آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: انڈین پنجاب میں کورونا کا ’سپر سپریڈر‘ کون تھا؟
بشن سنگھ (فرضی نام) سات مارچ کو یورپ سے انڈیا کی ریاست پنجاب میں اپنے گاؤں واپس آئے۔ وطن واپسی کے بعد جیسا کہ عام رواج ہے وہ گاؤں والوں، اہلِ محلہ اور اپنے دوستوں سے ملے مگر پھر ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور وہ فوت ہو گئے۔
ان کی ہلاکت کے بعد اب تک ان سے رابطے میں رہنے والے 23 افراد میں بھی اس وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور حکام کو خدشہ ہے کہ بشن سنگھ شاید ہزاروں دیگر لوگوں کو بھی اس وائرس سے متاثر کرنے کی وجہ بنے ہیں۔
جرمنی اور اٹلی کے دو ہفتے کے دورے کے بعد جب 70 سالہ بشن سنگھ سات مارچ کو گاؤں واپس آئے تو ان کے اہلخانہ اور دوست ان کا استقبال کرنے پہنچے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب یورپ میں کورونا اپنے پنجے گاڑ چکا تھا اور ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انڈیا واپسی پر بشن سنگھ اپنے گھر میں سیلف آئسولیشن اختیار کرتے۔
لیکن واپسی کے اگلے ہی دن انھوں نے اپنے دو دوستوں کے ساتھ ڈیڑھ گھنٹے کا سفر کیا اور 'ہولا محلہ' نامی سکھ میلے میں شرکت کے لیے آنند پور صاحب جا پہنچے۔ یہ وہ چھ روزہ سالانہ میلہ ہے جس میں روزانہ ہزاروں افراد شریک ہوتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بشن سنگھ کی واپسی کے چھ دن بعد 13 مارچ کو ملک کی شہری ہوا بازی کی وزارت نے ان کے غیر ملکی دورے کے بارے میں ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد ہی حکام نے انھیں زیرِ نگرانی رکھا۔ ابھی تک ان میں کورونا وائرس کی کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی تھی مگر پانچ دن بعد وہ فوت ہو گئے۔
بعدازاں انکشاف ہوا کہ بشن سنگھ دل کے مریض ہونے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس میں بھی مبتلا تھے اور ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا تھا۔
بشن سنگھ کی موت کے ایک ہفتے بعد ضلعے میں کورونا وائرس کے 19 مریض سامنے آ گئے اور یہ تمام افراد بشن سنگھ سے رابطے میں رہے تھے اور بیشتر ان کے کنبے کے افراد تھے۔
'سپر سپریڈر'
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک پنجاب میں کورونا کے جو 33 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے 23 لوگ وہ ہیں جو بشن سنگھ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ رابطے میں رہے تھے۔
بشن سنگھ کوویڈ ۔19 سے مرنے والے چوتھے انڈین تھے۔ ان کے علاوہ ریاست پنجاب میں اب تک صرف ایک ہی شخص اس بیماری سے ہلاک ہوا ہے۔
ریاستی حکام کے لیے ان کا انڈیا واپسی کے بعد میل جول تشویش کا ایک بڑا سبب بنا ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ بشن سنگھ ریاست میں اس وائرس کے 'سپر سپریڈر' ثابت ہو سکتے ہیں۔
سپر سپریڈر کیا ہوتا ہے؟
سپر سپریڈر ایک ایسی اصطلاح ہے جس کی کوئی قطعی سائنسی تعریف نہیں لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مریض جو کسی بھی بیماری سے زیادہ لوگوں کو متاثر کرتا ہے اسے سپر سپریڈر کہا جاتا ہے۔
نواں شہر کے ڈپٹی کمشنر ونے بلبانی نے بی بی سی پنجابی کے اروند چھابڑا کو بتایا کہ ’اب تک ہم ان کے ساتھ رابطے میں آنے والے 550 افراد کا پتا لگانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ تعداد اب بھی بڑھ رہی ہے۔ ہم نے 250 افراد کے ٹیسٹ کروائے ہیں۔ ان کے نتائج کے منتظر ہیں۔ ہم نے ان کے گاؤں کے آس پاس 15 دیہات سیل کر دیے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بشن سنگھ کے ساتھ رابطے میں آنے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ بتانا مشکل ہے کہ ان کے ساتھ رابطے میں آنے والے لوگوں کی اصل تعداد کیا ہے۔
بیس دیہات کی ناکہ بندی
بشن سنگھ کے کیس کے بعد ضلع ہوشیارپور کے پانچ قریبی دیہات کو بھی سیل کر دیا گیا۔ ان دیہات کی کل آبادی دس سے گیارہ ہزار کے درمیان تھی۔
جمعے کو بند کیے جانے والے دیہات کی تعداد 20 ہو گئی اور یوں ان کی 40 ہزار آبادی قرنطینہ میں چلی گئی۔
وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے منگل کو پورے ملک میں 21 دن کے لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد پنجاب میں پیر سے کرفیو کا سماں ہے۔ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ انڈیا میں اتنے بڑے پیمانے پر قرنطینے میں ڈالا ہو۔
شمالی ریاست راجستھان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے مشہور شہر بھیلواڑہ میں خدشہ ہے کہ ایک مریض سے متاثر ہونے والے ڈاکٹروں کے ایک گروہ نے سینکڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہو گا۔ اب اس شہر کے قریبی دیہات میں سات ہزار لوگوں کو اپنے اپنے گھروں میں قرنطینے میں رکھا گیا ہے۔
ہزاروں افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) آدتیہ اپل نے کہا ہے کہ 'جن دو افراد کے ساتھ بشن سنگھ جرمنی اور اٹلی گئے تھے وہ بھی کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔ وہ بھی اسی گاؤں کے رہائشی ہیں۔ بشن سنگھ جن کے میلے میں گئے ان میں بھی کورونا پایا گیا ہے۔‘
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ایک آدمی جو بشن سنگھ کے ساتھ گیا تھا وہ گاؤں کی پنچایت کا سربراہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہزاروں افراد بھی اس سے رابطے میں آئے ہوں گے۔ اے ڈی سی اپل نے بتایا 'ہم نے ان کے گاؤں کے سو سے زیادہ افراد کا ٹیسٹ کیا ہے اور ان کے نتائج کا انتظار ہے۔'
امید برقرار رکھیں
اس ساری غیر یقینی صورتحال کے درمیان، کچھ افسران کو لگتا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ نواں شہر کے ڈپٹی کمشنر ونے بابلانی کہتے ہیں 'اچھی خبر یہ ہے کہ کورونا وائرس کے ٹیسٹ میں منفی پائے جانے والے افراد کی تعداد مثبت پائے جانے والوں سے زیادہ ہے۔ نیز جو لوگ مثبت پائے گئے ان میں کوئی سنگین علامات نہیں دکھائی دیں۔ ہم بہت پرامید ہیں۔‘
خیال رہے کہ انڈیا میں کورونا ٹیسٹنگ کی شرح دنیا کی کم ترین شرحوں میں سے ہے مگر اسے بڑھانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یہ خدشات موجود ہیں کہ 1.3 ارب لوگوں کے ملک میں اگر وبا پھوٹ پڑی تو یہ ایک آفت ثابت ہوسکتی ہے۔