راجستھان: دلتوں کو پیٹ کر نازک حصوں پر پٹرول ڈال دیا

    • مصنف, نرائن باریٹھ
    • عہدہ, صحافی، جے پور راجستھان

انڈیا کی ریاست راجستھان میں ناگور ضلع کے کرنوں گاؤں میں دو دلت نوجوان کو محض شک کی بنیاد پر بہت بے رحمی سے پیٹا گیا اور ان کے اعضاء مخصوصہ پر پیٹرول بھی ڈالا گیا۔ انھیں اذیتیں دی گئیں اور اس پورے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی جس میں ملزمان کو مسکراتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

چار دن پرانے اس واقعے کی ویڈیو جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو سنسنی پھیل گئی۔ پولیس حرکت میں آئی اور جمعرات کو اس واقعے کی مخالفت میں دلت سماج کے لوگوں نے ناگور میں ایک بڑا مظاہرہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں اب تک سات افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور متاثرین ویسارام اور ان کے چچیرے بھائی پنا رام کا میڈیکل چیک اپ کروایا جا رہا ہے۔

دونوں دلت نوجونوں کا تعلق نائک برادری سے ہے۔ نائک سماج کے رہنما راکیش نائک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’ایسا سلوک تو جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ ہمارے لوگ احتجاج کررہے ہیں۔ ہمیں پورے سماج کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ ہم تب تک یہ لڑائی جاری رکھیں گے جب تک متاثرین کو انصاف نہیں ملتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

متاثرہ شخص ویسا رام نے پولیس کو تحریری طور پر یہ بتایا کہ ’16 فروری کو میں اپنے چچیرے بھائی کے ساتھ سروس سینٹر پر موٹر سائیکل کی سروس کرانے گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بھیو سنگ اور ان کے ساتھیوں نے ہمیں وہاں آ کر پیٹنا شروع کردیا۔ انھوں نے ہم پر پیسے چرانے کا الزام لگایا اور ہمارے ساتھ مار پیٹ کی۔‘

ویسا رام نے رپورٹ میں مزید لکھوایا ہے کہ ’ان لوگوں نے ان کے پرائیوٹ پارٹس (نازک حصوں) پر پٹرول ڈالا اور پیچ کس سے مخصوص اعضا کو چوٹ پہنچائی۔‘

ان کے چچیرے بھائی پنا رام نے صحافیوں کو بتایا ’بات 100 سے 200 روپے کی چوری کی ہو رہی تھی۔ اور اسی بات پر انھوں نے ایک گھنٹے تک ہماری پٹائی کی۔ وہ ہمیں تب تک مارتے رہے جب تک ہم بے ہوش نہیں ہوگئے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ویسا رام نے یہ بات قبول کی نشے کی حالت میں انھوں نے 100 روپے اٹھا لیے تھے۔

دونوں متاثرین قریبی علاقے سون نگر بھوجواس کے رہنے والے ہیں۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ پٹائی کرنے کے بعد ملزمان نے متاثرین کے گھر والوں کو فون کرکے انھیں وہاں سے لے جانے کے لیے کہا۔

متاثرینپولیس کے پاس نہیں گئے

کرنوں گاؤں کے تھانہ انچارج راج پال سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے میں اب تک سات لوگوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ریمانڈ کے دوران ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور متاثرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس واقعے کے بعد دونوں متاثرین سہمے ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد یہ دونوں پولیس کے پاس نہیں آئے تھے۔ لیکن جب ویڈیو شیئر ہونے لگی تو پولیس حرکت میں آئی اور رپورٹ درج کی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرے فریقین نے چوری کی رپورٹ درج کروائی ہے۔ بعض دلت تنظیمیں پانچوڑی کے تھانہ انچارج کے تبادلے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

دلتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن میدھ ونشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دلتوں پر مظالم کے معاملے میں ناگور ضلع پہلے بھی سرخیوں میں رہا ہے۔ اس سے قبل 2015 میں ایک معاملے میں گانڈاواس گاؤں میں ایک بڑا ہجوم اکٹھا ہوا تھا اور بھیڑ نے پانچ دلتوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے 40 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔‘

میدھ ونشی کہتے ہیں ’دلت اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے گانڈاواس کے متاثرین کے لیے انصاف کی لڑائی اپنے دم پر لڑی تھی۔‘

متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ

اس واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ریاستی حکومت کو فوراً کارروائی کرنے کو کہا ہے۔

راہل گاندھی نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’دلت نوجوانوں کے ساتھ ظالمانہ رویے کی ویڈیو دل دہلانے والی ہے۔ میں ریاستی حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ ملزموں کے خلاف فوراً کارروائی کی جائے۔‘

اس کے جواب میں ریاست کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ٹویٹ کیا ’اس معاملے پر فوراً کارروائی کی گئی ہے۔ سات افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور ملزمان کو قانون کے تحت سزا دی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ راجستھان میں کانگریس کی حکومت ہے۔

دلتوں کے خلاف ایسے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ انڈیا میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک لمبے عرصے سے دلتوں کے ساتھ ہونے والے امیتازی اور بعض اوقعات بے رحمی کے سلوک کے خلاف لڑائی لڑتی آ رہی ہیں۔