انڈیا ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں: غیر مستقل نشست پر انتخاب خطے کی سیاست پر کیا اثرات چھوڑ سکتا ہے؟

    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

انڈیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوگیا ہے۔ اسے دو تہائی اکثریت کے لیے 192 رکن ممالک میں سے 128 ووٹ درکار تھے۔ لیکن اسے 184 ووٹ ملے۔

امریکہ کے شہر نیو یارک میں بدھ (17 جون) کو اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے لیے جنرل اسمبلی کی خفیہ ووٹنگ ہوئی جس میں ایشیا پیسیفک خطے سے انڈیا آئندہ دو سال کے لیے منتخب ہوا ہے۔

انڈیا کے علاوہ آئرلینڈ، میکسیکو اور ناروے بھی سکیورٹی کونسل کے انتخابات میں سرخرو ہوئے ہیں۔ کینیڈا کو ان انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈیا آخری بار 2010 میں سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا جب اس نے 190 میں سے 187 ووٹ حاصل کیے تھے۔

انڈیا نے آٹھواں مرتبہ یہ رکنیت حاصل کر لی ہے۔ سکیورٹی کونسل میں اس کے نئے سفر کا آغاز جنوری سنہ 2021 سے ہوگا اور دسمبر 2022 میں اختتام پذیر ہوگا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جبکہ انڈیا کی شمالی سرحدوں پر اس کی اور چین کی فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں اور جھڑپوں میں کئی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

گو کہ پاکستان نے اس سے قبل کبھی انڈیا کی رکنیت پر اعتراض نہیں اٹھایا تھا تاہم اس بار ایسا نہیں ہے اور پاکستان نے انڈیا کی مستقل رکن یا غیر مستقل رکن بننے کی اہلیت پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

’کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا‘

اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انڈیا کے سلامتی کونسل کا رکن بننے سے کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔

'انڈیا اس سے پہلے بھی سات بار سلامتی کونسل کا عارضی رکن بن چکا ہے لیکن اس سے کشمیر کے مسئلے پر کوئی اثر نہیں پڑا۔'

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم اس موقع پر جو نکتہ اٹھانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ملک کو سلامتی رکن میں رکنیت نہیں ملنی چاہیے۔

اس بار انڈیا اور پاکستان میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں کہ انڈیا سلامتی کونسل میں اس مرتبہ غیر مستقل رکن بننے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص کر سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی اپنی کاوشوں میں۔

اب جبکہ انڈیا نے اپنے زیرِ انتظام جموں اور کشمیر ریاست کی آئینی حیثیت کو بدل دیا ہے تو چین اور پاکستان دونوں ہی اس متنازعہ پیش رفت کے بعد اس خطے کی ایک نئی جہت میں داخل ہوچکے ہیں۔ لیکن کیا انڈیا واقعی اس رکنیت سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟

غیر مستقل رکن!

انڈیا گذشتہ دہائی سے سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کی کوششوں میں پیش پیش ہے۔

لیکن اب تک کی پیش رفت اور کووِڈ-19 کی وجہ سے جس طرح کی رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں، ان سے یہ سے نظر آرہا ہے کہ ہنوذ دلّی دور است۔

