لداخ سرحدی تنازعہ: لاک ڈاؤن کے باوجود انڈیا میں چین کے خلاف علامتی مظاہرے

انڈیا میں چین کے خلاف سوشل میڈیا پر تو گرما گرم مباحثہ جاری ہے لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے پیش نظر ایسے مواقع پر جو مظاہرے نظر آیا کرتے تھے وہ مفقود ہیں۔

لیکن پھر بھی انڈیا کے مختلف شہروں میں چند لوگوں نے مل کر لداخ کی وادی گالوان میں انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان مہلک تصادم اور کم از کم 20 انڈین فوجیوں کے مارے جانے کے خلاف مظاہرہ کیا۔

انڈیا کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش کے دارالحکومت میں ایک چین مخالف مظاہرہ نظر آیا جس میں چینی صدر کی تصاویر کو نظر آتش کیا گیا اور چین مخالف نعرے لگائے گئے۔

مقامی گروپ 'سنسکرتی بچاؤ منچ' یعنی تہذیب بچاؤ فورم کے اراکین نے اس میں شرکت کی اور انھوں نے بھورے رنگ کے لباس پہن رکھے تھے۔

انھوں نے چین کے خلاف اور انڈیا کے حق میں نعرے لگائے اور انھوں نے چین میں بنی مصنوعات کے بائیکاٹ کے پوسٹرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

اسی طرح ریاست گجرات کے شہر احمد آباد میں ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم 'مددگار پریوار' تنظیم کے اراکین نے چین کے خلاف مظاہرہ کیا۔

یہ مظاہرے گذشتہ روز نظر آئے جب انڈیا نے ایک فوجی افسر سمیت صرف تین فوجیوں کے مارے جانے کی بات کہی تھی۔ احمد آباد کے مظاہرین نے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اس میں انھوں نے چین کے جانب سے کیے جانے والے مظالم کی تنقید کی تھی۔

اسی طرح بدھ کے روز دہلی کے تین مورتی پولیس سٹیشن کے پاس چین کے خلاف علامتی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔ اور یہ کال ہندو سخت گیر تنظیم سودیشی جاگرن منچ کی جانب سے دی گئی ہے۔

انڈین حکام کے مطابق پیر اور منگل کی رات انڈیا کے زیر انتظام لداخ میں انڈیا چین سرحد کے پاس وادی گالوان میں فوجیوں کی واپسی کے دوران پرتشد تصادم میں انڈیا کی جانب سے کم از 20 فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

انڈیا نے چين کے فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعوی کیا ہے لیکن ابھی تک چين کی جانب سے اس کے متعلق کوئی سرکاری بیان نہیں آیا ہے۔