ایران میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج: ان مظاہروں میں اس مرتبہ کیا مختلف ہے؟

ایران میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف 15 نومبر کو شروع ہونے والے مظاہرے جلد ہی حکومت کی تبدیلی کے مطالبوں میں تبدیل ہو گئے۔

ملک بھر سے لوگ سڑکوں پر آ گئے اور ایران کے رہبر اعلیٰ کی تصاویر کو نذرِ آتش کرتے ہوئے انھیں ڈکٹیٹر قرار دیا۔

انٹرنیٹ کی تقریباً مکمل بندش کے باوجود درجنوں شہروں میں چھ دن کے پرتشدد مظاہرے جب ختم ہوئے تو اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق تقریباً 106 افراد ہلاک ہو گئے تھے مگر دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران نے اموات کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے اور غیر ملکی دشمنوں سے منسلک ’غنڈوں‘ کو ان مظاہروں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بھلے ہی اقوامِ متحدہ نے حکام پر زور دیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف آتشیں اسلحے کا استعمال نہ کیا جائے مگر فوٹیج میں بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ سکیورٹی فورسز مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کر رہی ہیں۔

20 نومبر تک ایک ہلاکت خیز کریک ڈاؤن کے بعد ایران کے صدر حسن روحانی نے ’دشمن‘ کے منصوبوں کے خلاف فتح کا اعلان کیا۔

مگر اس مرتبہ کیا مختلف ہے؟

بی بی سی کے ایک ماہرِ ایرانی امور کے مطابق ان مظاہروں میں جو مختلف بات ہے وہ ’شدید تشدد‘، وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ و جلاؤ گھیراؤ اور حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف ایک ظالمانہ کریک ڈاؤن شامل ہے۔‘

اس بارے میں علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ حکم یہ تھا کہ ’کوئی رحم نہ دکھایا جائے اور مظاہروں کو جس قدر جلد ہو سکے دبا دیا جائے جو کہ ہلاکتوں کے علاوہ ہزاروں گرفتاریوں کی بھی وجہ ہے۔‘

ماہرین یہ بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ مظاہرے صرف تہران تک نہیں بلکہ ملک بھر کے درجنوں شہروں اور قصبوں میں ہوئے۔

اس کے علاوہ یہ بظاہر ’بغیر رہنما کے تھے اور حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ ان میں متوسط طبقے کے افراد شریک ہوئے ہیں۔‘

کون مظاہرے کر رہا ہے؟

ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے بہت سارے معاشی مسائل ہیں۔ گوشت مہنگا ہے، مرغی مہنگی ہے، انڈے مہنگے ہیں، اور اب ایندھن بھی۔‘

اور بی بی سی کے ماہر اس سے اتفاق کرتے ہیں: ’ان مظاہروں کے پیچھے بنیادی قوت لوگوں کی بے چینی تھی۔‘

اور مظاہرے سب سے زیادہ اقتصادی طور پر محروم علاقوں سے شروع ہوئے جہاں سردیوں کے قریب آنے پر پیٹرول کی قیمتوں میں 200 فیصد اضافے پر غم و غصہ جلد ہی ملک بھر میں اور تمام سماجی طبقوں میں پھیل گیا۔

امریکہ کی جانب سے سنہ 2018 میں دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے ایران شدید اقتصادی دباؤ کا شکار ہے۔

یہاں افراطِ زر 40 فیصد اور بیروزگاری 15 فیصد ہے

مبصرین کے مطابق صدر روحانی ’اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے گئے کئی وعدے پورے نہیں کر سکے جن کی وجہ سے بدتر اقتصادی صورتحال اور سیاسی تبدیلی نہ ہونے پر شدید مایوسی اور غصے کو فروغ ملا ہے۔‘

اور بی بی سی کے ماہر کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی حمایت کچھ حصے تک گنوا چکے ہیں کیونکہ ’مڈل کلاس نے اس مایوسی کو غصے میں بدل کر مظاہروں میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔‘

لسانی اقلیتوں اور مرکزی حکومت کے درمیان تناؤ کی وجہ سے بھی ان علاقوں میں شورش میں مزید اضافہ ہوا ہے جو ایران سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں۔

انٹرنیٹ بلیک آؤٹ

بی بی سی کے ماہر کے مطابق سنیچر سے انٹرنیٹ کی بندش نے مظاہروں کے پھیلاؤ اور کریک ڈاؤن کے بعد کی صورتحال کی واضح تصویر جاننے میں مشکلات پیدا کی ہے۔

مگر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مدیر سمیع نژاد کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق کے مطابق ’ایران میں ہلاکتوں کی ایک لہر جاری ہے جس نے اب تک 21 شہروں میں 106 جانیں لی ہیں۔‘

مبصرین کے مطابق اس کے علاوہ مظاہرین کے لیے ایک دوسرے سے بات کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ ’رابطے شدید متاثر ہوئے ہیں، کوئی ہم آہنگی نہیں ہے اور اس حوالے سے بہت کم معلومات ہیں کہ مظاہرے کون منعقد کروا رہا ہے۔‘

بی بی سی کے ماہر کا کہنا ہے ’کچھ لوگ حکومتی کنٹرول سے بچنے کے لیے وی پی این سوفٹ ویئر کا استعمال کرتے ہیں تاکہ خفیہ طور پر ڈیٹا بھیجا اور وصول کیا جا سکے مگر اب کوئی بھی آن لائن نہیں جا سکتا۔ انٹرنیٹ تقریباً شٹ ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’واٹس ایپ بند ہے، دو سال قبل ٹیلی گرام بھی بند کر دیا گیا اور بلیک آؤٹ کی موجودہ وسعت سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام ٹیکنالوجی کی ایک نئی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔‘

اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ’لوگ کاغذ پر لکھے پیغامات اور نیوزلیٹر ایک دوسرے تک پہنچانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔‘

ایران میں اب کیا ہوگا؟

مظاہرے ختم ہوتے ہی حکومت اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لے آئی۔

صدر روحانی نے کہا ’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دشمن جو دو سال سے بھی زیادہ عرصے سے اس کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، شکست کھا چکے ہیں۔‘

یہ اب بھی غیر واضح ہے کہ اس شورش کے پیچھے کون تھا مگر صدر نے امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ ’ملک دشمن عناصر‘ کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اب سب کچھ معمول پر آ چکا ہے مگر وہاں سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق مظاہرے اب بھی ختم نہیں ہوئے ہیں۔

اور بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال کے سبب لوگوں کا غصہ جلد ہی ختم نہیں ہو گا۔