نئی دہلی میں ریاستی انتخابات: ’بدترین‘ انتخابی مہم کے بعد دلی کے انتخابات

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے ریاستی انتخابات کے سلسلے میں آج سنیچر کو صبح آٹھ بجے سے ووٹنگ جاری ہے اور صبح سے ہی لوگوں کی بڑی تعداد پولنگ بوتھ پر نظر آ رہی ہے۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ ووٹ ڈالے، ان کے علاوہ انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ووٹ ڈالے۔

انھوں نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں امید ہے کہ عوام کام کے نام پر ووٹ ڈالے گی اور عام آدمی پارٹی پھر سے حکومت بنائے گی۔

گذشتہ انتخابات کے نتیجے میں اس ریاست میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی (آپ پارٹی) اقتدار میں آئی تھی۔

اِن انتخابات میں نئی دہلی میں برسرِ اقتدار وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی کا مقابلہ انڈیا کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور حزب مخالف کانگریس سے ہے۔

ووٹنگ شام چھ بجے تک جاری رہے گی جبکہ ووٹوں کی گنتی 11 فروری یعنی منگل کو ہو گی۔

سنیچر کے روز صبح سے ہی دہلی کے پولنگ بوتھ پر گہما گہمی نظر آ رہی ہے۔ شکر پور کے ایم سی ڈی پرائمری سکول میں تو ایک دولھا پورے لباس میں ووٹ ڈالے پہنچا جس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

ووٹنگ سے قبل انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے جبکہ انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹویٹ کیا کہ 'دہلی کو صاف ہوا، پینے کا صاف پانی اور ہر غریب کو مکان دے کر، دنیا کا بہترین دارالحکومت صرف ایک دور اندیشی سوچ اور مضبوط ارادوں والی حکومت ہی بنا سکتی ہے۔'

انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ 'جھوٹ اور ووٹ بینک کی سیاست سے دلی کو آزاد کرنے کے لیے ووٹ دیں۔'

گذشتہ ریاستی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے بی جے پی اور کانگریس کو شکست دی تھی۔ عام آدمی پارٹی 70 رکنی ایوان میں 67سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی تھی جبکہ اس کی مخالف بی جے پی کو محض تین سیٹیں مل سکی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے عام آدمی پارٹی کا بی جے پی اور کانگریس سے سخت مقابلہ متوقع ہے۔

اروند کیجریوال نے ہسپتالوں کی تعمیر، سرکاری سکولوں کے نظام میں بہتری، غریب طبقے کو پانی اور بجلی کی مفت فراہمی اور شفاف نظام حکومت کو اپنی حالیہ انتخابی مہم کا مرکز بنایا ہے۔ اس کے برعکس بی جے پی کی انتحابی مہم بنیادی طور پر مسلم مخالف پہلوؤں پر مرکوز تھی اور اس کا محور شاہین باغ کا احتجاج تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے نفرت انگیز اور جارحانہ لب ولہجہ اختیار کرنے کے باعث موجودہ انتخابی مہم کو انڈیا کی تاریخ کی بدترین انتخابی مہم کے طور پر یاد رکھا جائے گی۔

بی جے پی کی انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر داخلہ امیت شاہ نے کی تھی۔

بی جے پی کے لیے دلی کا انتخابی معرکہ سر کرنا بہت ضروری ہے۔ گذشتہ کئی ریاستی انتخابات میں پے در پے شکست کے بعد دلی کی اہمیت بی جے پی کے لیے بہت بڑھ گئی ہے۔

گذشتہ انتخابات میں انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کی تھی۔ اس وقت ان کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی لیکن اس کے باوجود پارٹی کو شکست فاش کا سامنا ہوا تھا۔

دوسری جانب عام آدمی پارٹی نسبتاً ایک نئی پارٹی ہے اور یہ چند برس قبل بدعنوانی مخالف تحریک کے بطن سے وجود میں آئی تھی۔ دلی میں اقتدار میں آنے کے بعد اس پارٹی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو بہتر کیا اور اب عام آدمی پارٹی کو انڈیا کی سیاست میں ایک منظم ابھرتی ہوئی پارٹی کہا جاتا ہے۔

کانگریس پارٹی دلی کی تیسری سب سے بڑی پارٹی ہے۔

اس نے انتخابی مہم میں ریاست کی سابق مرحوم وزیر اعلی شیلا دکشت کے ترقیاتی کاموں کو اپنا محور بنایا تھا۔