امریکہ، افغان طالبان امن معاہدہ: ’طالبان وفد رہائی سے قبل اپنے قیدیوں کی تصدیق کرے گا‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کے اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن اسی دوران طالبان نے کہا ہے کہ وہ پہلے افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے قیدیوں کی تصدیق کریں گے کہ کیا وہی قیدی رہا کیے جا رہے ہیں جن کی فہرست انھوں نے کابل انتظامیہ کو فراہم کی تھی۔

امریکہ نے معاہدے کے مطابق 10 مارچ سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کر دیا ہے جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی گذشتہ دنوں 1500 قیدیوں کی رہائی کی دستاویز پر دستخط کر دیے تھے۔

ان رہائی پانے والے 1500 طالبان قیدیوں سے تحریری طور پر یہ ضمانت لی جائے گی کہ آئندہ وہ کسی قسم کی جنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان اب کیا کہتے ہیں؟

قطر میں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی اردو کو ٹیلیفون پر بتایا کہ انھیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کابل انتظامیہ جن 1500 قیدیوں کو رہا کر رہی ہے وہ جرائم پیشہ افراد ہیں اور جو فہرست انھوں نے کابل انتظامیہ کو دی تھی، یہ وہ قیدی نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسی لیے انھوں نے ایک گرینڈ وفد تشکیل دیا ہے جو 34 افراد پر مشتمل ہے۔

سہیل شاہین کے مطابق اس وفد میں افغانستان کے تمام صوبوں سے ایک ایک نمائندہ لیا گیا ہے اور یہ وفد کابل انتظامیہ کی جانب سے رہا کیے جانے والے تمام قیدیوں کی تصدیق کرے گا اور اس کے بعد مزید پیشرفت ہو گی۔

واضح رہے کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ معاہدے کے بعد 5000 افراد کی ایک فہرست فراہم کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ ان افراد کو رہا کیا جائے۔ دوسری جانب افغان حکومت کی جانب سے بھی 1000 افراد کی ایک فہرست تیار کی گئی تھی۔

سہیل شاہین نے بتایا کہ افغان انتظامیہ کی جانب سے گذشتہ دنوں انھیں ایک فہرست موصول ہوئی ہے اور یہ فہرست ان افراد کی ہے جن کی رہائی کابل انتظامیہ چاہتی ہے اب وہ اس فہرست کا جائزہ لے رہے ہیں۔

’طالبان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تشدد کے واقعات میں کمی لائیں‘

افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے مطابق امریکہ نے 10 مارچ سے افغانستان سے اپنی فوجوں کا انخلا شروع کر دیا ہے اور اس دوران امریکہ کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان بین الافغان مذاکرات جلد شروع کریں۔

امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے گذشتہ روز اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کے مطابق 5000 تک قیدیوں کی رہائی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں اور رہائی کا یہ عمل سنیچر سے شروع ہو گا۔

اس ٹویٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ فریقین سے کہتے ہیں کہ وہ مزید پیشرفت کے لیے فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان نمایاں اقدامات کے باوجود طالبان کی جانب سے تشدد کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں اور وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ طالبان معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تشدد کے واقعات میں کمی لائیں گے تاکہ قیدیوں کی رہائی بہتر انداز میں مکمل ہو سکے۔

کیا افغان حکومت راضی ہے؟

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ڈیڑھ سال تک جاری رہے اور اس کے لیے متعدد اجلاس منعقد ہوئے لیکن ان مذاکرات میں افغان حکومت شامل نہیں تھی۔

افغان حکومت کو یہ اعتراض رہا ہے کہ اس کی مرضی اور شرکت کے بغیر مذاکرات اور پھر معاہدہ کیسے ہو سکتا ہے لیکن طالبان نہیں چاہتے تھے کہ افغان حکومت ان مذاکرات میں شامل ہو۔

قطر کے شہر دوحہ میں معاہدے پر دستخط کے دوران افغان حکومت کا ایک چھ رکنی وفد پہنچ گیا تھا اور یہ توقع کی جا رہی تھی کہ طالبان نمائندے اس وفد سے مذاکرات کریں گے لیکن طالبان نے مبینہ طور پر ان سے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔

افغان حکومت کے ذرائع نے بتایا تھا کہ ان مذاکرات میں کیا کچھ طے ہوا ہے اور کیا کچھ کرنا ہے، افغان حکومت اس سے لاعلم ہے تو ایسے میں وہ کیسے اور کن بنیادوں پر اس بارے میں طالبان سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ امریکہ کے کہنے پر افغان حکومت اب تک اس معاہدے کے بنیادی مطالبات پر عملد درآمد پر رضا مندی ظاہر کر رہی ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ افغان حکومت کے فوجی حکام شاید اس معاہدے کے حق میں نہ ہوں کیونکہ اس معاہدے کے بعد طالبان زیادہ مضبوط بن کر سامنے آئیں گے۔

معاہدے کے بنیادی نکات

قطر کے شہر دوحہ میں 29 فروری کو جس معاہدے پر دستخط کیے گئے اس کے تحت امریکہ 10 مارچ سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کرے گا، افغان طالبان کے 5000 قیدی رہا کیے جائیں گے اور اسی طرح طالبان کی تحویل میں موجود 1000 افراد کو رہا کیا جائے گا۔

اس دوران بین الافغان مذاکرات بھی شروع کیے جائیں گے اور یہ سارا عمل 14 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین امریکہ سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی اور یہ کہ طالبان افغانستان میں موجود القاعدہ اور داعش کی سرگرمیوں کو روکیں گے۔

افغان طالبان کے مطابق وہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں اور انھوں نے کابل انتظامیہ کے علاوہ دیگر تمام دھڑوں سے رابطے بھی کیے ہیں۔