MosquesofIndia#: بابری مسجد کی یاد میں انڈیا کی مساجد ٹرینڈ کرنے لگیں

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

فریاد کی کوئی لے نہیں ہے

نالہ پابند نے نہیں ہے

مرزا اسد اللہ خان غالب کا یہ شعر انڈیا میں مسلمانوں کے احتجاج کے نئے طریقے کا غماز ہے۔ ٹوئٹر پر صبح صبح MosquesofIndia# یعنی انڈیا کی مساجد ٹرینڈ کر رہا تھا اور صارفین نے جتنی تعداد میں تصاویر ڈالیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت اور دیدہ زیب تصاویر جہاں اپنی فن تعمیر کی داد وصول کر رہی تھیں وہیں اپنے پس منظر کو بھی بیان کر رہی تھیں۔

اس ٹرینڈ کو شروع کرنے والی ارینا اکبر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بابری مسجد کے فیصلے کے بعد ہم بہت غمزدہ تھے تو ہمیں یہ خیال آیا کہ انڈیا کی مساجد کا ایک ہیش ٹیگ شروع کیا جائے۔'

یہ بھی پڑھیے

اپنے پہلے ٹویٹ میں ارینا اکبر نے اس ہیش ٹیگ کی تجویز پیش کی اور ٹوئٹر صارفین سے کہا کہ وہ انڈیا کے شہروں، قصبوں، گاؤں سے مساجد کی تصاویر شیئر کریں خواہ وہ تاریخ اور بڑی مساجد ہوں یا کہ چھوٹی اور سادہ کیونکہ مساجد تو عبادت گاہیں ہیں۔

انھوں نے اس کے ساتھ لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد کی تصویر شیئر کی اور اس کے بارے میں لکھا کہ اسے اورنگزیب نے تعمیر کرایا تھا اور یہ آج بھی موجود ہے۔

ان کے اس ہیش ٹیگ کے بعد لوگوں نے بڑی تعداد میں مساجد کی تصاویر پوسٹ کیں اور ان کے بارے میں لکھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صحافی ارینا اکبر نے کہا کہ انھیں یہ امید نہیں تھی کہ ان کی اس ٹویٹ کو اس قدر پزیرائی ملے گی اور وہ انڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں کئی گھنٹوں تک سرفہرست ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ صبح تک پہلے نمبر پر تھا لیکن اچانک وہ غائب ہو گیا ہے۔ وہ یہ اعتراف کرتی ہیں کہ ہیش ٹيگ کی عمر کم ہوتی ہے لیکن وہ اچانک غائب نہیں ہوتا اور وہ بھی ایسے کہ پہلے 20 میں بھی نہ ہو۔

بہر حال بہت سے صارفین نے ان کی اپیل پر لبیک کہا اور نادر تصاویر پوسٹ کیں۔ یہاں ہم ان کا سرسری نمونہ پیش کرتے ہیں:

ایک صارف نے کشمیر کی مسجد حضرت بل کی تصویر پیش کرتے ہوئے لکھا یہ کشمیر کی مسجد ہے نہ کہ انڈیا کی، کیونکہ کشمیر کبھی بھی انڈیا نہیں ہے، نہ تھا، نہ ہو گا۔

اوکیژنل ٹوٹ نامی ایک صارف نے جنوبی ہند کے شہر بنگلور کی خضریہ مسجد کی تصاویر پوسٹ کی اور اس کے ساتھ لکھا باہر کے صحن میں فوارہ ہے اور اس کی اصل عمارت صرف چار ستون پر ہے جو کہ گنبد کے نیچے ہے۔

رومیزکیو نامی ایک صارف نے شاہ ہمدان مسجد کی ایک تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سری نگر میں دریائے جہلم کے کنارے آباد یہ مسجد کشمیر کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔

اسے سب سے پہلے سلطان سکندر نے 1395 میں صوفی بزرگ علی ہمدان کے اعزاز میں تعمیر کروایا تھا۔ سنہ 1732 میں اس کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔

انھوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ ان کی تصویر نہیں ہے۔

مصعب قاضی نامی ایک صارف نے لکھا کہ انڈیا کے مغربی ساحل کوکن کی پٹی پر کئی خوبصورت مساجد ہیں۔ یہاں اسلام سب سے پہلے سنہ 636 میں پہنچا تھا۔ انھوں نے رتناگری ضلعے کی چند مساجد کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

سید اظہر نامی ٹوئٹر صارف نے جنوبی ریاست کرناٹک میں سریرنگاپٹنم قلعے کی تصویر پوسٹ کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ مسجد 'شیر میسور' ٹیپو سلطان کے عہد میں 1786-87 میں تعمیر کی گئی۔ یہ بنگلور دروازے کے پاس ہے اور اس کے دو مینار ہیں۔

بعض افراد نے ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کی پرانی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

ارینا اکبر نے بھی ایک تصویر شیئر کی ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ 'ایک زمانے کی بات ہے کہ ایک بابری مسجد تھی۔ یہ مسجد 1528 میں تعمیر کی گئی، 1949 میں اس کی توہین کی گئی، 1992 میں منہدم کر دی گئی لیکن یہ ہماری یادوں میں زندہ رہے گی۔'

پن ڈراپ وائلینس نامی ایک صارف نے ایک مسجد کی تصویر پوسٹ کی ہے اور اس کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ واحد مسجد ہے جسے بابر نے پانی پت میں ابراہیم لودھی کے خلاف فتح کے بعد بنوایا تھا۔ ایودھیا کی بابری مسجد تو ان کے ایک جنرل نے تعمیر کروائی تھی۔

جیف کم نامی ایک صارف نے ایک مسجد کے دروازے کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: ’یہ ایران نہیں ہے۔ یہ خوبصورت دروازہ آپ کو تہران کی گلیوں کی یاد دلا سکتا ہے لیکن یہ ایران نہیں ہے۔ یہ مغل مسجد ہے جو ممبئی میں ہے اور 1800 میں تعمیر کی گئی ہے۔‘

دی اورنگزیب نامی صارف نے علی عادل شاہ کی تعمیر کردہ جامع مسجد کی تصویر پوسٹ کی ہے جو کہ سنہ 1578 میں تعمیر کی گئی تھی اور اس کے ساتھ لکھا ہے ’میں نے یہاں دو سال نماز ادا کی ہے۔ الحمدللہ‘

گوتم نامی صارف نے لکھا کہ انھیں ’تمام مساجد میں گلابی مسجد پسند آئی۔ یہ مسجد مسحور کن طور پر اس وقت خوبصورت نظر آتی ہے جب اس کے پس منظر میں کالے بادل ہوں۔‘

ارینا اکبر نے بتایا انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کی اس تحریک میں غیرمسلموں نے بھی شرکت کی اور انھوں نے بھی تصاویر پوسٹ کیں۔

دی ادیب نامی صارف نے بدایوں کی جامع مسجد کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ تیسری قدیم ترین اور ملک کی دوسری سب سے بڑی مسجد ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس مسجد کا اندرونی حصہ کسی بھی مسجد سے بڑا ہے اور اس کا گنبد انڈیا کی کسی بھی مسجد کے گنبد سے بڑا ہے۔

زماں نامی ایک صارف نے گوا کی ایک مسجد کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ 'یہ صفا شاہوری مسجد ہے جو کہ گوا میں پونڈا کے مقام پر ہے اور اسے ابراہیم عادل شاہ نے سنہ 1560 میں تعمیر کروایا تھا۔'

بہت سے لوگوں نے دہلی کی جامع مسجد اور بھوپال کی جامع مسجد اور موتی مساجد کی تصاویر پوسٹ کی ہیں۔

احتشام نے کشمیر کی ایک مسجد کی تصویر پوسٹ کی ہے اور لکھا ہے کہ یہ پاتھر مسجد ملکہ نور جہاں نے تعمیر کروائی تھی اور یہ کشمیر کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہے۔

ارینا اکبر نے بتایا کہ ان مساجد کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ ہندوستان میں کتنا تنوع ہے، جتنا تنوع تہذیب و ثقافت میں ہے اتنا ہی مساجد کی فن تعمیر میں بھی ہے اور یہ مسلمانوں کا عظیم ورثہ ہے۔