فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ ہندو مخالف کیسے ہو گئی؟

    • مصنف, اقبال احمد
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

ہندی کے مشہور ادیب، ناقد اور دانش ور ڈاکٹر نامور سنگھ (1926-2019) نے اوتار سنگھ سندھو عرف پاش (1950-1988) کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کہ پاش ایک ایسے شاعر تھے جن کو کسی کی بدعا لگی ہوئی تھی۔

’سب سے خطرناک ہے ہمارے سپنوں کا مر جانا‘ جیسی نظم لکھنے والے پاش پنجابی زبان کے ایک انقلابی شاعر تھے۔ امرتا پریتم کے بعد پاش دوسرے ایسے پنجابی شاعر ہیں جن کو ہندی والے بھی اتنا ہی سمجھتے اور عزت کرتے ہیں جتنا پنجابی والے۔

پاش نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ہلاکت (1984) کے بعد لکھا تھا ’آج اس کے شوک ( یعنی غم ) میں سارا دیش شریک ہے تو اس دیش سے میرا نام کاٹ دو۔ اگر اس کا کوئی بھارت ہے تو اس بھارت سے میرا نام کاٹ دو۔‘

یہ بھی پڑھیے

لیکن یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اندرا گاندھی کے بارے میں ایسی نظم لکھنے والے پاش کو 23 مارچ 1988 کو خالستانی شدت پسندوں نے گولی مار کر اس وقت ہلاک کر دیا جب وہ یہ نظم پڑھ رہے تھے۔ اس وقت ان کی عمر محض 38 برس تھی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر نامور سنگھ نے پاش کے بارے میں یہ بات کہی تھی کہ ان کو کسی کی بدعا لگی ہوئی تھی۔

پاش اور فیض

دراصل انڈیا میں ٹیکنالوجی کے سب سے باوقار اداروں میں سے ایک آئی آئی ٹی کانپور نے اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض (1984-1911) کی ایک بے حد مقبول نظم 'ہم دیکھیں گے' کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ تفتیش کرنے والی کمیٹی کو یہ طے کرنا ہے کہ ان کی یہ نظم ہندو مخالف ہے یا نہیں۔

انڈیا میں شہریت کے قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہو رہے ہیں۔ 15 دسمبر 2019 کو دلی کے جامعہ علاقے میں اس قانون کے خلاف مظاہرہ ہوا جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے بعض طلباء بھی شامل تھے۔ اس دوران پولیس نے یونیورسٹی کی لائبریری اور ہوسٹل میں زبردستی داخل ہوکر طلباء پر بے حد تشدد کیا۔

پولیس کی اس کارروائی کے بعد جامعہ کے طلباء کی حمایت میں نہ صرف پورے ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر نامور یونیورسٹیز جیسے آکسفورڈ، کیمبرج، ہارورڈ، اور نیویارک یونیورسٹی میں مظاہرے ہوئے۔

آئی آئی ٹی کی انتظامیہ نے تفتیش کا حکم کیوں دیا؟

جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں پولیس کی پرتشدد کارروائی کے بعد دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی طرح آئی آئی ٹی کانپور کے طلباء نے 17 دسمبر کو ادارے کے کمپاؤنڈ میں مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے دوران بعض طلباء نے فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے‘ گائی۔

انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر منندر اگروال کے مطابق اس کے بعد آئی آئی ٹی کے بعض طلباء نے ادارے کے ڈائریکٹر سے تحریری شکایت کی کہ مظاہرے کے دوران ہندو مخالف نظم پڑھی گئی ہے جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں لہذا ان طلباء کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے یہ نظم پڑھی ہے۔

اس شکایت کے موصول ہونے کے بعد ادارے نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو اس شکایت سے متعلق تفتیش کرے گی۔

اب یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ فیض ایک اعلانیہ کمیونسٹ تھے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم ’ہم دیکھیں گے‘ 1979 میں لکھی تھی۔ اس وقت انھوں نے یہ نظم پاکستان کے آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔

1984 میں فیض اس دنیا کو الوداع کہہ گئے اور 1986 میں لاہور کے الحمرہ آرٹس کونسل کے آڈیٹوریم میں گلوکارہ اقبال بانو (2009-1935) نے اس نظم کو گا کر اسے امر کر دیا۔

فوجی آمر کی مخالفت میں لکھی گئی نظم

واضح رہے کہ جنرل ضیاء کے دور میں پاکستانی خواتین کے ساڑھی پہننے پر پابندی تھی کیونکہ اسے غیر اسلامی قرار دیا گیا تھا۔ اقبال بانو نے فوجی آمریت کی مخالفت کرتے ہوئے سفید رنگ کی ساڑی پہن کر یہ نظم گائی۔ اس پروگرام کی ریکارڈنگ پاکستان سے سمگل کی گئی اور پھر دنیا تک یہ نظم پہنچی۔

