آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران: ’سعودی عرب، متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں‘
ایرانی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تہران کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے اپنے رویے میں تبدیلی لائے ہیں۔
ایرانی صدر حسن روحانی کے چیف آف سٹاف محمود ویزی نے فارس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے پہل کی ہے۔
’اب ایران کے یو اے ای کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور اب اہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب کے لب و لہجے میں بھی تبدیلی آئی ہے۔‘
ویزی کے مطابق ایران پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے تاہم انھوں نے امریکہ پر کسی قسم کا اعتبار کرنے کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ خطے کے ممالک کا حامی نہیں ہے اور بہتر ہو گا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک ایک دوسرے کے مفادات کا خود خیال رکھیں۔
نیوز ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کی ایک خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر تہنون بن زید نے گذشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایران کا دورہ کیا۔ تاہم ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ویزی کا مزید کہنا تھا کہ اگر یورپ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ بھی گیا تو اس صورت میں بھی ایران عالمی طاقتوں پر سنہ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے پر عملدرآمد کرنے سے متعلق زور دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے معاہدے سے متعلق اقدامات کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا تہران کو معاہدے کے چوتھے مرحلے پر عمل کرتے ہوئے اپنا جوہری پروگرام مزید آگے بڑھانا چاہیے یا پھر ایسا نہ کیا جائے۔
ایران نے چھ نومبر کو دھمکی دی تھی کہ اگر یورپی یونین ایران کے تیل کے ذخائر اور بینکنگ سیکٹر کو امریکی پاپندیوں سے محفوظ نہیں رکھے گا تو تہران بھی اپنے وعدے پر قائم نہیں رہ سکے گا۔
ایرانی صدر کی تصدیق
ایرانی صدر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کچھ عرصے سے ایران اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
ایرانی صدر حسن روحانی نے تہران میں 14 اکتوبر کو ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے یو اے ای کے مشیر قومی سلامتی کے دورۂ ایران کی اس طرح تصدیق کی: 'جی ہاں یہ بات درست ہے کہ گذشتہ چند ماہ میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ کچھ رابطے ہوئے ہیں۔ کچھ اماراتی اہلکاروں نے ایران کا دورہ کیا جبکہ کچھ ایرانی اہلکار امارات بھی گئے۔‘
پاکستان کی کوششیں
صدر روحانی نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ ’پاکستان کے قابل احترام وزیراعظم عمران خان کے ایران کے دورے کا مقصد ہمیں خطے کے مسائل مل کر حل کرنے سے متعلق آمادہ کرنا تھا۔ وہ جلد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور ہم ان کے خیالات سننے کے خواہاں ہیں۔‘
عمران خان 13 اکتوبر کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنی سے بھی ملے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے خیال میں عمران خان نے یمن مسئلے کے حل کے لیے بھی کوشش کی جو ایک ایسا مسئلہ ہے جو خطے کے امور اور ایران اور سعودی عرب کے تنازعات کے حل سے جڑا ہے۔‘
ایرانی صدر کے مطابق اگر یمن میں جنگ بندی ہوتی ہے اور سعودی عرب جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیتا ہے تو ایسی صورت میں خطے میں ایک اہم مسئلہ حل ہو جائے گا اور یہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کا سبب بھی بن جائے گا۔
’ہم کبھی بھی اپنے ہمسائیوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات نہیں رکھنا چاہتے۔ ہم ہمیشہ سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔‘
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے ہوپ کولیشن (امید کا اتحاد) یا 'ہرمز پیس انیشیٹو' (آبنائے ہرمز امن اقدام) کے نام سے اقوام متحدہ میں بہت اہم تجویز دی ہے۔ یہ تجویز خطے کے آٹھ ممالک کو بھیجی جا چکی ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ بھی مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس تجویز سے خطے کے اہم مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
ایران کے خیال میں خطے کے مسائل خطے کے ممالک کو خود حل کرنے چاہییں۔ کچھ کے خیال میں دوسروں کو آ کر ہمارے مسائل حل کرنے چاہییں۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری بات سنی جائے گی اور ہم کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔
ایرانی صدر کے مطابق پاکستان کے علاوہ کچھ دیگر ممالک نے بھی ان مسائل کے حل کے لیے کوششیں کیں جن میں عراق بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سعودی عرب سمیت خطے کے ممالک سے بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے میں کوئی عار نہیں ہے۔
صدر حسن روحانی کے مطابق جو کچھ بحیرہ احمر میں ہوا اور اس کے بعد جس طرح ہمارے ٹینکر کو ہدف بنایا گیا اس سے مسائل نے جنم لیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اس حوالے سے ’مجھے امید ہے کہ ہماری تحقیقات جلد مکمل ہو جائیں گی۔ ابھی تک جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ ایک ملک نے کچھ اور ممالک کے ساتھ مل کر یہ سب کیا ہے۔ ہم اپنی تحقیقات کو حتمی شکل دے رہے ہیں کہ یہ سب کیسے اور کس نے کیا۔‘