آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#coronavirus: کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کو باقاعدہ نام مل گیا
- مصنف, فرنینڈو دوارتے
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے جینیوا میں اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس سے لگنے والی بیماری کو باقاعدہ نام دے دیا گیا ہے۔ اب یہ بیماری 'کووِڈ 19' کہلائے گی۔
یاد رہے کہ لفظ کورونا وائرس دراصل اسے وائرس کے اس گروپ سے جوڑتا جس سے اس کا تعلق ہے۔ اس وائرس کو خود SARS-CoV-2 کہا جاتا ہے۔
ابھی تک کورونا وائرس سے دنیا بھر میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 40 ہزار متاثر ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد چین کے شہریوں کی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے چیف ڈاکٹر تیدروس ادہانوم گیبریئیسس کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ایک ایسا نام تلاش کرنا تھا جو کسی جغرافیائی مقام، یا کسی جانور، کسی شخص یا کسی گروہ سے اسے منسلک نہ کرے اور اس کا تلفظ آسان ہو اور اس بیماری کے متعلق بھی ہو۔‘
انھوں نے کہا کہ نام کا ہونا اس لیے اہم ہوتا ہے تاکہ دیگر غلط بیماریوں کا نام یا اس سے منسلک غلط تاثرات زیرِ استعمال نہ آئیں۔ اور اس کے ذریعے کورونا وائرس کے مستقبل میں ممکنہ پھیلاؤ کے لیے ایک سٹینڈرڈ بھی طے ہوگیا ہے۔‘
کووِڈ 19 نام کورونا، وائرس، اور ڈیزیئز کے الفاظ کا مرکب ہے اور 19 کا ہندسہ سنہ 2019 کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بچے بظاہر کورونا وائرس سے کیوں محفوظ؟
یہ خبر دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی کہ چین میں ایک نوزائیدہ بچے میں پیدائش کے 30 گھنٹے بعد کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس وقت تک 30 ممالک میں یہ سب سے کم عمر بچہ ہے جس میں اس وبا کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے واے مریضوں میں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔
حال ہی میں شعبہ طب سے متعلق ایک امریکی جریدے میں اس وبا کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے چین کے شہر ووہان کے جنائنتن ہسپتال میں مریضوں کا تجزیہ شامل ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق اس وبا سے متاثرین کی آدھی تعداد 40 سے 59 برس تک کی ہے۔ صرف دس فیصد تعداد ایسے افراد کی ہے جن کی عمر 39 سال سے کم بنتی ہے۔
اس تحقیق کے مطابق بچوں میں اس وبا کی تشخیص بہت کم ہوئی ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟
اگرچہ اس حوالے سے مختلف آراء ہیں لیکن ماہرین کے پاس اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ہے کہ آخر بچوں میں ایسے واقعات کم کیوں سامنے آئے ہیں۔
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے پروفیسر این جونز نے، جو مختلف طرح کے وائرس سے متعلق شعبے سے منسلک ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ بچے یا تو اس انفیکشن سے بالکل بچ جاتے ہیں یا پھر وہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو معمولی نوعیت کا مرض لاحق ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اکثر انھیں ڈاکٹر تک لے جانے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ ان میں بیماری کی وہ نشانیاں تک واضح نہیں ہو پاتی ہیں۔ اس طرح کے مقدمات جب ہسپتال تک نہیں پہنچتے تو ان کا اندراج بھی نہیں ہو پاتا۔
اس بات سے یونیورسٹی آف لندن کی پروفیسر نیتھائل میکڈرموٹ بھی متفق ہیں۔
ان کے خیال میں پانچ سال سے زائد اور بیس سال سے کم عمر کے بچوں میں ایسے وائرس کے خلاف قوت مدافعت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود بچے متاثر ہو سکتے ہیں لیکن یہ ممکن ہے کہ ان میں مرض کی وہ شدت نہ ہو یا اس کی نشانی تک بھی واضح نہ ہو سکے۔
اسی طرح جب چین میں 2003 میں سارس وائرس نے تباہی مچائی تھی جس میں آٹھ ہزار افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور دس فیصد یعنی آٹھ سو کی موت واقع ہوئی تھی۔ ان میں بھی بچوں کی تعداد بہت کم تھی۔
سنہ 2007 میں امریکہ میں عوامی صحت سے متعلق ایجنسی، سنٹر فار کنٹرول، کے ماہرین نے ایسے 135 کیسز کا پتا چلایا لیکن ان کے مطابق ان میں کسی بھی ایک بچے کی موت واقع نہیں ہوئی۔
کیا نئے سال کی چھٹیوں نے بچوں کو محفوط رکھا
میک ڈرموٹ کا خیال ہے بالغوں کے مقابلے بچے اس وائرس کی زد میں شاید اس لیے نہیں آئے کیونکہ جب یہ وائرس پھیلا اس وقت سکولوں کی چھٹیاں تھیں۔
چین کے تقریباً تمام قصبوں نے ان چھٹیوں کو فروری کے مہینے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اگر گھر میں کسی کو کرونا وائرس ہوتا ہے تو گھر کے بڑے بزرگ بچوں کو محفوظ رکھتے ہوئے انہیں دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری زیادہ پھیلتی ہے تو صورتِ حال تبدیل ہو سکتی ہے۔
کیا یہ وائرس بچوں سے زیادہ بڑوں کے لیے خطرناک ہے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ہی بچوں میں اس وائرس کی تصدیق کا یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ بچے اس سے متاثر نہیں ہو رہے۔ ہو سکتا ہے کہ حکام بچوں سے زیادہ بالغوں میں کروناوائرس کی تشخیص میں مصروف ہیں۔ یا پھر بچوں میں اس کی علامتیں بہت واضح نہیں ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن امپیریل کالج سے وابستہ کرسٹل ڈونلی کا کہنا ہے کہ ہانگ کانگ میں جو سارس وائرس پھیلا تھا اگر اس کی مثال لی جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ بیماری بچوں کو کو اتنی شدت سے متاثر نہیں کر رہی جتنی بالغوں کو۔
پہلے سے بیمار لوگوں کے لیے یہ وائرس خطرناک ہو سکتا ہے؟
ماہرین کا خیال ہے کہ ہہلے سے ہی ذیابیطس، امراض قلب یا دیگر امراض کے شکار لوگوں کی قوت مدافعت اس وائرس کے سامنے جواب دے سکتی ہے۔
بڑی عمر کے لوگوں کو خراب صحت کے سبب نمونیہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ ووہان کے ہسپتال میں اس وائرس کا شکار آدھے سے زیادہ لوگ پہلے سے طبی مسائل کا شکار تھے۔
کیا بچوں سے وائرس نہیں پھیلتا
ایان جونز کے مطابق نرسری میں کام کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ بچے بڑی آسانی سے وائرس کا شکار ہوتے ہیں اور دوسروں میں وائرس منتقل بھی کر سکتے ہیں اور کسی بھی وبا میں بچوں کی ہلاکت کا امکان زیادہ ہوتا ہے لیکن کورونا وائرس میں ایسا نہیں ہوا۔
حالیہ وبا کے مزید مطالعہ کے بعد ہی تصویر واضح ہو سکے گی۔
بچوں کے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بچوں کو سب سے علیحدہ رکھا گیا ہے، سکول بند ہیں اور والدین اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے یں لیکن جب بچے ایک بار پھر سکولوں میں واپس آئیں گے تو پوری یا صحیح صورتِ حال سامنے آئے گی۔