ایک اعلانیہ کمیونسٹ کی ایک آمر کی مخالفت میں لکھی نظم کو آج بھارت میں بعض لوگ ہندو مخالف بتانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آئی آئی ٹی کی کمیٹی اپنے فیصلے میں کیا کہی گی یہ تو معلوم نہیں لیکن اس نظم کے خلاف تفتیش کا حکم دینا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارت میں جس نظریے کی سرکار بیٹھی ہے وہ اتنی ہے قدامت پسند ہے جتنی پاکستان کی اس وقت کی حکومت جب فیض نے ’ہم دیکھیں گے‘ لکھی تھی۔

صرف فیض ہی نہیں عالمی شہرت یافتہ تاریخ دان عرفان حبیب بھی اس وقت سرخیوں میں ہے۔

پروفیسر عرفان حبیب کے چاہنے والوں میں اب وہ بھی شریک ہوگئے جو کل تک ان کی مخالفت کرتے تھے۔

معاملہ یہ ہے کہ کیرل کے کننور یونیورسٹی میں 'انڈین ہسٹری کانگریس' کا سالانہ کونوکیشن ہو رہا تھا۔ کیرل کے گورنر بھی خصوصی مہمانوں میں شامل تھے۔

عارف محمد خان نے مولانا ابولکلام آزاد کے الفاظ میں کہا تھا ' ملک کا بٹوارہ گندگی بہا لے گیا لیکن کچھ گڑھے بچ گئے۔ جس میں پانی بچ گیا اور اب بدبو آرہی ہے۔‘

گورنر عارف محمد خان کے اس بیان پر سٹیج پر بیٹھے عرفان حبیب نے مخالفت کی۔ عارف محمد خان نے عرفان حبیب پر بدسلوکی کا الزام لگایا جبکہ عرفان حبیب نے گورنر پر مولانا ابوالکلام کو غلط 'کوٹ‘ کرنے اور مسلمانوں کے لیے نازبیہ زبان کا استمعال کرنے کا الزام عائد کیا۔

مسئلہ یہ نہیں ہے کہ گورنر نے مولانا ابوالکلام آزاد کو غلط کوٹ کیا یا گورنر کو بیچ میں روکتے ہوئے عرفان حبیب نے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پروفیسر عرفان حبیب اعلانیہ کمیونسٹ ہیں۔ یہاں تک کہ کارڈ ہولڈر کامریڈ ہیں۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قدامت پسندوں نے زندگی بھر ان کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ وہ کمیونسٹ ہیں اور اور ان کے ناقدین کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام مخالف ہیں۔

لیکن آج پروفیسر حبیب کے حمایتیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہوگئے ہیں جو کل تک انھیں اسلام مخالف بتاتے تھے۔

تو کیا اقتدار کی مخالفت کرنے والے پر بدعا ہوتی ہے؟

ان دنوں صرف فیض احمد فیض ہی نہیں پاکستان کے ایک اور عظیم شاعر حبیب جالب (1993-1928) بھی شہ سرخیوں میں ہیں۔ حبیب جالب کی ایک نظم ’دستور‘ ان دنوں انڈیا میں خوب پڑھی اور با آواز بلند پڑھی جا رہی ہے۔

1962 میں پاکستان کے اس وقت کے آمر جنرل ایوب خان نے ایک آئینی شک نافذ کی تھی جس کی مخالفت میں حبیب جالب نے یہ نظم لکھی تھی۔ اس نظم اور اپنی دیگر نظموں کے لیے وہ متعدد بار جیل بھی گئے۔

انڈیا میں شہریت کے قانون سے متعلق جتنے بھی مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں حبیب جالب کی نظم ’دستور‘ نہ صرف پڑھی جا رہی ہے بلکہ نظم کے بعض مشہور اشعار پوسٹروں اور بینروں پر دیکھے بھی جا سکتے ہیں۔

حبیب جالب کہتے تھے کہ دو ہی دربار ہوتے ہیں۔ ایک اقتدار کا دربار اور دوسرا عوام کا دربار۔ وہ خود کو عوام کا شاعر کہتے تھے اور انھیں اس بات پر بہت فخر تھا۔

نامور سنگھ نے پاش کے بارے میں صحیح کہا تھا کہ ان کو کسی کی بدعا لگی تھی کیونکہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی مخالفت کرنے والے ہر شاعر، ادیب، اور فن کار کو کسی کی بدعا ہی لگی ہوتی ہے۔