وادی گلوان میں انڈیا، چین تنازع: کیا انڈیا چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے؟

    • مصنف, نِکہِل انعام دار
    • عہدہ, بی بی سی بزنس نامہ نگار، ممبئی

حالیہ دنوں میں دو جوہری طاقتوں، انڈیا اور چین، کی سرحد پر خون ریز تصادم کے بعد سے انڈیا میں چین مخالف جذبات بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

کوہِ ہمالیہ میں انڈیا اور چین کے ایک سرحدی متنازع علاقے وادی گلوان میں دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ کے نتیجے میں 20 انڈین فوجی مارے گئے تھے جس کے باعث انڈیا کے گلی کوچوں میں مشتعل افراد نے چین مخلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا۔

انڈیا کے ایک شہر احمد آباد میں کچھ لوگوں نے چینی ساختہ ٹیلی ویژن سیٹ اپنی اپنی بالکونیوں سے گلیوں میں پھینک دیے، جبکہ دلی میں چند دکانداروں نے چینی مصنوعات کو آگ لگا کر احتجاج کیا۔

ایک مرکزی وزیر نے چائنیز کھانے کے ریستورانوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، جبکہ یہ چائنیز پکوان اب مقامی مصالحہ جات کے استعمال کی وجہ سے انڈین پکوان بن چکے ہیں اور لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔

حزب اختلاف کے ایک رہنما کو کرین مشین کے ذریعے ایک بِل بورڈ پر چڑھ کر ’ہواوے‘ موبائل فون بنانے والی ایک چینی کمنپی کے اشتہار پر کالک ملتے دیکھا گیا ہے۔ مظاہروں کی ایک ایسی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں مظاہرین شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن کی تصویر کو چینی رہنما شی جن پنگ کی تصویر سمجھ کر نذرِ آتش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا میں چینی مصنوعات کا بائیکاٹ ممکن ہے؟

انڈین حکومت نے اب تک واضح طور پر کسی بائیکاٹ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے بعض خبروں کے مطابق طے کر لیا ہے کہ وہ آئندہ چینی کمپنیوں کو نیا ٹھیکہ دینے سے گریز کریں گی۔

انڈین ریلوے نے چینی کمپنی کو سگنلز کا سنہ 2016 میں دیا گیا ایک ٹھیکہ منسوخ کر دیا ہے۔ اور کچھ اطلاعات کے مطابق انڈین حکومت نے ای-کامرس کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے پیجز پر جو مصنوعات فروخت کرتے ہیں ان کے ساتھ اس کو بنانے والے ملک کے بارے میں بھی اطلاع شائع کریں۔

دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت سنہ 2018 سے 15 فیصد کم ہو چکی ہے، یہ اور بھی کم ہو سکتی ہے کیونکہ انڈیا چین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر مزید کسٹم ڈیوٹیاں اور مخالف بھرمار ڈیوٹیاں (اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی) عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بائیکاٹ کے نعرے لگانا آسان ہے لیکن ان پر حقیقت میں عملدرآمد کرنا بہت مشکل ہو گا۔

انڈیا کے لیے چین کا متبادل کیا ہے؟

ایک تو یہ کہ انڈیا کے لیے امریکہ کے بعد چین سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اور دوسرے یہ کہ چینی درآمدات انڈیا کی کل درآمدات کا 12 فیصد بنتا ہے جن میں کیمیکل مصنوعات، گاڑیوں کے پرزے، الیکٹرانک مصنوعات اور ادویات وغیرہ شامل ہیں۔

انڈین فارماسوٹیکل الائنس کے صدر سُدھارشن جین کہتے ہیں کہ 'انڈیا کی ادویات بنانے کی صنعت کے بنیادی عناصر اور اجزا کی 70 فیصد ضروریات چین پوری کرتا ہے۔'

انڈیا نے ادویات کی صنعت کے لیے خود انحصاری کی پالیسی کا اعلان کیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے اس پر عملدرآمد کرنے میں ابھی وقت لگے گا۔

انڈیا میں تیزی سے فروغ پاتا ہوا سمارٹ فون 'زومی' جو کے اوپّو گروپ تیار کر رہا ہے، اس میں انڈیا کے مقامی سرمایہ کاروں کا زیادہ بڑا حصہ ہے۔

الیکٹرانک مصنوعات بنانے والے زیادہ تر صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ ان کا تو کام بند ہو جائے گا اگر وہ اپنے کام کے لیے بنیادی سامان (انٹرمیڈیٹ سامان) چین سے درآمد نہ کر سکیں۔

انڈیا کے ایئر کنڈیشنر، ایئر پیوریفائر اور واٹر کولر بنانے والی ایک کمپنی بلیو سٹار لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر بی تھیاگراجن کہتے ہیں کہ 'ہمیں حتمی طور پر تیار شدہ مصنوعات (فِنِشڈ مصنوعات) کی پرواہ نہیں ہے۔ لیکن دنیا بھر میں کئی لوگ اپنی صنعتوں کے لیےکمپریسر جیسے اہم اجزا چین سے درآمد کرتے ہیں۔'

مسٹر تھیاگراجن مزید کہتے ہیں کہ مقامی سطی پر 'انٹر میڈیٹ' سامان کی تیاری کے اس سلسلے میں ایک لمبا عرصہ لگے گا اور اس طرح کی درآمدات کے زیادہ متبادل بھی نہیں ہوتے ہیں۔

