انڈیا: دہلی میں شدید سموگ کے باعث سکولوں میں لاکھوں ماسک تقسیم

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے سکولوں شدید فضائی آلودگی کے نتیجے میں 50 لاکھ ماسک تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

دہلی میں فضا کے زہریلے ہونے کی وجہ سے حکام طبی ایمرجنسی نافذ کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کردہ ایک پینل نے شہر اور دو پڑوسی ریاستوں پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں کیونکہ فضا کا معیار 'خطرناک' حد تک گر چکا ہے۔

دارالحکومت میں فضا میں موجود ذرات کی مقدار عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مقرر کردہ معیار سے تقریباً 20 گنا زیادہ ہے۔

شہر کے سکول بھی کم از کم منگل تک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

شہر میں تمام تعمیراتی کاموں اور آتش بازیوں پر ایک ہفتے کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پیر سے شہر میں ایک نئی عارضی سکیم شروع کی جا رہی ہے جس کے تحت کسی بھی دن صرف طاق یا جفت اعداد کی حامل نمبر پلیٹوں والی گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت ہوگی۔

حکام کے مطابق یہ اقدام ٹریفک سے پیدا ہونے والی آلودگی کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروِند کیجریوال نے کہا ہے کہ شہر 'گیس چیمبر' میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ماسک طلبا اور ان کے والدین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں اور اروِند کیجریوال نے عوام پر زور دیا ہے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔

پھیپھڑوں میں داخل ہوجانے والے ٹھوس، خوردبینی ذرات (جنھیں پی ایم 2.5 بھی کہا جاتا ہے) شہر میں 533 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کے حساب سے موجود ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق پی ایم 2.5 کی سطح 24 گھنٹوں میں اوسطاً 25 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر سے زیادہ نہیں ہونے چاہیئں۔

آلودگی کتنی زیادہ ہے؟

جب سموگ کی گہری سفید چادر نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا تو شہریوں نے ارد گرد کی تصاویر ٹویٹ کرنی شروع کیں۔

جرمن چانسلر اینگلا مرکل کے سرکاری دورے کی تصاویر میں صدارتی محل میں سموگ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی مگر دونوں ہی رہنماؤں نے طبی ایمرجنسی کو نظرانداز کرتے ہوئے ماسک پہننے سے اجتناب کیا۔

کچھ ملازمین کو کہا گیا کہ وہ آلودگی سے بچنے کے لیے گھر سے کام کریں۔

شہر بھر سے سینکڑوں ملازمین رکھنے والی مارکیٹ ریسرچ فرم کینٹار کے ایک اکاؤنٹ ڈائریکٹر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سٹاف کو پیر کے روز چھٹی کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

کئی مقامی رہائشی اس بات پر غصے میں ہیں کہ صورتحال کیوں سال در سال بگڑتی جا رہی ہے۔

میونسپل ورکرز اور خطرے کے شکار افراد کو اعلیٰ درجے کے ہزاروں N95 ماسکس مفت میں دیے گئے ہیں۔

ایک شہری نے کہا کہ 'مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ صورتحال اتنی خراب ہوجائے گی۔ کیا ہم واقعی اپنے بچوں کی پرورش اس ماحول میں چاہتے ہیں؟ کسی کو فکر نہیں ہے۔ کوئی بھی صورتحال بہتر نہیں بنانا چاہتا۔'

ٹوئٹر پر DelhiAirQuality# اور FightAgainstDelhiPollution# ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

گہری سموگ نے انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ مقابلے کے حوالے سے بھی خدشات کو جنم دیا تھا۔ 2017 میں ایسی ہی آلودگی کے حالات میں میچ کے دوران سری لنکن کھلاڑیوں نے پچ پر الٹیاں کیں تھیں۔

مگر بنگلہ دیش کے کوچ نے کہا کہ کھلاڑیوں کی 'آنکھوں میں جلن' اور خراب گلے کے باوجود کھیل شیڈول کے مطابق ہوگا۔

رسل ڈومینگو نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'کوئی مر نہیں رہا۔'

'دیکھیں، کچھ آلودگی بنگلہ دیش میں بھی ہے اس لیے یہ دوسرے ممالک کے برعکس کوئی بڑی پریشانی نہیں ہے۔ کھلاڑی کھیل رہے ہیں اور انھوں نے اس کے متعلق زیادہ شکایت نہیں کی ہے۔'

آلودگی اس قدر شدید کیوں ہے؟

ہر سال نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں فضائی معیار میں خرابی کی بنیادی وجہ پنجاب اور ہریانہ کی پڑوسی ریاستوں کے کسانوں کی جانب سے اپنے کھیت صاف کرنے کے لیے بھوسا جلانا ہے۔ صورتحال میں مزید خرابی ہندو مذہب کے تہوار دیوالی پر ہونے والی آتش بازی سے ہوتی ہے۔

دیگر وجوہات مثلاً تعمیراتی غبار، فیکٹریوں اور گاڑیوں کا دھواں بھی وجوہات میں شامل ہیں مگر پھر بھی سب سے بڑی وجہ کھیتوں میں لگائی جانے والی آگ ہوتی ہیں۔

شمالی انڈیا میں ہر سال موسمِ سرما میں 80 ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر 20 لاکھ سے زائد کسان فصلوں کی دو کروڑ 30 لاکھ ٹن باقیات جلاتے ہیں۔

اس آگ سے اٹھنے والا دھواں خوردبینی ذرات، کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کا زہریلا مرکب ہوتا ہے۔

سیٹلائٹ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2012 سے 2016 کے درمیان دہلی کی نصف سے زائد فضائی آلودگی بھوسا جلانے کی وجہ سے تھی۔

یہ آگ اتنے بڑے پیمانے پر لگائی جاتی ہے کہ یہ امریکی خلائی ادارے ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر میں بھی نظر آتی ہے۔

پی ایم 2.5 ذرات کیا ہوتے ہیں؟

  • پارٹیکیولیٹ میٹر یا پی ایم 2.5 آلودگی کی ایک قسم ہے جو 2.5 مائیکرو میٹر سے بھی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔
  • ایک دوسری قسم پی ایم 10 اس سے زیادہ موٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جو 10 مائیکرو میٹر تک حجم کے ہوسکتے ہیں۔
  • کچھ ذرات قدرتی طور پر یعنی گرد کے طوفان یا جنگل کی آگ سے پیدا ہوتے ہیں جبکہ کچھ انسانوں کی صنعتی سرگرمیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔
  • اس میں اکثر اتنے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ کچھ غیر معمولی کیسز میں یہ خون تک میں شامل ہوجاتے ہیں۔