آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران میں پرسرار دھماکے: ایرانی حکام کی ملک میں تازہ دھماکوں کی اطلاعات کی تردید
ایران میں حکام نے دارالحکومت تہران کے مغرب میں جمعرات کو ہونے والے دھماکوںسے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک بھر میں پراسرار دھماکوں کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے گرمدارہ اور قدس کے شہروں کے قریب دھماکے سنے ہیں۔
ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے ان دھماکوں میں اہم جوہری تنصیبات اور تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
رواں ماہ ایران کے ادارہ برائے ایٹمی توانائی نے تصدیق کی تھی کہ نتانز کے ایٹمی پلانٹ پر دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو نقصان پہنچا تھا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ (آئی آر آئی بی) کے مطابق حالیہ دھماکوں کے متعلق خبروں کا سلسلہ ملک کے سوشل میڈیا پر جمرات کی شب سے شروع ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری چینل پریس ٹی وی کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ انھوں نے تین سے چار مارٹر گولے گرنے یا طیارہ شکن توپ کے گولے گرنے جیسے آوازیں سنی ہیں۔
بی بی سی کے تجزیہ کے مطابق ایران کے شہر گرمدارہ سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے چند سوشل میڈیا صارفین نے دھماکوں کی آوازیں سننے کے متعلق بتایا تھا تاہم ان دھماکوں سے لگنے والی آگ اور عمارتوں کے تباہ ہونے والی تصاویر جو انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں وہ پرانے واقعات کی ہیں۔
ایران کے شہر قدس کی گورنر لیلہ وسیگھی نے سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو بتایا کہ شہر میں کچھ دیر کے لیے بجلی کا نظام متاثر ہوا تھا تاہم اس نظام کے متاثر ہونے کا تعلق ایک ہسپتال سے تھا۔
قدس سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان نے بھی شہر میں کسی بھی دھماکے کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں بجلی بند ہونا مقامی بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کی معمول کی کارروائی ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق گرمدارہ کے میجر کا کہنا ہے کہ مقامی طور پر شہر میں سنے جانے والے 'دھماکے ایک گیس سلنڈر بنانے والے کارخانے میں ہوئے تھے۔'
ایران میں حال ہی میں پیش آنے والے واقعات
جون کے آخر سے ایران کے مختلف علاقوں میں پرسرار دھماکے اور آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
26 جون: ایران کے علاقے پارچن کے قریب واقع کھوجر کی بلِسٹک میزائلوں کے لیے تیل فراہم کرنے والی اہم تنصیب پر دھماکہ ہوا۔ جبکہ اس دن ایران کے شہر شیراز میں ایک بجلی گھر میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس کے باعث شہر کی بجلی معطل ہو گئی تھی۔
30 جون: ایران کے ایک ہسپتال میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں 19 افراد ہلاک ہوئے۔
دو جولائی: نتانز کی جوہری تنصیب میں دھماکہ اور آتشزدگی۔
تین جولائی: ایران کے شہر شیراز میں بڑی پیمانے پر آگ لگنے کا واقعہ۔
چار جولائی: ایران کے شہر اہواز کے بجلی گھر میں دھماکہ اور آتشزدگی کا واقعہ جبکہ مشہر کے کارون پیٹروکیمکل پلانٹ سے کلورین گیس کے اخراج کا واقعہ سامنے آیا تھا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کا کہنا ہے کہ نتانز کے جوہری پلانٹ پر ہونے والے دھماکے کی وجہ معلوم کر لی گئی ہے تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ابھی اس کی تفصیلات جاری نہیں کی جا سکتیں۔
چند ایرانی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھیں جوہری پلانٹ پر حملے کا شبہ اسرائیل پر ہے۔
اس ضمن میں جب اسرائیلی حکام سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران کی ایٹمی تنصیب پر حملے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے تو اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'بہتر ہے کہ ایران میں ہماری کارروائیوں کے متعلق بات نہ کی جائے۔'