نئی بڑی انڈین کمپنیوں ’یونی کارنز' میں چینی سرمایہ کاری

انڈیا اور چین چند برسوں سے ایک دوسرے پر بہت زیادہ زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر چینی سرمایہ انڈیا کی ٹیکنالوجی کی صنعت میں لگ رہا ہے، انڈیا کی 'زومیٹو'، 'پےٹم'، 'بِگ باسکٹ' اور 'اولا' جیسی نئی بننے والی ٹیک کمپنیوں میں 'علی بابا' اور 'ٹینسینٹ' جیسی چینی کمپنیاں ایک حکمتِ عملی کے تحت اربوں ڈالروں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ممبئی کے ایک تحقیقی ادارے 'گیٹ وے' کے مطابق اس طرح چینیوں نے اپنے آپ کو انڈیا کے سماجی، اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے ماحول کا ایک ہمسفر بنا لیا ہے۔

گیٹ وے ہاؤس کے تجزیہ کار امیت بھنڈاری کہتے ہیں کہ 'اس وقت نوے سے زیادہ نئی انڈین ٹیک کمپنیوں میں چینیوں کی سرمایہ کاری صرف گذشتہ پانچ برسوں میں ہوئی ہے۔ تیس 'یونی کارن' کمپنیوں (یعنی وہ نئی ٹیک کمپنیاں جن کی مالیت ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے) ان میں سے اٹھارہ کے سرمایہ کار چینی ہیں۔'

چین کی براہ راست سرمایہ کاری جو کہ 6.2 ارب ڈالر ہے فی الحال نسبتاً ایک کم رقم ہے۔ لیکن مسٹر بھنڈاری کے بقول، ایسی سرمایہ کاریوں کے بہت زیادہ اثرات کو دیکھتے ہوئے علی بابا جیسی کمپنیوں کو انڈین مارکیٹ میں اجارہ داریاں قائم کرنے سے روکنا بہت ضروری ہو گا۔

اس مقصد کے لیے انڈیا نے پہلے ہی سے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ) کی قوانین میں ایسی ترامیم کر دیں ہیں جن سے 'دشمن' ملک کے سرمایہ کاوں کی جانب سے انڈین کمپنیوں کو خریدنے کی صلاحیت محدود ہو گئی ہے۔

اگرچہ چین نے انڈیا پر عالمی تجارتی تنظیم کے اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے، لیکن کچھ ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ، ایم زیڈ ایم لیگل کے مینیجنگ پارٹنر ذوالفقار میمن کے بقول، 'اس بات کا کوئی متبادل نہیں ہے اگر کوئی ملک کسی تجارتی معاملے میں باہمی تصادم کو پیش کرے تو اس تنازع کے حل کا کوئی فورم نہیں ہے۔'

اس طریقہ سے انڈیا چاہے تو چین پر اپنا انحصار کم کر سکتا ہے اور خود انحصاری کے مطالبات پر توجہ بھی دے سکتا ہے۔ انڈیا کا چین سے تجارت میں خسارہ 50 ارب ڈالر کا ہے اور یہ ایک تنازع کے طور پر دونوں ملکوں میں کافی عرصے سے زیر بحث بھی ہے، اور موجودہ کشیدگی انڈیا کو اس خسارے کو کم کرنے کا ایک موقعہ فراہم کرتی ہے۔

کیا خود انحصاری اس مسئلے کا حل ہے؟

انڈیا کی ایک ریٹنگ ایجنسی 'اکویٹی' کی نئی تحقیق کے مطابق انڈیا کی اپنی صنعت چینی درآمدات کا زیادہ سے زیادہ 25 فیصد متبادل تیار کر سکتی ہے۔ اس سے درآمدات کی مد میں آٹھ ارب ڈالر سالانہ کی کمی ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور دستکاریوں کی مد میں انڈیا نے سنہ 2020 میں 42 کروڑ ڈالر کی مصنوعات چین سے درآمد کیں جب کہ اپنے ملک سے اس مد میں چین کوئی خاص برآمدات نہیں کیں۔

لیکن 'گیٹ وے ہاؤس' کے مسٹر بھنڈاری کہتے ہیں کہ 'ٹِک ٹاک' جیسے چینی ایپس کا بائیکاٹ کرنے کے بجائے چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کی تضمیم شدہ قیمت (ویلیو ایڈڈ) کے لحاظ سے زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ اس کے کئی متبادل ہو سکتے ہیں۔

انڈیا کے نقطہِ نگاہ سے یہ حل بغیر سنگین اقتصادی مضمرات کے ممکن نہیں ہے، خاص کر زوال پذیر اقتصادی ماحول میں۔ دوسری جانب چین کو کوئی خاص تشویش نہیں کیونکہ اس کی انڈیا میں برآمدات کل برآمدات کا صرف تین فیصد ہے۔

فی الحال انڈیا میں چین-مخالف مظاہروں پر چین کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم چین کے اخبار 'گلوبل ٹائمز' کے ایک اداریے میں انتباہ کیا گیا ہے کہ 'چین کے صبر کو اس کی کمزوری نہ سمجا جائے۔'

روزنامے کے مطابق یہ انڈیا کے لیے 'انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کہ وہ چین مخالف گروہوں کو رائے عامہ بھڑکانے کی اجازت دے اور اس طرح کشیدگی کو مزید گہرا کرے،' اور مشورہ دیا کہ اب توجہ اقتصادی بحالی کی جانب دی جانی چاہیے۔