آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#DelhiRiots: فرقہ وارانہ فسادات کے بعد دہلی میں پھیلنے والی افواہوں سے افرا تفری
انڈین دارالحکومت نئی دہلی فرقہ وارانہ فسادات کے بعد خوفزدہ ہے اور سہمی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ کچھ حد تک اتوار کی شام کو اڑنے والی افواہوں کے بعد ہوا اور دہلی کے وسیع تر علاقوں میں افرا تفری نظر آئی جس میں ایک شخص کی موت بھی ہو گئی۔
گذشتہ اتوار کو شہریت کے ترمیمی قانون کے مخالفین اور حامیان کے درمیان شروع ہونے والے فسادات نے دیکھتے ہی دیکھتے ہندو مسلم فساد کی شکل اختیار کر لی جس میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، دو سو سے زیادہ افراد زخمی ہیں، تقریبا ایک ہزار لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ شمال مشرقی علاقوں میں آتشزدگی میں بے حساب املاک کا نقصان ہوا ہے۔
دریں اثنا سوموار کو انڈیا کی عدالت عظمی نے دلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق متاثرین کی جانب سے دی جانے والی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
اس میں عرضی گزاروں نے بی جے پی رہنما کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور دیگر متعدد افراد پر مبینہ طور پر دلی میں تشدد بھڑکانے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرائے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے نے کہا کہ 'عدالت بھی امن چاہتی ہے لیکن اسے ان کے کام کرنے کی حدود کا علم ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عدالت صرف اس وقت حکم دے سکتی ہے جب کوئی واقعہ پیش آ چکا ہو۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت اب اس کیس کی سماعت چار مارچ بروز جمعہ کو کرے گی۔ خیال رہے کہ اسی قسم کی ایک درخواست دلی ہائی کورٹ میں بھی زیر التوا ہے جس پر اگلی سماعت 13 اپریل کو ہونی ہے۔
اس سے قبل ہائی کورٹ کے جس جج نے پولیس کو اب تک بی جے پی کے مذکورہ رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر نہ درج کیے جانے پر سخت و سست کہا تھا انھیں فوری طور پر تبدیل کرکے ہریانہ اور پنجاب ہائی کورٹ کا جج مقرر کر دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس نے کیا کہا؟
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے نے عرضی کو سماعت کے لیے قبول کرتے ہوئے کہا: 'ہمارا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مرنے دیا جائے۔ لیکن ہمارے پاس اس قسم کے دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔
'ہم واقعات کو رونما ہونے سے نہیں روک سکتے۔ ہم پہلے سے کوئی راحت نہیں دے سکتے۔ ہم ایک قسم کا دباؤ محسوس کرتے ہیں ۔۔۔ ہم کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد ہی صورتحال سے نمٹ سکتے ہیں، ہم پر اس قسم کا دباؤ ہوتا ہے۔ ہم اس کا سامنا نہیں کرسکتے ہیں۔'
'ایسا لگتا ہے جیسے عدالت ہی ذمہ دار ہے۔ ہم اخبار پڑھ رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ کس طرح کے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ جب کوئی واقعہ پیش آ جائے اس کے بعد ہی عدالتیں کچھ کر سکتی ہیں۔ عدالتیں ایسی چیزوں کو روک نہیں سکتی ہیں۔'
عرضی گزاروں کے مطالبات
سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں، اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کے علاوہ مزید کچھ احکامات دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
ان میں فسادات کی تحقیقات کے لیے دلی سے باہر کے افسروں پر مشتمل ایس آئی ٹی بنانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کی تعیناتی کی گذارش بھی شامل ہے۔
فساد میں پولیس اہلکاروں کے کردار کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ متاثرین کو معاوضہ دینے اور پولیس یا نیم فوجی دستوں کے ذریعہ گرفتار ہونے والوں کی فہرست کو عام کرنے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں نے حراست میں لیے گئے لوگوں کو قانونی امداد فراہم کرنے اور تشدد سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں وغیرہ میں پکا ہوا کھانا فراہم کرنے، فسادات سے متاثرہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کو محفوظ رکھنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹس جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ان کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات اور مجرمانہ سلوک کرنے والے پولیس اہلکاروں کی نشاندہی کی ذمہ داری ریٹائرڈ جج کے سپرد کی جانی چاہیے تاکہ ایسے لوگوں کو قانونی طور پر سروس سے برخاست کیا جا سکے۔
افواہیں، خوف اور مسافر کی موت
