انڈیا: ملازم خواتین کو فٹنس ثابت کرنے کے لیے برہنہ کر کے ’حمل کے ٹیسٹ‘ کروانے کا انکشاف

سورت
،تصویر کا کیپشنخواتین کا الزام ہے کہ انھیں 10، 10 کے گروپس میں تقسیم کر کے ان کے 'فنگر ٹیسٹ' لیے گئے اور اس دوران انھیں ایک ساتھ کمرے میں برہنہ حالت میں کھڑے رہنے پر مجبور کیا گیا

انڈیا میں حکام ایسے دعوؤں کی تفتیش کر رہے ہیں جن میں درجنوں خواتین کے مطابق انھیں دفاتر یا کام کی جگہوں پر اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے نسوانی ٹیسٹ کروانے پر مجبور کیا گیا۔

گجرات کے شہر سورت میں خواتین، جو سرکاری ٹرینی کلرک ہیں، کا کہنا ہے کہ حمل کے لیے بھی انھیں چیک کیا گیا تھا۔

اس مبینہ واقعے سے متعلق سرکاری رپورٹ 15 دن میں متوقع ہے۔

یہ معاملہ گجرات ہوسٹل واقعے کے چند روز بعد ہی سامنے آیا ہے، جس میں ایک کالج کے ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیوں نے شکایت کی تھی کہ خاتون ٹیچروں نے یہ دیکھنے کے لیے ان کے کپڑے اتروائے کہ کہیں انھیں ماہواری تو نہیں آ رہی۔

68 لڑکیوں کو ان کی کلاس سے نکال کر ٹوائلٹ میں لے جایا گیا اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً کپڑے یہاں تک کہ زیر جامہ بھی اتروائے گئے تاکہ ان کی جانچ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

کامکس

،تصویر کا ذریعہMenstrupedia

،تصویر کا کیپشنخواتین کی یونین کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹیسٹوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن وہ ہسپتال میں استعمال کیے جانے والے 'انتہائی غیر مناسب' طریقوں کی مخالفت کرتی ہیں

تازہ شکایت جمعرات کو سورت میونسپل کارپوریشن (ایس ایم سی) کی ایک نجی یونین نے درج کی، جو ایک ایسا ادارہ ہے جہاں تقریباً خواتین کے 100 گروپ کام کرتے ہیں۔

یونین کے مطابق یہ واقعہ سورت میونسپل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (ایس ایم آئی ایم ای آر) یا سمیمر کے ایک سرکاری ہسپتال میں جسمانی ٹیسٹ کے دوران پیش آیا۔ یہ ٹیسٹ ہر اس شخص کے لیے ضروری ہیں جو اپنے تین سالہ آزمائشی وقت کے بعد بھی کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

خواتین کا الزام ہے کہ انھیں 10، 10 کے گروپس میں تقسیم کر کے ان کے 'فنگر ٹیسٹ' لیے گئے اور اس دوران انھیں ایک ساتھ کمرے میں برہنہ حالت میں کھڑے رہنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ ٹیسٹ خواتین ڈاکٹروں کے ذریعہ کیے گئے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کمرے کا دروازہ صحیح طور پر بند نہیں ہوا تھا اور وہاں صرف ایک پردہ ’وہ واحد چیز تھی جو باہر والوں کو اندر دیکھنے سے روک رہی تھی۔‘

خواتین کی یونین کا کہنا ہے کہ وہ ان ٹیسٹوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ ہسپتال میں استعمال کیے جانے والے ’انتہائی غیر مناسب‘ طریقوں کی مخالفت کرتی ہیں۔

ماہواری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنچند روز قبل انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے ایک کالج کے ہاسٹل میں رہنے والی لڑکیوں نے شکایت کی تھی کہ خاتون ٹیچروں نے یہ دیکھنے کے لیے ان کے کپڑے اتروائے کہ کہیں انھیں ماہواری تو نہیں آ رہی

یونین کے سربراہ احمد شیخ نے ٹائمز آف انڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’میں نے کہیں اور خواتین ملازمین کے ایسے ٹیسٹوں سے متعلق نہیں سنا ہے۔ اگر انھیں کسی ملازم کی صحت سے متعلق کوئی شبہ تھا تو انھیں قابلِ قبول انداز میں ٹیسٹ کروانا چاہیے تھے۔‘

بی بی سی گجراتی سروس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہسپتال کی ڈین وندنا دیسائی کا کہنا تھا کہ سورت میونسپل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نے آج تک بغیر کسی شکایت کے تقریبا 4000 ٹیسٹ کیے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فٹنس ٹیسٹ کے دوران ہم تمام قواعد پر عمل کریں گے تاکہ اس ٹیسٹ کے بارے میں کوئی شبہات باقی نہ رہیں۔‘

ایک نامعلوم سرکاری ملازم نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ اس نے لگ بھگ 20 سال قبل فٹنس ٹیسٹ کروایا تھا لیکن اس وقت اس ٹیسٹ میں نسوانی امراض سے متعلق کوئی ٹیسٹ شامل نہیں تھا۔

Dr Vandana Desai
،تصویر کا کیپشنہسپتال کی ڈین وندنا دیسائی کا کہنا تھا کہ سورت میونسپل انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نے آج تک بغیر کسی شکایت کے تقریبا 4000 ٹیسٹ کیے ہیں

سورت کے میونسپل کمشنر بنچھنیدھی پنی نے مبینہ واقعے کی تحقیقات اور رپورٹ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

شہر کے میئر جگدیش پٹیل نے پی ٹی آئی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ معاملہ ’انتہائی سنجیدہ‘ ہے۔

انھوں نے مزید کہا ’اگر خواتین عملہ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات سچ ثابت ہوئے تو ہم مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔‘