کورونا وائرس: وہ خاتون جو انڈیا میں ’کورونا کی آواز بنی‘

    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی نیوز دہلی

لاکھوں انڈینز کے لیے جیسلین بھلا ایک جانی پہچانی آواز ہیں۔

جب آپ کسی کو فون کرتے ہیں اور دوسری جانب کوئی فون نہیں اٹھاتا ہے تو اس دوران آپ کو ایک رنگ ٹون نہیں سنائی دیتی، بلکہ بسا اوقات اس کی جگہ کوئی ایک موسیقی یا کوئی پیغام سنائی دیتا ہے، اِسے مقامی طور پر 'کالر ٹیون' کہا جاتا ہے۔

اور پچھلے ڈھائی ماہ سے آپ جب بھی لوگ فون کالز کرتے ہیں تو جو آواز وہ سب سے پہلے سنتے ہیں وہ اُس کی گرمجوش اور نرم آواز ہوتی ہے۔

دوسروں کے لیے آوازیں ریکارڈ کروانے والی 'وائس اوور آرٹسٹ' (صدا کار) انڈیا کے شہریوں کو ہدایات دیتی ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران کس طرح رہیں، یہ آواز اب ملک بھر میں 'کورونا وائس' بن چکی ہیں۔

وہ کئی دہائیوں سے صدا کاری کا کام کر رہی ہیں۔ وہ ایک نجی ائر لائین کمپنی سمیت، انڈیا کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی، اور دہلی میٹرو کی ائررپورٹ سروس کی بھی آواز ہیں۔ یہ وہ آواز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ اگلا کون سا اسٹیشن آنے والا ہے اور یہ کہ دروازے دائیں جانب کھلیں گے یا بائیں جانب۔

لیکن یہ کورونا وائرس کی مہم ہے جس نے انھیں بہت زیادہ شہرت دی ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے سے جب سے یہ سب کو معلوم ہوا ہے کہ کورونا وائرس کی مہم کی آواز اُن کی ہے اس کے بعد سے جیسلین بھلا اب ایک نامور شخصیت (سیلیبریٹی) بن گئی ہے۔

ایک مقامی اخبار نے ان پر ایک رپورٹ شائع کی۔ سوشل میڈیا پر ان کی آواز کو شاندار اور بہت اعلیٰ کہا گیا، اور اس کی آواز پر مبنی آڈیو کلپس، میمز اور ٹِک ٹاک ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'گذشتہ ہفتے تک تو میں اپنا معمول کا کام کر رہی تھی اور مجھے کوئی زیادہ جانتا بھی نہیں تھا اور پھر ایک ٹی وی انٹرویو ایک دم سے وائرل ہوگیا اور میری زندگی بدل گئی۔'

بہت سارے دیگر صدا کار آرٹسٹوں کی طرح مِس بھلا بھی معروف شخصیت نہیں تھی۔ 'کیونکہ ایک چہرے کو آواز سے نہیں پہچانا جاتا ہے۔'

لیکن وہ کہتی ہے کہ وبا کی وجہ سے 'میں دوسروں کی نسبت ممتاز ہوتی جا رہی ہوں کیونکہ پوری قوم خوف کی وجہ سے متحد ہے اور وہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بھی متحد ہے اس لیے میں ہر روز اس آواز کو سنتی ہوں اور سبھی اسے سنتے ہیں۔'

وہ کہتی ہے کہ 'ظاہر ہے کہ میں اس شہرت کو اور اس توجہ کو پسند کر رہی ہوں۔ لیکن کورونا سے وابستہ ہونا کون پسند کرے گا؟'

مارچ کے مہینے میں ایک دن صبح کے وقت ایک ٹیلیفون کال نے اس کی صداکاری کا رُخ بدل دیا جس میں انکے لیے انڈیا کی وزارتِ صحت کی جانب سے پیغام تھا کہ وہ ہنگامی طور پر ریکارڈنگ کروانا چاہتے ہیں۔

مِس بھلا نے دہلی میں اپنے گھر سے ٹیلی فون پر بتایا کہ 'میری پروڈیوسر نے کہا کہ یہ 30 سیکنڈز کا ہونا چاہیے، آپ کو خوشگوار اور گرمجوش محسوس ہونا ہوگا، لیکن ساتھ اس میں ہدایت دینے کے انداز کی تشویش اور احساسِ ذمہ داری بھی جھلک رہی ہو۔'

ان دنوں انڈیا میں وبا کے شروع شروع کے دن تھے اور ہر ایک کو اس سے بچنے کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں تھیں۔

