آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی اور آسٹریلوی مغوی افغان طالبان کی قید سے رہا
افغان حکومت کی جانب سے انس حقانی سمیت تین طالبان جنگجوؤں کی رہائی کے بعد طالبان نے بھی دو غیرملکی مغویوں کو رہا کر دیا ہے۔
طالبان ذرائع کے مطابق امریکن یونیورسٹی آف افغانستان کے اساتذہ کیون کنگ نامی امریکی شہری اور آسٹریلیا کے ٹموتھی ویکس کو تین برس قبل کابل سے اغوا کیا گیا تھا اور انھیں منگل کو رہائی ملی ہے۔
اس سے قبل معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے طالبان رہنما افغانستان سے قطر پہنچے۔
افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے گذشتہ ہفتے دو غیر ملکی پروفیسروں کی رہائی کے بدلے میں افغان طالبان کے تین اہم قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اتوار کو افغانستان کے لیے امریکی سفیر جان باس نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ قیدیوں کے تبادلے کا عمل تعطل کا شکار ہے اور اس کی وجہ کابل اور صوبہ لوگر میں طالبان کی کارروائیاں ہیں۔
اس سے قبل اکتوبر میں بھی طالبان کے کئی سرکردہ کمانڈروں کی رہائی کے بدلے میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے تین انجینیئروں کو رہا کیا گیا تھا۔ رہائی پانے والے طالبان میں حقانی گروپ کے ایک رکن کے علاوہ مزید 10 اہم کمانڈر شامل تھے۔
حقانی نیٹ ورک افغان طالبان کا حصہ ہے اور یہ گروہ 1980 کی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف وجود میں آیا۔ امریکہ کی جانب سے اور پاکستان میں اس گروہ پر دہشتگردی کے الزامات میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انس حقانی کون ہیں؟
بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے طالبان کمانڈروں میں شامل انس حقانی کا شمار افغان طالبان کے نوجوان رہنماؤں میں ہوتا ہے۔
وہ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی المعروف ’خلیفہ صیب‘ کے چھوٹے بھائی ہیں۔
ان کی رہائی کے بعد حقانی نیٹ ورک ایک مرتبہ پھر عوام کی توجہ کا مرکز ہے اور بی بی سی نے اس حوالے سے ماہرین سے گفتگو کی ہے تاکہ انس حقانی کے بارے میں جانا جا سکے۔
پیدائش اور ابتدائی تعلیم
بین الاقوامی میڈیا سے وابستہ سینئیر صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق ’انس حقانی کی پیدائش پاکستان کی سابقہ قبائلی ایجنسی شمالی وزیرستان کے علاقے میرانشاہ میں ہوئی اور یہ وہ وقت تھا جب افغانستان میں افغان طالبان کی فتوحات کا سلسلہ جاری تھا تاہم ان کی طرف سے تاحال کابل پر قبضہ نہیں کیا گیا تھا‘۔
بتایا جاتا ہے کہ انس حقانی نے اپنی ابتدائی تعلیم میرانشاہ میں واقع ایک دینی مدرسے سے حاصل کی جو ان کے والد اور حقانی نیٹ ورک کے بانی رہنما مولانا جلال الدین حقانی نے ’افغان جہاد‘ کے دنوں میں قائم کیا تھا۔
انس حقانی کی عمر 26 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔
خلیجی ملک سے گرفتاری
سمیع یوسفزئی کے مطابق انس حقانی اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنے جب انھیں پہلی مرتبہ چار سال قبل خلیجی ریاست بحرین سے گرفتار کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے کچھ وقت کے لیے انھیں متحدہ عرب امارات میں رکھا اور بعد میں انھیں افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا جس کے بعد سے وہ کابل کے بگرام ایئر بیس میں قید تھے۔
حقانی نیٹ ورک کے بانی مولوی جلال الدین حقانی کی ایک اہلیہ افغان شہری تھیں جبکہ دوسری بیوی کا تعلق ایک عرب ملک سے بتایا جاتا ہے۔
اپنی افغان بیوی سے ان کے آٹھ بیٹے پیدا ہوئے جس میں انس حقانی بھی شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جلال الدین حقانی کے آٹھ بیٹوں میں سے چار بیٹے افغانستان اور پاکستان میں مختلف کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چار بیٹے زندہ ہیں جس میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں۔
افغانستان کی بگرام جیل میں
سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’جب انس حقانی جیل میں تھے تو ان کی والدہ انھیں بہت زیادہ یاد کیا کرتی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ انس حقانی بگرام جیل سے باقاعدگی سے اپنے گھر خطوط بھی بھیجتے رہے ہیں تاہم خاندان کے کسی فرد نے کبھی ان خطوط کو کھولا اور نہ کبھی ہاتھ لگایا، بلکہ دور سے ہی خط کی تصویر لے کر انھیں واپس کردیا جاتا تھا‘۔
ایسا کرنے کی وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ ’چونکہ حقانی نیٹ ورک کے تمام افراد گزشتہ کئی برسوں سے روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں، لہٰذا انھیں یہ خدشہ تھا کہ خط کے ساتھ کچھ ایسا منسلک نہ کیا گیا ہو جس سے ان کے مقام کا علم ہوجائے‘۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’انس حقانی اپنی کم عمری اور اپنے بڑے بھائی کی موجودگی کی وجہ سے کبھی باقاعدہ طور پر شدت پسندی یا جنگی کارروائیوں کا حصہ نہیں رہے بلکہ وہ بیشتر اوقات خاندانی تجارت سے منسلک رہے ہیں‘۔
تاہم افغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ انس حقانی اپنے والد کی قائم کردہ جنگجو تنظیم کے لیے خلیجی ممالک سے رقوم اکٹھی کرنے میں ملوث رہے ہیں۔
افغان خبر رساں ادارے افغان اسلامک پریس (اے آئی پی) کے نمائندے اسماعیل عندلیپ کا کہنا ہے کہ ’گرفتاری سے پہلے کوئی انس حقانی کو جانتا بھی نہیں تھا کیونکہ شدت پسند کارروائیوں میں کبھی ان کا نام سامنے نہیں آیا‘۔
تاہم انھوں نے کہا کہ ان کو اس وقت اہمیت حاصل ہوئی جب طالبان کی طرف سے ان کا نام قطر دفتر کی مذاکراتی ٹیم میں باقاعدہ طور پر شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
اس سال فروری میں طالبان کے قطر میں موجود سیاسی دفتر کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر کے سپرد کی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ طالبان کی طرف سے 14 رکنی ٹیم کا اعلان کیا گیا جس میں انس حقانی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ وہ افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے سب سے کم عمر ممبر بتائے جاتے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ رہائی کے بعد انس حقانی قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے جہاں وہ امریکہ کے ساتھ اگلے مرحلے میں طالبان مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔
افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کو فریقین کے مابین اعتماد سازی کے لیے بہتر قرار دیا جا رہا ہے۔
افغان حکومت کو رواں سال کے آغاز میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
مگر صدر ٹرمپ نے ستمبر میں اس کوشش کو 'مردہ' قرار دیتے ہوئے امریکہ میں کیمپ ڈیوڈ میں طالبان وفد سے ملاقات کے منصوبے کو منسوخ کر دیا تھا۔
افغان فورسز نے 2014 سے انس حقانی کو اپنی قید میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے بڑے بھائی سراج الدین فی الوقت حقانی نیٹ ورک کی قیادت کر رہے ہیں اور طالبان کے ڈپٹی سربراہ ہیں۔
افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ نگار طاہر خان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے سے بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات کے لیے پھر سے راہ ہموار ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے جو رواں سال ستمبر میں تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری کشیدگی کی صورتحال میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔
صحافی سمیع یوسفزئی بھی اس نظریے سے اتفاق کرتے ہیں۔
ان کے مطابق ’قیدیوں کی رہائی بظاہر تمام فریقین کے لیے کامیابی قرار دی جارہی ہے کیونکہ اس میں امریکہ اور طالبان کے لوگ رہا ہوئے ہیں جس سے امید ہے کہ دونوں فریقوں کے مابین کشیدگی میں کمی آئے گی۔‘