اس سے قبل سنہ 1950—1951 ، سنہ 1967—1968، سنہ 1972—1973، سنہ 1977—1978، سنہ 1984—1985، سنہ 1991—1992 اور سنہ 2011—2012 میں بھی انڈیا دو دو برس کے لیے اقوام متحدہ کا رکن منتخب ہو چکا ہے۔ سلامتی کونسل میں اصل اختیار مستقل ارکان کے پاس ہے جو کسی بھی معاملے کو ویٹو کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ میں انڈیا کے مستقل مندوب اشوک مکھر جی نے ایک انڈین اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا سلامتی کونسل کا ایک 'منتخب' رکن ہو گا، یعنی بالواسطہ انھوں یہ کہنے کی کوشش کی کہ انڈیا مستقل ارکان کی نسبت اخلاقی طور پر منتخب ہونے کی وجہ سے بہتر پوزیشن پر ہوگا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کل پندرہ ارکان ہوتے ہیں جن میں سے پانچ مستقل ارکان ہیں (امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس)، جبکہ دس غیر مستقل ارکان ہیں جنھیں دو دو برس کے لیے دنیا کے مختلف خطوں سے منتخب کیا جاتا ہے (پانچ افریقہ اور ایشیا کی ریاستوں سے، ایک یورپین یونین کی ریاستوں سے، جبکہ دو، دو ملک لاطینی امریکہ اور مغربی یورپ اور دیگر ریاستوں سے منتخب ہوتے ہیں۔

دو برس کی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والا رکن ملک فوراً دوبارہ انتخاب لڑنے کا اہل نہیں ہوتا ہے۔

یہ انتخابات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہوتے ہیں اور پلینیری سیشن میں خفیہ رائے شماری ہوتی ہے۔ تام اس مرتبہ کووڈِ-19 کی وجہ سے رائے شماری مخصوص جگہوں پر ہوگی مگر خفیہ رہے گی۔ انتخاب لڑنے والے ملک کو کامیابی کے لیے دوتہائی اکثریت کی حمایت ضرورت ہوتی ہے۔

ان دس نشستوں میں سے اس مرتبہ پانچ نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں جن میں ایک نشست افریقہ کی ہے، ایک ایشیا پیسیفک کی ہے (جس پر انڈیا بلامقابلہ امیدوار ہے)، ایک لاطینی ممالک کی نشست ہے اور دو نشستیں مغربی یورپ اور دیگر ممالک کی ہیں۔

اس وقت ایشیا پیسیفک کی نشست انڈونیشیا کے پاس ہے جو اس برس کے اختتام میں خالی ہو گی۔

پاکستان بھی اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رکن کے طور پر سات مرتبہ منتخب ہو چکا ہے۔

آخری مرتبہ پاکستان سنہ 2012-2013 کے عرصے کے لیے منتخب ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ پاکستان سنہ 1952-1953 میں رکن منتخب ہوا تھا۔ اس کے بعد سنہ 1968-1969 ، 1976-1977، سنہ 1983-1984، سنہ 1993-1994، اور پھر سنہ 2003-2004 میں پاکستان سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر منتخب ہوا تھا۔

انڈیا کو کیا فائدہ ہوگا؟

بین الاقوامی ماہرین اور عالمی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا کا سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت میں منتخب ہونا ایک عزت اور نیک نامی والی بات ضرور ہے لیکن اس کامیابی کو سفارتی طاقت کے طور پر زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی ہے۔

انڈیا اس حیثیت میں چین پر کس طرح دباؤ ڈال سکتا ہے یا کشمیر میں اس نشست کے ذریعے کیا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یہ سب باتیں غیر واضح ہیں۔

انڈیا اقوام متحدہ کا مستقل رکن بننے کی کافی عرصے سے کوشش کر رہا ہے لیکن اس میں اسے اب تک کوئی کامیاب حاصل نہیں ہوئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے سنہ 1950 میں سلامتی کونسل میں عوامی جہموریہ چین کی مستقل رکنیت روکنے کے لیے انڈیا کو چین کی نشست دلوانے کی پیش کش کی تھی جبکہ 1955 میں روس نے ایک الگ مقصد کے لیے انڈیا کو مستقل رکن بنوانے کی بات کی تھی۔

تاہم انڈیا کے معروف مصنف اے جی نورانی روس کی پیش کش کو روس کی ایک ٹٹولنے کی کوشش کہتے ہیں۔

