی پہاڑیاں نہیں ہیں۔

اب تک ہم اس ویڈیو میں دیکھی جانے والی جگہ کا تعین تو نہیں کر سکے لیکن ایک فیکٹ چیکنگ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو دراصل انڈین ریاست اروناچل پردیش کے سرحدی علاقے کی ہے جو اس علاقے سے قریباً ایک ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔

4۔ ایک فوجی کے جنازے کی ویڈیو کی صداقت

ایک اور ایسی ویڈیو جو دراصل ایک انڈین فوجی کے جنازے کی ہے اسے کئی مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے ساتھ فوجی چلا رہے ہیں اور نعرے لگا رہے ہیں۔

اس ویڈیو کو تقریباً 40 ہزار مرتبہ دیکھا جا چکا ہے اور کہا گیا کہ یہ وادی گلوان کی ہے اور اس میں انڈین فوجیوں کی تعریف بھی کی گئی ہے۔

تاہم اس ویڈیو 16 جون کو ہلاک ہونے والے فوجیوں سے تعلق نہیں ہے۔

اس ویڈیو سے لیے گئے ایک سکرین شاٹ کی ریورس امیج سرچ کرنے سے یہ بات ایاں ہوتی ہے کہ اسی طرح کی ویڈیو یوٹیوب پر مئی میں شیئر کی گئی تھی۔

اس ویڈیو کو سننے کے بعد آپ کو یہ اس فوجی کے نام کے بارے میں علم ہو جاتا ہے اور اگر آپ اس کا نام سرچ کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ فوجی دراصل مئی میں لیہہ لداخ کے علاقے میں ایک حادثے کے نتجے میں ہلاک ہوا تھا۔

اس فوجی کا جنازہ ریاست مہاراشٹر میں ان کے آبائی قصبے میں ہوا تھا۔

5۔ یہ تصویر دراصل برِاعظم افریقہ کی ہے

چینی زبان میں چھاپے گئے ایک مضمون میں ایک تصویر بھی موجود ہے جس میں بظاہر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ انڈین فوجیوں کی لاشیں ہیں جو ان جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔

اس مضمون کو ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ پڑھا جا چکا ہے اور اس مضمون میں موجود ایک تصویر پاکستانی ویب سائٹ باغی ٹی وی پر بھی لگائی گئی ہے۔

اسی تصویر کو کاٹ کر سوشل میڈیا پر بھی استعمال کیا گیا ہے۔

اس تصویر کے ریورس امیج سرچ سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ دراصل نائجیریا سے ہے۔ اس تصویر میں سنہ 2015 میں ہونے والے ایک حادثے کے بعد کے مناظر دکھائے گئے ہیں جس میں نائجیریئن فوجی تشدد پسند تنظیم بوکو ہرام کے شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔

اس مضمون میں استعمال ہونے والی ایک اور تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد فوجی تابوتوں میں جن پر پھولوں کی سیج بھی چڑھی ہے۔ یہ تصویر اس سے قبل فروری 2019 میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلواما میں انڈین فورسز پر ہونے والے حملے کے بعد بھی شیئر کی گئی تھی۔

یعنی یہ واضح ہے کہ اس تصویر کا حالیہ جھڑپوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