آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#coronavirus: کورونا وائرس: چین کا امریکہ پر معاونت کرنے کے بجائے خوف پھیلانے کا الزام
چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا پر اپنے ردِعمل سے 'افراتفری' پھیلا رہا ہے۔
یہ الزام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے جمعے کو صحتِ عامہ کی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ گذشتہ دو ہفتوں میں چین جانے والے تمام غیر ملکی شہریوں کا اپنی سرزمین پر داخلہ بند کر دے گا۔
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چُنینگ نے کہا کہ امریکی اقدامات 'صرف خوف و ہراس پھیلائیں گے۔'
چین میں کورونا وائرس کے اب تک 17 ہزار کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔
مزید پڑھیے
چین نے اس کے علاوہ کیا کہا؟
پیر کو ایک نیوز بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ معاونت کی پیشکش کرنے کے بجائے خوف پھیلا رہا ہے، اور کہا کہ یہ چینی مسافروں پر سفری پابندیاں لگانے والا اور اپنے سفارتی اہلکاروں کو جُزوی طور پر وہاں سے نکالنے کا تجویز دینے والا پہلا ملک ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انھوں نے کہا کہ 'امریکہ جیسے ترقی یافتہ ممالک جن کے پاس وباؤں پر قابو پانے کی زبردست صلاحیت ہے، انھوں نے ہی عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے برعکس سخت تر پابندیاں لگانے میں پہل کی ہے۔'
امریکی پابندی کے تھوڑا بعد ہی آسٹریلیا اور چند دیگر ممالک نے بھی چینی مسافروں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
درحقیقت عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ سرحدیں بند کرنے سے اگر مسافر غیر قانونی طریقے سے ممالک میں داخل ہوں، تو وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آ سکتی ہے۔
اب تک چین میں اس وائرس سے 361 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
چین کے باہر اب تک اس کے 150 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ فلپائن میں ایک شخص کی ہلاکت ہوچکی ہے۔
امریکہ نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں؟
23 جنوری کو امریکہ نے ہوبائی صوبے کے شہر ووہان سے امریکہ کے تمام نان ایمرجنسی سفارتی اہلکاروں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔
وائرس کی ابتدا یہیں سے ہوئی تھی۔
ایک ہفتے سے بھی کم عرصے بعد اس نے چین میں امریکی حکومت کے نان ایمرجنسی اہلکاروں اور ان کے رشتے داروں کے رضاکارنہ انخلا کی اجازت دے دی۔
30 جنوری کو عالمی ادارہ صحت نے اس نئے وائرس کو صحتِ عامہ کی عالمی ایمرجنسی قرار دیا۔ اس کے بعد امریکہ نے چین میں تمام امریکی اہلکاروں کے 21 سال سے کم عمر کے بچوں کو چین سے نکلنے کا حکم دیا۔
ہوبائی صوبے جانے والے کسی بھی امریکی شہری کو امریکہ میں داخلے پر 14 دن قرنطینے میں رکھا جائے گا۔
کیا سفری پابندیاں فائدہ مند ہیں؟
عالمی طبی حکام نے سفری پابندیوں کی مخالفت کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایدھنوم نے جمعے کو کہا کہ 'سفری پابندیاں معلومات کے تبادلے اور طبی سپلائی چین میں رکاوٹ اور معیشت کو نقصان پہنچا کر اچھے سے زیادہ برا کر سکتی ہیں۔'
اس کے بجائے انھوں نے سرحدی چیک پوائنٹس پر سکریننگ کرنے کی تجویز دی ہے۔
چین سے باہر پہلی ہلاکت
اتوار کو فلپائن میں کورونا وائرس کے باعث ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جو چین سے باہر اب تک کی پہلی ہلاکت ہے۔
اس 44 سالہ شخص کا تعلق چین کے صوبہ ہوبائی کے شہر ووہان سے تھا جہاں اس وائرس کی سب سے پہلے تشخیص ہوئی تھی۔
چین میں صحت کے قومی کمیشن کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق ایسے لوگ جن میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان کے علاوہ اب 21558 افراد میں اس وائرس کے ہونے کا شبہ ہے، ایک لاکھ 52 ہزار سات سو کو ابھی طبی معائنے کے لیے رکھا گیا ہے جبکہ 475 افراد کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ چین سے باہر اب تک اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 150 ہو چکی ہے۔
کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 2003 میں پھیلنے والے سارس وائرس کی وبا کے باعث متاثر ہونے والے افراد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ سارس وائرس تقریباً ایک درجن ممالک میں پھیلا تھا۔ تاہم اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد قدرے کم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وائرس اتنا مہلک نہیں ہے۔
دوسری جانب چین میں اس وائرس سے نمٹنے کے لیے ووہان شہر کے وسط میں ایک نئے ہسپتال کا افتتاح کیا جائے گا۔
ہوئوشینشان نامی ہسپتال کی تعمیر صرف آٹھ روز میں مکمل کی گئی ہے اور یہ ایک ہزار بستروں پر محیط ہسپتال اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے جانے والا دوسرا ہسپتال ہے۔
