آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا میں لاک ڈاؤن: ایوانکا ٹرمپ کو سائیکل پر والد کو ہسپتال لے جانے والی لڑکی پر ٹویٹ مہنگی پڑ گئی
انڈیا میں جاری کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں کئی مزدوروں کی پریشان کُن کہانیوں کے درمیان ایک 15 سالہ لڑکی کی ایک ایسی کہانی سامنے آئی ہے جس نے لوگوں کی رائے کو تقسیم کر دیا ہے۔
لاک ڈاؤن کے باعث ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے جیوتی کماری تقریباً 1200 کلومیٹر کا فاصلہ سائیکل پر طے کرتے ہوئے اپنے زخمی والد کو دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں سے بہار کے ضلعے دربھنگہ لے گئیں۔
انڈین میڈیا میں ان پر کئی رپورٹس نظر آئیں اور بعض ناقدین مجبوری میں کیے جانے والے اس طویل سفر کو حکومت کی ناکامی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ حکومت نے صرف چار گھنٹے کی مہلت پر اچانک لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا جس کے بعد ہر طرح کی ٹرانسپورٹ کو بند کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بند ہو گئے، لوگوں کے روزگار چلے گئے، بھوکوں مرنے کی نوبت آ گئی اور 15 سالہ لڑکی جیوتی کی کہانی اسی قسم کی تمام تر مشکلات سے عبارت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی اور مشیر ایوانکا ٹرمپ نے بھی جیوتی کماری کو ٹوئٹر پر خراج تحسین پیش کیا۔
ایوانکا ٹرمپ نے ٹویٹ کیا: ’15 سالہ جیوتی اپنے زخمی والد کو لے کر 1200 کلو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ سائیکل پر طے کرتے ہوئے سات دنوں میں اپنے گاؤں پہنچیں۔ محبت اور لگن کی اس خوبصورت کوشش نے ہندوستانی عوام اور سائیکل فیڈریشن کا دل جیت لیا ہے۔‘
ایوانکا کی اس ٹویٹ کو ایک لاکھ سے زیادہ بار لائک کیا گیا جبکہ اسے تقریباً 30 ہزار بار ری ٹویٹ کیا گیا اور اس کے ساتھ انڈیا میں ٹوئٹر پر ایوانکا ٹرمپ ٹرینڈ بھی کرنے لگا۔
بہت سے لوگوں نے جہاں اسے سراہا وہیں بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ خوشی کا نہیں بلکہ دکھ کا مقام ہے کہ ایک لڑکی کو اتنا طویل فاصلہ زخمی باپ کو لے کر سائیکل پر طے کرنا پڑا۔
کسی نے لکھا کہ ’یہ کورونا کے زمانے میں دکھ اور تکلیف کی کہانی کو رومانوی بنانا ہے‘ تو کسی نے لکھا کہ ’مجبوری کو رومانوی رنگ نہ دیں۔‘
اس کارنامے کو ایوانکا کی جانب سے خوبصورت قرار دینے پر ایک صارف نے لکھا کہ یہ خوبصورت نہیں، بلکہ اس سے پتا چلتا ہے کہ حکومت کو غریبوں کو پسماندہ طبقے کی فکر نہیں ہے۔
ٹرو انڈین نامی ایک صارف نے ایوانکا کے جواب میں لکھا: 'ایوانکا بہنا، ہمارے یہاں روز ایسی جیوتی کماریاں بھوکے پیٹ، ننگے پاؤں، حاملہ مائیں، معذور خواتین اسی طرح سائیکل پر، پیدل چل کر اپنے گھروں کی جانب چلی جا رہی ہیں۔ مائیں (رستے میں) بچے پیدا کر رہی ہیں پھر بھی چلتی چلی جا رہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے یا افسوس کی۔‘
لیکن کچھ صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے ایوانکا کے پیغام کو ایک مثبت پیرائے میں دیکھا۔
پریا پٹیل نامی صارف نے لکھا کہ وہ صرف 15 سالہ لڑکی کی کاوش کی تعریف کر رہی تھیں۔ اور اس کے علاوہ انھوں نے انڈین لوگوں کی جفاکشی کی بھی تعریف کی ہے۔
دراصل جیوتی کے والد موہن پاسوان جو رکشہ چلاتے ہیں وہ چند ماہ قبل ایک حادثے میں زخمی ہو گئے۔ جیوتی مارچ میں ان کے لیے اپنے گھر سے گروگرام پہنچیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں بچا اور بھوکوں مرنے کی نوبت آ گئی۔ یہاں تک کہ مکان کا کرایہ بھی نہیں بچا تو انھوں نے قرض لے کر ایک سائیکل لی اور پھر اپنے والد کو پیچھے بٹھا کر عازم سفر ہوئیں۔
انھوں نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک دن میں 30 سے 40 کلو میٹر چلتیں اور کہیں کہیں انھیں کسی ٹرک سے لفٹ بھی مل جاتی جس کی وجہ سے وہ سات دنوں میں اپنے گاؤں پہنچیں جہاں انھیں فی الحال قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
انڈین خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈیا کی سائیکلنگ فیڈریشن کے چیئرمین اومکار سنگھ نے کہا ہے کہ جیوتی کماری آٹھویں جماعت کی طالبہ ہیں۔
اگر وہ ٹرائل میں پاس ہو جاتی ہیں تو ان کی آئی جی آئی سٹیڈیم میں نیشنل سائیکلنگ اکیڈمی میں تربیت ہوگی اور انھیں کوئی خرچ نہیں اٹھانا ہوگا۔ یہ اکیڈمی سپورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے تحت آتی ہے اور یہاں ایشیا کی انتہائی جدید اور بہتر سہولیات مہیا ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہم نے لڑکی سے بات کی ہے اور اسے بتایا ہے کہ اگلے ماہ جب لاک ڈاؤن ختم ہوتا ہے تو اسے دہلی بلایا جائے گا۔ اور رہائش اور خورد و نوش کے علاوہ سفر کے تمام اخراجات ہم لوگ اٹھائیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اگر ان کے ہمراہ کسی کو دہلی لانے کی ضرورت ہوئی تو اس کا انتظام بھی کیا جائے گا۔
اکیڈمی میں ان کی صلاحیت کو کمپیوٹر پر ماپا جائے گا اور پھر ان کی قسمت کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک شخص کی دوڑ کو دیکھتے ہوئے اسے یوسین بولٹ کہا گیا تھا لیکن ٹرائل میں انھوں نے ویسی کارکردگی نہیں دکھائی اور معاملہ سرد پڑ گیا۔