انڈین وزیر دفاع جنھوں نے 20 برس قبل چین کو سب سےبڑادشمن قرار دیا

    • مصنف, ریحان فضل
    • عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی

انڈیا کے سابق وزیر دفاع جارج فرنینڈس صاف گو اور سیدھی بات کہنے کے عادی تھے اور اسی لیے وہ بیشتر اوقات تنازعات سے گھرے رہتے تھے۔

ان سے آپ کسی بھی طرح کے سوال کر سکتے تھے۔ وہ کبھی ’آف دی ریکارڈ‘ بولنا پسند نہیں کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک انٹرویو میں جب انھوں نے کہا کہ ’چین ہمارا مد مقابل نہیں بلکہ دشمن نمبر ایک ہے‘ تو پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی۔

یہ واقعہ 1998 کا ہے۔ انھوں نے ہوم ٹی وی کے ’فوکس وِد کرن‘ نامی پروگرام میں صحافی کرن تھاپر کو دیے ایک انڑویو میں بنا تکلف صاف الفاظ میں کہا کہ ’ہماری عوام سچائی کا سامنا کرنے سے کتراتی ہے اور چین کے ارادوں پر کوئی سوال نہیں کرتا۔ جس طرح چین پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی میں اور میانمار کے فوجی اقتدار کی فوجی مدد کر رہا ہے، اور انڈیا کو زمین اور سمندر کے ذریعہ گھیرنے کی کوشش کر رہا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ ہمارا مستقبل کا دشمن نمبر ایک ہے۔'

ان کے اس بیان نے انڈیا کی خارجہ پالیسی بنانے والوں کے علاوہ چینی حکومت کے بڑے عہدوں پر فائز سیاستدانوں اور سینیئر اہلکاروں کو بھی حیران کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب فرنینڈس چین کے لیے اتنے سخت الفاظ کا استعمال کر رہے تھے، انھیں دنوں چین کی فوج کے سربراہ جنرل فو کوان یو انڈیا کے دورے پر تھے۔

یہ بھی پڑھیے

فرنینڈس نے اس انٹرویو کے پروڈیوسر کو فون کر کے کہا تھا کہ وہ چینی جنرل کے انڈین زمین پر رہتے اس انٹرویو کو نشر نا کریں کیونکہ وزیر اعظم واجپائی چین کے ساتھ کسی طرح کا تنازع نہیں چاہتے ہیں۔

فرنینڈس کی گزارش پر انٹرویو کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا اور چین کی زمینی فوج کے سربراہ کے دو ہفتے بعد ہی اسے نشر کیا گیا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ فرنینڈس نے ان الفاظ کا استعمال غلطی سے نہیں کیا تھا۔ چند ہی روز بعد ایک لیکچر کے دوران انھوں نے یہی بات دوہرائی تھی۔

پورٹ بلیئر کے دورے سے لوٹتے وقت جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا انڈیا اور چین کی سرحد سے فوج ہٹانے کی منصوبہ بندی چل رہی ہے تو فرنینڈس نے کہا ’بالکل نہیں۔‘ کئی حلقوں میں ان کے اس جواب کے مختلف معنی نکالے گئے۔

فرنینڈس نے چین کے خلاف پہلے بھی بیان دیا

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب جارج فرنینڈس نے چین کے خلاف بیان دیا ہو۔ اس زمانے میں دلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے ڈین اور چینی امور کے ماہر جی پی دیشپانڈے ایک دلچسپ قصہ سنایا کرتے تھے۔

انڈین وزیر اعظم وی پی سنگھ کی حکومت میں وزیر ریلوے بننے کے بعد فرنانڈس نے اپنا پہلا بیان تبت کی آزادی کے بارے میں دیا تھا۔ دیشپانڈے نے بتایا کہ ’جب میں چین گیا تو مجھ سے ہر جگہ یہی سوال ہوچھے جاتے۔ میں ان سے یہی کہتا کہ جارج فرنینڈس انڈیا کے وزیر ریلوے ہیں وزیر اعظم یا وزیر خارجہ نہیں۔ میں یہ صفائی دیتے دیتے تنگ آ گیا تھا کہ انڈیا کی تبت پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔'

