آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا: کیرالہ میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے نام پارسل سے 30 کلو سونا برآمد
انڈیا میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے نام ایک سفارتی پارسل میں سے 30 کلو سے زیادہ سونا برآمد ہوا ہے۔
جنوبی ریاست کیرالہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود کسٹم حکام نے باتھ روم فٹنگز کے اندر چھپایا گیا سونا برآمد کیا جو بظاہر سمگل کیا گیا ہے۔
یہ پارسل تھیرووننتھاپورم شہر میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کے نام پر تھا۔
متحدہ عرب امارات نے اس پارسل سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک سابق مقامی ملازم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک اور شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے دلی میں سفارت خانے نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ یہ پارسل کس نے بھیجا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سفارت خانے کا کہنا تھا کہ 'اماراتی حکام نے زور دیا ہے کہ ملوث افراد جنھوں نے نہ صرف ایک سنگین جرم کیا ہے بلکہ انڈیا میں اماراتی مشن کی ساکھ خراب کرنے کی بھی کوشش کی، انھیں نہیں چھوڑا جائے گا۔'
پیغام میں کہا گیا کہ 'ہم انڈین حکام کے ساتھ اس جرم کی جڑ تک پہنچنے میں تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔'
انڈیا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر نے اخبار گلف نیوز کو بتایا کہ قونصل خانے کے سابق ملازم کو 'اپنا کام نہ کرنے پر' کئی ماہ قبل ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
ریاست کیرالہ کے وزیرِ اعلیٰ پینارائے وجین پر اپوزیشن کی جانب سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاہم انھوں نے اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس ریاست کے ایک سینیئر عہدیدار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کورونا وائرس کے باعث بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں کمی نے انڈیا میں سمگلنگ کے ذریعے سونے کی آمد کو زک پہنچائی ہے اور سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے انڈین معاملات کے سربراہ سوماسندرم پی آر نے روئٹرز کو بتایا کہ 'حالیہ صورتحال میں متوقع ہے کہ سمگلنگ میں خاصی کمی آئے گی۔ لاک ڈاؤن کے دوران سامان کی سمگلنگ شدید متاثر ہوئی تھی۔'
انھیں توقع ہے کہ سال 2019 میں 115 سے 120 ٹن سمگل شدہ سونے کی انڈیا آمد کے مقابلے میں رواں سال اس کا حجم کافی کم رہے گا۔