اس نے جو پیغام ریکارڈ کرایا تھا وہ اس طرح شروع ہوا تھا 'نمسکار! کورونا وائرس یا کووِڈ -19 سے آج پورا دیش لڑ رہا ہے۔'

پھر اس پیغام میں کہا جاتا کہ لوگ اپنے 'گھروں میں ٹھہریں اور محفوظ رہیں باہر اس وقت تک مت نکلیں جب تک بہت زیادہ ضروری کام نہ ہو، جب باہر جائیں تو اپنے چہرے پر ماسک پہنیں، اپنے ہاتھوں کو صابن سے بار بار دھوئیں اور کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے سماجی فاصلہ رکھیں۔'

'مجہے کہا گیا تھا کہ میں انگریزی اور ہندی دونوں میں یہ پیغامات ریکارڈ کرواؤں۔ میں نے ہر پیغام کو چار سے پانچ مرتبہ ریکارڈ کروایا، پھر انھیں بھیج دیا اور بھول گئی۔ پھر ایک دو دنوں کے بعد میرے گھر کے لوگوں اور دوستوں نے مجھے بتایا کہ کیا تمھیں معلوم ہے کہ جب کوئی کال کرتا ہے تو میری آواز ہر ٹیلی فون پر سنائی دیتی ہے؟'

مِس بھلا کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے اس مہم کے لیے پیغامات ریکارڈ کروائے تھے تو انھیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ انھیں اس طرح استعمال کیا جائے گا کہ اُن کی آواز کو اتنے زیادہ لوگ سنیں گے۔

لیکن حکومت کی ہدایات کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے کالر ٹیونز کو صحت عامہ کے بیغامات سے بدل دیا، اور 30 سیکنڈ کے آڈیو کلپس کو بار بار چلانا تھا، جس سے بھلا کی آواز انڈیا کی سب سے زیادہ جانی پہچانی آواز بن گئی۔

جس طرح گذشتہ چند ہفتوں میں حالات بدل رہے ہیں اور صحت عامہ کی ہدایات تبدیل ہو رہی ہیں اس نے دو اور پیغامات ریکارڈ کروائے ہیں۔‘

'دوسرا پیغام اس وقت ریکارڈ کرایا تھا جب لوگ ڈاکٹروں، نرسوں اور بیماری کا براہ راست مقابلہ کرنے والے عملے سے لڑ جھگڑ رہے تھے۔ تو مجھے کہا گیا کہ میں انھیں یہ یاد دلاؤں کہ ہم بیماری سے لڑ رہے ہیں بیماریوں سے نہیں۔'

مِس بھلا نے کہا کہ 'جب میں نے یہ پیغام ریکارڈ کرایا تو یہ بہت ہی جذباتی مرحلہ تھا، میرے رونگٹھے کھڑے ہوگئے تھے۔ یہ ایک خوبصورت پیغام تھا اور میرے جذبات کی عکاسی کرتا تھا۔'

اس نے تیسرا پیغام اس وقت ریکارڈ کرایا جب سماجی فاصلے کے قواعد و ضوابط بدل دیے گئے اور لوگوں کو یہ بتانا تھا کہ وہ اب فاصلہ ایک میٹر کا نہیں بلکہ دو میٹر کا رکھیں۔

اگرچہ کچھ لوگوں نے شکایت کی ہے کہ یہ پیغامات انھیں پریشان کرتے ہیں کیونکہ انھیں یہ بار بار سننا پڑتے ہیں۔ کچھ نے تو ان سے بچنے کے طریقے بھی ڈھونڈ لیے۔

مس بھلا کو اس بات کا اندازہ ہے کہ کچھ لوگوں کو تکرار سے ان پیغامات کا سننا پسند نہیں ہے اور شاید وہ ان سے گریز کریں، کیونکہ ان پیغامات کو انھیں بھی سننا پڑتا ہے جب وہ کسی کو فون کال کرتی ہیں۔

'میں جانتی ہوں کہ یہ 30 سیکینڈ تک چلتا رہے گا اور یہ میری اپنی ہی آواز ہے جو مجھے بتاتی ہے کہ میں اپنے ہاتھ بار بار دھوؤں، ماسک پہنوں اور سینیٹائزر استعمال کروں۔'

'لیکن ہم ایک بہت ہی سنگین صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟'

بھلا کہتی ہیں کہ 'خبردار رہنا اب ہمارے لیے ایک نیا معمول بن گیا ہے، میرا خیال ہے کہ یہ تلخ میٹھی گولی ہمارے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس پیغام کو ہر ایک تک اور دور دارز جگہوں تک پھیلانے کے لیے یہ ایک منطقی اور موثر طریقہ ہے۔'