اتوار کی شام اچانک سات بجے گلی میں شور اور ہنگامے کی آواز آئی تو میں بالکنی پر نکل آیا۔ ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی، دکانوں کے شٹر گرائے جا رہے تھے۔ ہر کوئی ایک طرف کو بھاگ رہا تھا۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ دلی کے جنوب مشرقی علاقے جامعہ میں جہاں میری رہائش ہے وہاں بھی حملہ کردیا گیا لیکن مجھے کسی طرح یقین نہیں آیا۔ پھر میرے ایک دوست کا فون آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ گھر سے نیچے گلی میں اتر کر حالات کا جائزہ لے رہا ہے۔
میں نے ٹی وی آن کیا، چینل بدلتا رہا، تقریبا تمام نیوز چینل کھنگال دیے لیکن کوئی خبر نہیں۔ پھر ایک دوست کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ جیتپور کی جانب کچھ ہوا ہے اور جنوبی دلی میں ساکیت کے پاس ایک مسلم اکثریتی محلے حوض رانی میں کچھ ہو رہا ہے۔
میں نے حوض رانی میں رہنے والے اپنے رشتے دار کو فوری فون کیا اور حالات دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ وہاں ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ وہ ابھی وہیں ہے۔ میں نے کہا کہ کسی ناگہانی صورت حال میں وہ مجھے خبر دیتا رہے۔
جب نیچے آیا تو دیکھا کہ چند لڑکے بھاگ کر گلی میں داخل ہو رہے تھے۔ دوستوں نے انھیں روکا اور حال دریافت کیا۔ تھوڑی دیر بعد ماحول قدرے ٹھیک ہونے لگا۔ کچھ دکانوں کے شٹر اٹھ گئے اور لوگ ضروری اشیا کی خرید میں لگ گئے جہاں سب سے پہلے دودھ ختم ہوا۔
اسی دوران شمال مشرقی دلی کے نند نگری سے ایک دوست کا فون آیا کہ کیا وہاں بھی فساد ہو گیا ہے۔ میں نے بتایا شاید سب افواہ ہے۔
شاہین باغ اور جامعہ گذشتہ ڈھائی ماہ سے شہریت کے متنازع قانون کی مخالفت کی وجہ سے سرخیوں میں ہے۔ گذشتہ دنوں ہندو سینا نامی ایک انتہا پسند تنظیم کی جانب سے یکم مارچ کو مدن پور کھادر میں جمع ہونے اور وہاں سے شاہین باغ جا کر دھرنا ختم کرنے کی اپیل کی گئی تھی کیونکہ اس کے مطابق پولیس دھرنا ختم کرنے میں ناکام رہی تھی۔
ہر چند کہ وہ اپیل واپس لے لی گئی تھی لیکن پولیس نے شاہین باغ کے پاس دفعہ 144 لگا دی اور جنوب مشرقی دلی کے پولیس افسر نے کہا تھا کہ یہ دفعہ احتیاطی تدابیر کے طور پر لگائی گئی ہے۔
لوگوں میں پہلے سے ہی شمال مشرقی دلی کے فسادات اور پھر نئی اپیل کے تحت تشویش تھی کہ اس دوران اس افواہ نے لوگوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔
جامعہ کے علاقے کے حالات سے مطمئن ہوکر جب واپس کمرے میں آیا تو تمام تر نیوز چینل پر یہی خبر تھی اور پولیس کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا تھا کہ حالات پر امن ہیں اور کہیں بھی کوئی فساد نہیں ہو رہا ہے۔
اس دوران جامعہ نگر کے علاقے بٹلہ ہاؤس شاہ مسجد کے قریب مبینہ بھگدڑ میں ایک 28 سالہ شخص ہلاک ہو گیا۔
بی بی سی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ابوالفضل انکلیو میں قائم الشفا ہسپتال کے ترجمان سید محراب نے بتایا کہ کچھ لوگ حبیب اللہ کو ہسپتال لائے تھے تب تک ان کی موت ہو چکی تھی۔
سید محراب نے بتایا: ’ان لوگوں کو لے کر آنے والے لوگوں کے مطابق شام ساڑھے سات بجے سے ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان ،حبیب اللہ مسجد کے قریب بھگدڑ میں گر پڑے تھے۔ نامعلوم افراد وہاں سے انھیں ہسپتال لائے تھے۔ ان کے موبائل کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ وہ ریاست بہار کے دربھنگہ ضلعے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کنبہ بہار میں ہے۔ لیکن اس کے دور کے رشتے دار کی آمد کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا گیا۔‘
رات نو بجے کے بعد پورے علاقے میں سپیکر سے اعلان کیا گیا کہ صورت حال پر امن ہے اور افواہوں سے بچیں۔ اسی طرح کے اعلانات دوسرے مسلم محلوں میں مساجد سے بھی کیے گئے۔
اس سے قبل مغربی دلی میں فساد کی افواہوں کے پیش نظر دلی میٹرو نے کچھ دیر کے لیے تلک نگر، نانگلوئی، سورج مل سٹیڈیم، بدرپور، تغلق آباد، اتم نگر ویسٹ اور نوادا میٹرو سٹیشن بند کر دیے تھے۔ اس کی وجہ سے افواہ کو مزید تقویت ملی لیکن پھر فورا ہی دلی میٹرو نے تمام سٹیشنز کے معمول کے طور پر کام کرنے کا اعلان کر دیا۔
اس سے قبل سنیچر کے روز دلی کے کناٹ پلیس میں واقع راجیو میٹرو سٹیشن پر چند نوجوانوں نے ’اشتعال انگیز‘ نعرہ 'دیش کے غداروں کو گولی مارو ۔۔۔ کو‘ لگایا تھا۔ پولیس نے بعد میں کہا کہ ان میں سے کئی ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
دلی میں پولیس کی تمام تر اپیلوں کے باوجود حالات بہت نازک ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ ہر چند کہ امن کمیٹی بن رہی ہے اور ہندو مسلم اتحاد کی باتیں بھی ہو رہی ہیں لیکن زیادہ تر لوگوں کا بھروسہ ٹوٹا ہوا ہے۔