امریکہ کی سنہ 1950 کی پیش کش کے بارے میں بین الااقوامی تاریخ کے محقق اینٹن ہارڈر کہتے ہیں کہ اس وقت کے انڈین وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے اس پیش کش کے جواب میں کہا تھا کہ 'کئی ایک اسباب کی بنا پر انڈیا سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کا مستحق ہے، لیکن ہم اسے چین کی قیمت پر نہیں حاصل کریں گے۔'

نہرو پر ان دو مبینہ پیش کشوں کا استفادہ نہ کرنے کی وجہ سے ان کے مخالفین آج بھی ان پر بہت تنقید کرتے ہی۔

بی بی سی نے سفارت کاری اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں سے انڈیا کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کے طور انتخاب ہونے کے اثرات اور مضمرات پر ان کی رائے جمع کی ہے۔

دہشت گردی مرکزی موضوع ہوگا

حال ہی میں انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے دنیا میں عالمی امن کو درپیش مسائل میں انڈیا کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دہشت گردی 'انتہائی قابلِ مذمت' انداز میں بڑھ رہی ہے۔

جے شنکر نے کہا کہ انڈیا 'بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کے لیے سلامتی کونسل سے ٹھوس اور نتیجہ خیزاقدامات کروانے کی بھر پور کوشش کرے گا۔'

جے شنکر نے اپنے ملک کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست کی مہم کے آغاز کے وقت کہا تھا کہ کووِڈ-19 کی وجہ سے نہ صرف انڈیا میں بلکہ عالمی سطح پر جو جغرافیائی اور اقتصادی تبدیلیاں آ رہی ہیں ان کے پس منظر میں انڈیا کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بنیادی پالیسی چار اصولوں پر بنائی جائے گی جو 'چار س' کہلائیں گے: سمّان (باہمی عزت)، سہیوگ (باہمی تعاون)، شانتی (امن) اور سمریدھی (خوشحالی)۔

انڈین وزیر خارجہ کے خیال میں 'ہم اس نئی پالیسی کے ذریعے ایک اصلاح شدہ کثیرالجہتی نظام کی سمت کا نیا تعین کریں گے جو نئی اقدار کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق، اس کثیرالجہتی نظام میں حالیہ دور کے حقائق کے مطابق اصلاحات کی شدید ضرورت ہے اور باہمی مذاکرات، باہمی عزت، اور بین الاقوامی قوانین سے مضبوط وابستگی کے رہنما اصولوں کے تحت امن اور سلامتی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی بنانے کی ضرورت ہے۔

کسی قرارداد کی مخالفت نہیں کی

جواہر لعل نپرو یونیورسٹی میں سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز سے وابستہ چھانگاولی شوا راما مُرتھی نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈیا ماضی میں جب بھی سکیورٹی کونسل کا رکن غیر مستقل رکن بنا ہے تو 'یہ اپنی روایتی خارجہ پالیسی کی اقدار اور اہداف پر قائم رہا ہے'۔

مُرتھی کے مطابق انڈیا نے کبھی بھی کسی قرارداد کی مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالا، البتہ چند ایک قراردادوں کی رائے شماری میں اپنے اظہارِ تحفظ کے لیے غیر حاضر رہا اور وہ بھی دیگر ممالک کے ہمراہ۔

تاہم اس مرتبہ اب مودی سرکار کی مبینہ متنازع انتہا پسندی، کشمیر میں انسانی حقوق کا قضیہ اور عرب ممالک کی انڈیا میں مسلم مخالف ٹرینڈ کے بارے میں تشویش کی وجہ سے انڈیا کی اب وہ ساکھ نہیں ہے جب وہ سنہ 2011-2012 کے انتخابات میں ریکارڈ ووٹ لے کر کامیاب ہوا تھا۔

یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ سنہ 1996 میں انڈیا کو اسی انتخاب میں جاپان سے شکست بھی ہوئی تھی۔

’رکنیت کی کوئی اہمیت نہیں ہے‘

سابق انڈین آرمی افسراور 'فورس' میگیزین کے ایڈیٹر، پراوین سونہی کہتے ہیں کہ انڈیا پہلے بھی سلامتی کونسل کا کئی مرتبہ رکن رہ چکا ہے 'لہٰذا میرے خیال میں اس وقت اس پیش رفت کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔'

'سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکنیت کے لیے نامزدگی عموماً ایک غیر رسمی انداز میں ایک ترتیب کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ میں ایشیا-پیسیفیک گروپ جس میں پاکستان بھی شامل ہے، ماضی میں ایک دوسرے کی غیر رسمی توثیق کرتے رہے ہیں۔'

پراوین سونہی کہتے ہیں کہ 'ان باتوں کے باوجود بھی، کئی لوگوں کا خدشہ ہے ہم (انڈیا) ایک ایسے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں سرد جنگ شروع ہونے کو ہے، اور انڈین سفارت کاری کو بہت سمجھداری کا مظاہرہ کرنا پڑے گا تاکہ یہ سلامتی کونسل کے کسی بھی ایک دھڑے کے چنگل میں نہ پھنس جائے جو اُسے دوسرے دھڑے کے خلاف استعمال کرے۔'

پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری اور تجزیہ کار نجم الدین شیخ اس لحاظ سے پراوین سوانہی ہی کی بات کہتے ہیں کہ انڈیا کا سلامتی کونسل میں غیر مستقل رکن کی حیثیت میں منتخب ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

'انڈیا اپنے گروپ میں اپنی باری آنے کی وجہ سے منتخب ہوا ہے۔ انڈیا کئی برسوں سے مستقل رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے جس کی پہلے سے موجود مستقل ارکان عملاً مزاحمت کر رہے ہیں۔'

لیکن نجم الدین شیخ کا خیال ہے کہ اس وقت جس طرح کی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک کشیدگی چل رہی ہے اس میں دونوں ملکوں کے تعلقات کے بہتر ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے۔

اس بارے میں

'انڈیا کو جب بھی موقع ملتا ہے چاہے وہ سلامتی کونسل کی رکنیت ہو یا کوئی بھی فورم، وہ ہمیشہ خطے میں اپنی بالادستی بڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔'

'اصل طاقت تو ویٹو کی ہوتی ہے'

انڈین اخبار دی ہندو کی ڈپلومیٹک افیئرز ایڈیٹر اور معروف تجزیہ نگار سوہاسینی حیدر کے خیال میں انڈیا اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں انڈیا کا سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہونا اہم ہے۔

خاص کر اس حوالے سے کہ انڈیا کے آئین کے آرٹیکل 370 کے اقدامات کے بعد کے حالات میں سلامتی کونسل نے چار دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ اپنا ایک "غیر رسمی' اجلاس طلب کیا۔

سوہاسینی حیدر کے مطابق انڈیا کے سلامتی کونسل میں انتخاب کو سِکم اور لداخ میں ایل اے سی (لائین آف ایکچؤل کنٹرول) پر چین اور انڈیا کی فوجوں کی کشیدگی کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

'تاہم ان معاملات کا حل دو طرفہ نوعیت کا ہے، نہ کہ کثیرالجہتی نوعیت کا، اس لیے میں یہ نہیں سوچتی کہ اس رکنیت سے (انڈیا کو) مناسب فائدہ پہنچے گا۔'

البتہ تجزیہ کار حیدر کہتی ہیں کہ 'انڈیا کے انتخاب سے اقوام متحدہ میں اصلاحات کا موضوع ایک مرتبہ پھر مرکزی حیثیت اختیار کرے گا جس میں سلامتی کونسل کو جدید اور نمائندہ ادارہ بنانے کے لیے اس میں توسیع پر بات بھی بڑھے گی۔

اگرچہ ان (اصلاحات) کا تعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ہے (نہ کہ سلامتی کونسل کے فورم سے)، تاہم سلامتی کونسل میں انڈیا کے انتخاب سے اس کی آواز نمایاں ہوجائے گی۔'