ہمیں اس ہسپتال کے حوالے سے کیا معلوم ہے؟
چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق اتوار کے روز اس ہسپتال کی تعمیر مکمل کر لی گئی اور پیر کے روز اس کا افتتاح کر لیا جائے گا۔
مقامی ٹی وی کے مطابق 14 سو ایسے چینی آرمی کے طبی عملے کو ووہان کے اس نئے ہسپتال میں لایا جا رہا ہے جنھیں وبائی امراض سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے۔
لیشینشان میں ایک دوسرا ہسپتال بدھ کے روز کھولا جائے گا۔
خیال رہے کہ ہوبائی کے ہسپتال اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ہسپتال میں موجود عملے نے نیپیاں پہننا شروع کر دی ہیں کیونکہ ان کے پاس بیت الخلا استعمال کرنے کا وقت نہیں ہے۔
صوبہ ہوبائی کی موجودہ صورتحال
اس وقت صوبے کے ہسپتال ادویات اور دیگر ضروری سامان کی کمی سے بھی دوچار ہیں۔ ووہان چلڈرن ہسپتال نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ 'ہمارے پاس ادویات اور دیگر سامان کی کمی ہے، ہماری مدد کریں۔'
سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہسپتالوں کے باہر لمبی قطاریں لگی ہیں۔
ووہان میں ایک ویڈیو میں ایک شخص مقامی لہجے میں بات کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ڈاکٹروں تک پہنچنے کے لیے مریضوں کو کو کم از کم 10 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے اندازے کے مطابق کیسز کی کُل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلنے کے مرکز ووہان میں 75 ہزار سے زائد لوگ وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
اتوار کے روز حکومت نے معیشت میں 170 ارب ڈالر ڈالنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس وائرس سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹا جا سکے۔
برطانیہ کا کورونا ویکسین کی تیار کے لیے دو کروڑ پاؤنڈ کی امداد
دوسری جانب برطانیہ کی حکومت نے کورونا ویکسین تیار کرنے کے لیے دو کروڑ پاؤنڈ کی امداد کی ہے۔
برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ یہ رقم برطانیہ کو ایک نئی دوا بنانے میں مدد کرے گی۔
برطانیہ کی جانب سے یہ امداد وبائی امراض سے بچاؤ کے ادارے سی ای پی آئی کو دی جائے گی۔ سی ای پی آئی ایک عالمی ادارہ ہے جو اس قسم کی ویکسینز کو چھ سے آٹھ ماہ میں بنا سکتا ہے۔
سی ای پی آئی کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر رچرڈ ہیشیٹ کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اتنے کم عرصے میں ویکسین نہیں بنائے گئی۔
اگر بائیولوجسٹ کامیاب ہو بھی جاتے ہیں تو اس ویکسین کا تجربہ کرنے اور طبی اداروں سے اس ویکسین کو پاس کروانے اور دنیا بھر میں اسے بیچنے میں وقت لگے گا۔
ڈاکٹر ہیٹشیٹ کا کہنا ہے کہ 'اس ویکسین کو بنانے کے لیے ہمارے پاس انتہائی کم وقت ہے اور ویکسین بنانے کے شعبے میں اس سے قبل ایسا کبھی نہیں ہوا۔
'اس بات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اگر ہم کامیاب ہو بھی گئے، اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے، تو پھر بھی اس حوالے سے ہمیں مزید چیلنج درپیش ہوں گے۔‘
دیگر ممالک کا ردِعمل
امریکہ نے صحت عامہ کی غیر معمولی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے گذشتہ دو ہفتے میں چین میں رہنے والے غیرملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگائی ہے۔
صوبہ ہوبائی سے لوٹنے والے امریکی شہریوں اور رہائشیوں کو 14 روز کے لیے قرنطینہ یعنی علیحدگی میں رکھا جائے گا۔
چین کے باقی حصوں سے آنے والے افراد کو اتنے ہی عرصے کے لیے اپنی صحت کا جائزہ لینے کا کہا گیا ہے۔
امریکہ میں کُل کیسز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ پینٹاگون نے دیگر ممالک سے امریکہ آنے والے تقریباً 1000 افراد کے لیے قرنطینہ کا انتظام کیا ہے۔
کیلیفورنیا، کولوراڈو اور ٹیکساس کے چار عسکری بیسز میں 1000 کمرے بھی اسی مقصد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
آسٹریلیا نے بھی چین سے لوٹنے والے شہریوں کو دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ میں رکھنے کا کہا ہے جبکہ کئی حکومتوں نے چین سے اپنے شہریوں کو واپس بھی بلوایا ہے۔
ووہان سے واپس لائے جانے والے 300 انڈین شہری سنیچر کے روز دلی پہنچے جبکہ اسی روز 100 جرمن شہری بھی فرینکفرٹ واپس آئے۔
آنے والے دنوں میں تھائی لینڈ بھی ووہان سے اپنے شہریوں کو واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوو کے مطابق سوموار اور منگل کو روس صوبہ ہوبائی سے اپنے سینکڑوں شہریوں کو واپس بلائے گا۔ روس نے چینی شہریوں کے لیے ویزہ فری سیروسیاحت بھی روک دی ہے۔
دوسری جانب چین نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ ممبر ممالک سے ادویات کی فراہمی آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے۔