آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین: پاکستانی طالبعلم معزالدین کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر چینی شہری کو موت کی سزا سنا دی گئی
مشرقی چین کے صوبے جانگسو کی ایک عدالت نے چین میں مقیم پاکستانی طالبعلم کو قتل کرنے کے جرم میں ایک چینی شہری کو سزائے موت سنائی ہے۔
سزائے موت پانے والے شخص کو واردات کے بعد پناہ دینے پر اُن کی ایک دوست کو 17 ماہ قید کی سزا دی گئی ہے۔
پاکستانی شہری معزالدین نانجِنگ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ تقریباً دو برس قبل کونگ نامی ایک چینی باشندے نے انھیں معمولی تکرار کے بعد قتل کر دیا تھا۔
پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی نے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہے کہ قتل کی یہ واردات 11 جولائی 2018 کو اس وقت پیش آئی تھی جب ایک بازار سے گزرتے ہوئے کونگ کا سکوٹر معزالدین سے ٹکرایا تھا۔
اس پر ہونے والے جھگڑے کے دوران کونگ قریبی دکان سے چھری اٹھا لایا اور معزالدین کے سینے پر پے در پے وار کیے۔ پولیس کے مطابق اس حملے میں مقتول کے دل پر کاری وار پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ نانجنگ کی انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے کونگ کو سزائے موت سناتے وقت اِسے قتل عمد (جانتے بوجھتے قتل کرنا) قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ کونگ کو ایک بالغ شخص کی حیثیت سے معلوم ہونا چاہیے تھا کہ سینے اور پیٹھ میں چھری گھونپنا ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے، اس کے باوجود انھوں نے مقتول کے اعضائے رئیسہ پر پے در پے وار کیے۔
عدالت نے مزید کہا کہ کونگ کے طرز عمل سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے ہدف کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔
عدالت نے وکیل صفائی کے ان دلائل کو، کہ جھگڑا مقتول کی اشتعال انگیزی کی وجہ سے شروع ہوا تھا، عدم ثبوت کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔
واردات کے بعد کونگ اپنی دوست شاؤ کے گھر جا کر چھپ گئے تھے۔ تاہم پولیس نے آٹھ گھنٹے بعد دونوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ شاؤ کی عمر اس وقت 18 برس تھی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کونگ کو پناہ دیتے وقت شاؤ کو علم نہیں تھا کہ معزالدین ہلاک ہو چکے ہیں اس لیے وہ کم سزا کی مستحق ہیں۔ عدالت نے ایک مجرم کو پناہ دینے کے جرم میں شاؤ کو 17 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