دی ہندو کی ڈپلومیٹک افیئرز ایڈیٹر سوہاسینی حیدر کے خیال میں انڈیا کا سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہونا اس کی عالمی ساکھ بڑھانے کے لیے ایک پیش رفت ہے کیونکہ ایک منقسم سلامتی کونسل میں اس کے ووٹ کے حصول کے لیے دو دھڑے اس کی اہمیت میں اضافہ کریں گے۔

'یہ واضح ہے کہ سلامتی کونسل میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت ہوتی ہے جو کہ اب دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کے مستقل ارکان میں ایک جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا دھڑا ہے تو دوسری جانب روس اور چین کا۔ اس وجہ اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ ہر دھڑا انڈیا کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتا رہے گا اور اگر انڈیا نے اپنا کھیل بہتر انداز میں کھیلا تو اُسے فائدہ ہو سکتا ہے۔'

تاہم سوہاسینی حیدر تسلیم کرتی ہیں کہ 'اصل میں تو سلامتی کونسل کا ایک اپنا منفرد کام کرنے کا انداز ہے کیونکہ اس کے پانچ مستقل ارکان کے پاس ویٹو کرنے کی طاقت ہے (یعنی سلامتی کونسل کے پانچ بڑوں کا یہ حق کہ وہ کسی تحریک پر رائے شماری یا بحث روک دیں)، اس کے بعد غیر مستقل ارکان کے ووٹوں کی کوئی حیثیت بنتی ہے۔'

'پاکستان اور کشمیر سائیڈ شو ہوں گے'

انڈیا کے تحقیقی ادارے 'آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن' کے سینئیر ریسرچ فیلو شوشانت سرین کہتے ہیں کہ ظاہر ہے کہ انڈیا کا سلامتی کونسل میں منتخب ہو کر رکن بننا نئی بات نہیں ہے، لیکن اس مرتبہ موجودہ حالات میں سلامی کونسل کا رکن بننا اہمیت کا حامل ہو گا۔

'اس سے پہلے جب بھی انڈیا سلامتی کونسل کا رکن منتخب ہوا تھا، یہ دنیا آج کی نسبت کے لحاظ سے معینہ حدود میں کام کر رہی تھی۔ لیکن آج ہم عالمی نظام کو ایک بے ترتیب بہاؤ میں دیکھ رہے ہیں۔

اس دنیا پر ایک نئی سرد جنگ کی تلوار لٹکتی ہوئی نظر آ رہی ہے، عظیم طاقتوں کے درمیان مسابقت سے زیادہ انتقام کے ساتھ پھر سے ابھر رہی ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'ان مسائل کے ساتھ جس بات نے حالات کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا ہے وہ کورونا وائرس کی وبا ہے، جو اپنے اندر نئے مواقعے بھی لیے ہوئے ہے اور ساتھ ساتھ بہت بڑا چیلینج بھی۔'

شوشانت سرین کے خیال میں ان حالات کے ہوتے ہوئے انڈیا کی سفارت کاری کی بڑی سکیم میں 'پاکستان اور کشمیر سائیڈ شو ہوں گے۔ البتہ اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل کرنے کی وجہ سے انڈیا کو کشمیر اور پاکستان کے معاملات پر کچھ فائدہ تو ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑے معاملات زیادہ حاوی رہیں گے۔'

سوشانت سرین کا کہنا ہے 'تاہم انڈیا کی امریکہ اور چین کے درمیان اس کی سفارت کاری کو دیکھنا بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ کیا انڈیا غیر جانبدارانہ پالیسی کا دہرانا اس کے لیے فائدہ مند ہو گا، یعنی چین سے کچھ حاصل کیے بغیر امریکہ کا ساتھ کھو بیٹنا اس کے لیے سود مند ہوگا، یا انڈیا اپنا مستقبل امریکہ کے ساتھ جوڑ کر ایک سٹریٹیجک پارٹنرشپ بنائے گا۔ انڈیا کے لیے یہ سب سے اہم فیصلہ ہوگا۔'

