آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر: قدغنوں کے چھ ماہ، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سیاست بی جے پی کی سرگرمیوں تک محدود
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
گذشتہ چھ ماہ پر محیط طویل قدغنوں اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تجارتی سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں مگر دوسری جانب وادی کا سیاسی منظر نامہ اب بھی ڈراؤنی خاموشی کی عکاسی کر رہا ہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں کے دفاتر گذشتہ چھ ماہ سے سنسان ہیں کیونکہ تین سابق وزرائے اعلٰی سمیت درجنوں سیاسی رہنما اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔ وادی میں سیاست صرف اور صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر عائد سخت ترین پابندیوں میں بھی کسی حد تک نرمی برتی گئی ہے جبکہ کشمیر کے ہزاروں طلبا اب نئے تعلیمی سال کے آغاز کا انتظار کر رہے ہیں۔
بی جے پی انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی میدان میں ’اکیلے کھلاڑی‘ کے طور پر اُبھر کر سامنے آنا چاہتی ہے اور اس کے مقامی رہنما اپنی جماعت کی جاری سیاسی سرگرمیوں کو عوامی بیداری کی مہم قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ہفتے وادی کے دورے پر آئے مرکزی وزیر اور بی جے پی کے رہنما مختار عباس نقوی نے سیاسی حالات سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب کچھ یوں دیا کہ ’ہم یہاں نہ کسی کی تنقید کرنے آئے ہیں نہ ہم اُس تنقید کا جواب دینے آئے ہیں جو ہمارے خلاف ہو رہی ہے۔ ہم لوگوں کی فلاح کے لیے سرگرم ہیں، لوگوں کے درمیان کام کر رہے ہیں اور مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔‘
کشمیر کی دیگر روایتی سیاسی جماعتوں کے جو رہنما آزاد ہیں اُنھیں قیادت سے رابطہ نہ ہونے کے باعث معلوم ہی نہیں کہ ان کا اور ان کی پارٹی کا مستقبل میں کیا لائحہ عمل ہو گا یا انھیں حال میں کیا کرنا ہے۔
کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے اسے دو مرکزی انتظام والے علاقوں میں تقسیم کرنے سے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
’اس صورتحال کے درمیان ہمیں اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اپنی قیادت سے رابطہ کرنا ہے جس کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، ایسے میں کیا سیاست ہو گی؟‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ انڈین حکومت کے کئی وزرا نے حالیہ دنوں میں کشمیر کا دورہ کر کے لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اُن کی بہتری کے لیے تھا۔
بعض لوگوں کو اُن فوائد کا انتظار ہے جن کا وعدہ انڈین حکومت بارہا کرتی رہی ہے اور اب بھی کر رہی ہے۔
ضلع گاندربل میں بی جے پی کے رہنما اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی ریلی میں شامل ہونے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ ’کشمیر کو جو زخم گذشتہ برس پانچ اگست کو لگا تھا اُس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ البتہ اگر حکومت کہتی ہے کہ ایسی ترقی ہو گی جو گذشتہ ستر برسوں میں نہیں ہوئی تو اب ہمیں انتظار ہے کہ ایسا کب ہو گا۔ اسی لیے میں نقوی صاحب کی بات سننے آیا ہوں۔‘
زیر حراست سیاسی رہنما اور سابق وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی کے سابق وزرا مظفرحُسین بیگ اور الطاف بخاری حالیہ صورتحال پر محبوبہ مفتی کے موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کئی بار یہ اشارے دے چکے ہیں کہ وہ نئی صورتحال کے تناظر میں سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار اعجاز ایوب کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں تھوپی گئی سیاست کے تمام تجربے ناکام ہو گئے ہیں۔ اگر واقعی حکومت امن عمل کو شروع کرنا چاہتی ہے تو اسے عوام دوست سیاسی عمل شروع کرنا ہو گا کیونکہ لوگ کبھی بھی تھوپی گئی سیاست پر اعتماد ظاہر نہیں کریں گے۔‘
گذشتہ چھ ماہ کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں نے قدغنوں کا بوجھ تو ڈھویا ہی ہے مگر وادی میں سیاسی عمل کے بھرپور واپسی کے آثار ابھی تک نظر نہیں آ رہے ہیں۔