لیکن تب اور اس انٹرویو کے وقت حالات میں اتنا فرق تھا کہ اب یعنی 1998 میں جارج فرنینڈس انڈیا کے وزیر دفاع تھے اور ان کے اس بیان نے وزیر اعظم اور وزارت خارجہ کے دفتر کو پریشانی میں مبتلا کر دیا تھا۔

انڈیا اور چین میں سخت رد عمل

فرنینڈس کے اس بیان کے ایک دن بعد جب وائس آف امریکہ کے نامہ نگار نے چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ژو بانگ ژاوٴ سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ’فرنینڈس کا یہ بیان اتنا مزاحیہ ہے کہ ہم اسے مسترد کرنے کی بھی ضرورت نہیں سمجھتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ ضرور کہا کہ ’فرنینڈس دو ہمسایوں کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات کو شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'

انڈیا میں بھی فرنینڈس کے اس بیان پر سخت رد عمل سامنے آیا۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے رہنما سیتا رام ییچوری نے فرنانڈس پر الزام لگایا کہ وہ انڈیا اور چین کے بہتر ہوتے تعلقات میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے اسے ’ایڈوینچرزم‘ کا نام دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے خارجہ پالیسی کو توجہ نا دینے کا نتیجا ہے۔ انھوں نے فرنینڈس کے ساتھ ساتھ واجپائی پر بھی حملہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خارجہ پالیسی میں مداخلت کے لیے فرنینڈس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

وزیرا عظم نے فاصلہ قائم کیا

اس درمیان وزارت خارجہ نے صفائی پیش کر کے وزیرا عظم واجپائی کو فرنینڈس کے بیان سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی جانب سے کہا گیا کہ ستر کی دہائی میں جنتا پارٹی کی حکومت کے دوران وزیر خارجہ کے طور پر واجپائی نے چین کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے میں ذاتی طور پر دلچسپی لی تھی۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ایک اہلکار نے یہاں تک کہا کہ اس وقت فرنینڈس کا ایسا کہنا غیر مناسب اور غیر قانونی ہے۔ کچھ سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہونے لگیں کہ کہیں واجپائی اپنے لیے کسی دوسرے وزیر دفاع کی تلاش میں تو نہیں؟

ادھر کچھ حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ کہیں انڈیا کی خارجہ پالیسی بنانے والے فرنینڈس کی آڑ میں چین کو سچائی سے روبرو کرانے کی کوشش تو نہیں کر رہے؟ لیکن واجپائی نے ذاتی طور پر فرنینڈس کے بیان کی حمایت یا مخالفت کرنے کی کوشش نہیں کی۔

سابق فارین سیکرٹری اے پی وینکٹیشورن نے کہا کہ 'اگر واجپائی ایسا کرتے تو وہ چین کے ہاتھوں میں کھیلے جاتے دکھائی دیتے۔ جیسے ہی چین کو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ انھیں خوش کرنے کے لیے جھک رہے ہیں تو وہ اس کا فائدہ اٹھانے میں چوکتے نہیں ہیں۔'

لیکن فرنینڈس کے ایسا کرنے کے پیچھے ایک پس منظر ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہی اپنے کمیونسٹ مخالف خیالات کے لیے جانے جاتے رہے ہیں اور تبت اور میانمار کی جمہوریت کی حامی مہم کا انھوں نے تہہ دل سے ساتھ دیا۔

وزارت خارجہ کے ایک اور اہلکار نے اس موضوع پر وزیر دفاع اور وزیرا عظم کے دفاتر اور وزارت خارجہ کے درمیان جاری کشیدگی پر ایک دلچسپ بیان دیا 'پہلے تو آپ نے سوتے ہوئے ڈریگن کو جگایا۔ جب وہ جاگ گیا تو آپ نے اسے لال کپڑا دکھایا۔ اور جب ڈریگن آگ اگلنے لگا تو آپ بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔'

چین کی جانب سے ایک دلچسپ بیان اس وقت انسٹیٹیوٹ آف چائنیز سٹڈیز کے مشترکہ سربراہ پروفیسر ٹین چونگ کی جانب سے آیا تھا۔ انہوں نے کہا 'چینیوں کی یادداشت بہت اچھی ہے۔ انڈیا کے لوگ لاپرواہی سے بولتے ہیں، چین کے لوگ نہیں۔'