کورونا لاک ڈاؤن کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں صحافیوں کے خلاف مقدمات: ’ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم وائرس سے بچیں یا ایف آئی آر سے‘

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

ایسے وقت جب کورونا وائرس سے بچنے کے لیے دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاون ہے، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے صحافیوں کو نہ صرف وائرس سے بچنے کی فکر ہے بلکہ اُنھیں رپورٹنگ کرتے ہوئے اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے یہ خیال بھی رکھنا ہے کہ کہیں اُن پر وطن دشمنی کا الزام نہ عائد ہو جائے۔

گذشتہ تین روز کے دوران وادی سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کے خلاف انڈیا کے انسدادِ دہشت گردی قانون ’یو اے پی اے‘ کے تحت مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جس کے بعد کشمیر کے صحافتی حلقوں میں اضطراب اور تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔

پہلے موقر انڈین روزنامے ’دی ہندو‘ کے نامہ نگار عاشق پیرزادہ کو ان کے گھر سے 60 کلو میٹر دور لاک ڈاؤن کے دوران ایک تھانے میں طلب کیا گیا۔ انھوں نے ایک عسکریت پسند کے والدین کی جانب سے یہ اعترافی بیان رپورٹ کیا تھا کہ انتظامیہ نے جھڑپ میں مارے گئے اُن کے بیٹے کی لاش بارہ مولہ کے قبرستان سے واپس شوپیاں لانے کی اجازت دی ہے۔ مقامی ڈپٹی کمشنر کے ساتھ متواتر رابطہ کرنے کے باوجود اُنھیں انتظامیہ کا موقف نہیں مل پایا تھا۔

عاشق پیرزادہ کے مطابق ’60 کیا اگر 200 کلومیٹر کا سفر بھی کرنا پڑتا تو وہ مقدمے سے بہتر تھا کیونکہ اس قانون (انسدادِ دہشت گردی) کے تحت بغیر ضمانت سات سال کی قید ہوتی ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ طلبی ہی سزا ہے، سو میں نے اپنے دفاع میں دلائل دے دیے اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

لیکن 26 سالہ مسرت زہرا کے خلاف ’یو اے پی اے‘ کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اُنھیں منگل کو تھانے میں طلب کیا گیا اور چند گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد وہاں سے جانے دیا گیا۔ ان کی رہائی شاید اس لیے عمل میں آئی کیونکہ تب تک ایمنسٹی انٹرنیشنل، رپورٹرز وِد آوٹ بارڈرز اور بھارتی مدیروں کی انجمن ایڈیٹرز گِلڈ نے ان کی تھانے طلبی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مقدمہ خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے علاوہ پولیس نے معروف صحافی، مصنف اور تجزیہ کار گوہر گیلانی کی چند سوشل میڈیا پوسٹس کو ’وطن دشمن اور اشتعال انگیز‘ قرار دے کر اُن کے خلاف بھی اِسی قانون کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اِن مقدموں کے بعد صحافیوں، رضاکاروں، طلبا اور دیگر شہریوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی سائبر پولیس کے سربراہ طاہر اشرف بھٹی کے خلاف سوشل میڈیا پر سخت ردعمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

اُن کے ماضی میں کیے گئے وہ سبھی ٹویٹس منظر عام پر آ گئے جو انھوں نے کانگریس دورِ حکومت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کہ خلاف کیے تھے۔

ان ٹویٹس کے منظر عام پر آتے ہی طاہر بھٹی کو عہدے سے ہٹا کر اُن سے پوچھ گچھ شروع کی گئی۔ لیکن اس دوران سوشل میڈیا پر مقامی صحافیوں نے پولیس کی ایف ائی آر مہم کے خلاف مزاحمت شروع کر دی۔

’صحافت جُرم نہیں ہے‘ اور ’ایف آئی آر واپس لو‘ نامی ہیش ٹیگ انڈیا میں ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

گذشتہ برس ایک رپورٹ شائع کرنے کی پاداش میں تھانے میں طلب کیے گئے ہفت روزہ ’آوٹ لُک‘ کے نامہ نگار نصیر گنائی کہتے ہیں کہ ’ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم وائرس سے بچیں یا ایف آئی آر سے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ پہلے انٹرنیٹ پر پابندی سے صحافیوں کا کام مشکل بنا دیا گیا اور اب سوشل میڈیا پوسٹس کو وطن دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے گذشتہ برس اگست میں کشمیر کو انڈین وفاق میں پوری طرح ضم کیے جانے کے بعد قدغنوں اور حد بندیوں کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ ابھی جاری ہی تھا کہ مار چ میں کورونا لاک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ گذشتہ ڈیڑھ برس کے دوران متعدد صحافیوں کی تھانوں میں طلبی، گرفتاری اور مقدموں کی وجہ سے پہلے ہی یہاں کی صحافتی برادری عجیب اُلجھن کا شکار ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہم نے کبھی کسی صحافی کو یہ نہیں کہا کہ وہ کیا رپورٹ کرے۔ لیکن یہ سب آزادی، ملک کی سالمیت، سلامتی اور امن و قانون کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر کوئی سوشل میڈیا پر لوگوں کو اُکساتا ہے تو قانون اپنی کارروائی کرے گا۔‘

اس صورتحال پر آٹھ ماہ کی قید کے بعد رہا ہونے والے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ٹویٹ میں کہا کہ ’اگر مگر کچھ نہیں، صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر غلط ہے اور یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اگر یہاں کی صورتحال پر آپ کا موقف اس قدر کمزور ہے کہ اِن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرنا پڑ رہا ہے، تو کشمیر میں جو ہو رہا ہے یہ اس بارے میں زیادہ بتاتا ہے ناکہ جو کچھ اِن لوگوں نے لکھا ہو گا۔‘