انھوں نے کہا کہ انڈیا کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ کس طرح سلامتی کونسل کی رکنیت کو چین سے اپنے تعلقات خراب کیے بغیر امریکہ سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

'یعنی اب کھیل یہ ہوگا کہ انڈیا اپنے زیادہ سے زیادہ فائدے کے لیے چین اور امریکہ کے درمیان کس طرح کی حکمت عملی اپناتا ہے۔'

سوشانت سرین کہتے ہیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ' کیا اس سے انڈیا کو اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت مل سکتی ہے؟ میرے خیال میں انڈیا کے اس خواب کے پورا ہونے میں ابھی کافی فاصلہ ہے۔ لیکن ایک منجھی ہوئی سفارت کاری انڈیا کے مستقل رکنیت کے مقدمے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔'

’انڈیا کو کام سے کام رکھنا پڑے گا‘

اسلام آباد میں اقرا یونیورسٹی سے وابستہ بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر اعجاز حسین کہتے کہ جس طرح کی انڈیا اور چین کے درمیان ایک تصادم کی کیفیت ہے جو کہ لداخ پر مرکوز ہے، اگر انڈیا اس معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھا کر کوئی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اُسے چین کے سخت ردِّ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

'قوی امکان ہے کہ انڈیا اپنے معاملات اس عالمی ادارے میں نہیں اٹھائے گا۔ اپنے خارجہ پالیسی کے معاملات اٹھانے کی بجائے انڈیا کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ رہتے ہوئے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ رہتے ہوئے جنھوں نے اسے اتفاقِ رائے کے ساتھ سلامتی کونسل کا رکن منتخب کروایا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے مضمرات جیسے معاملات پر اقدامات لے۔'

ڈاکٹر اعجاز کے خیال میں انڈیا کے لیے یہ غیر معقول ہوگا کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسئلے کو سلامتی کونسل میں اٹھائے اور اگر اُس نے ایسا کیا تو اُسے سلامتی کونسل میں پاکستان اور اُس کے اتحادیوں کی جانب سے منہ توڑ جواب ملے گا۔ دہلی کی کوشش ہو گی کہ وہ اپنے بارے میں یہ تاثر دے کہ وہ عالمی امن، اقتصادی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

'لیکن پاکستان میں (انڈیا کی غیر مستقل رکنیت) باعثِ تشویش ہو گی اس لیے پاکستان کی ضرورت ہو گی کہ وہ مودی سرکار کے دوران جموں اور کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی جیسے ایشوز کا معاملہ اٹھاتے رہے۔'

انھوں نے کہا کہ انڈیا اور چین کی موجودہ کشیدگی کے دوران انڈیا کے لیے (سلامتی کونسل کی رکنیت) دنیا تک اپنی بات پہنچانے کا ایک اچھا موقع ہوگا کہ وہ عالمی سطح پر اپنی معاملات میں فائدہ حاصل کرے، یعنی وہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کرے۔

'لیکن چین نے پہلے بھی اُس کی ان کوشش کو ناکام بنایا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرے گا۔ لہٰذا انڈیا کے اس دور میں مستقل رکن بننے کے فوائد نظر نہیں آتے ہیں۔'

ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ انڈیا کے سلامتی کونسل کا رکن بننے کا عمل سنہ 2013 سے شروع ہوگیا تھا اور کئی برسوں کی سفارت کاری کے بعد چین سمیت ایشیا اور پیسیفک ممالک نے انڈیا کی حمایت کی۔

'اس طرح انڈیا کے لیے اب سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بننا اچنبے کی بات نہیں ہونی چاہئیے، خاص کر اب جب چین اور انڈیا نے درمیان لداخ میں سینگ پھنسائے بیٹھے ہیں۔ اور یہ نہیں بھولنا چاہئیے کے اس رکنیت کی یہ میعاد دو برس ہے۔'