روسی صدر ولادیمیر پوتن کا دورہ سعودی عرب: ’یہ نہیں معلوم کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملہ کس نے کروایا‘

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن دو بڑے خلیجی ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں فریق بننے کے حق میں نہیں ہیں اور اس حوالے سے کسی بھی الزام تراشی سے کترا رہے ہیں۔

سعودی عرب کے دورے سے قبل العربيه ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں جب روسی صدرسے سوال ہوا کہ ان کے مطابق سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے پیچھے کون تھا تو ان کا جواب تھا کہ انھیں ’یہ نہیں معلوم کہ حملہ کس نے کروایا اور اس واقعے کے بارے میں ان کے پاس کوئی ٹھوس معلومات نہیں۔‘

اس بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انھوں نے سعودی تیل کمپنی ’آرامکو‘ کی تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ماسکو ان حملوں سے متعلق ایسی تمام معلومات ریاض کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جو ان کے پاس ہوں گی۔‘

گذشتہ ماہ سعودی عرب میں آرامکو کی دو تنصیبات پر حملے میں خام تیل کی پیداوار متاثر ہوئی تھی۔ سعودی عرب اور امریکہ نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا تھا جو ایران نے مسترد کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

صدر پوتن کا کہنا تھا کہ تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد روس، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ’قریبی تعلقات‘ پیدا ہوں گے جس کا مقصد عالمی تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک عالمی طاقت ہے کیونکہ دنیا میں توانائی کی مارکیٹ میں اس کا اثر و رسوخ ہے۔ اس لیے سعودی عرب، شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے تعاون ضروری ہے۔‘

’روس ترکی کے ساتھ‘

صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ترکی اور ایران کی حمایت کرتا ہے ’لیکن شام کے صورتحال میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا تعاون بھی ضروری ہوگا۔‘

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’شام کے بحران کے حل کے لیے سعودی عرب نے مثبت کردار ادا کیا۔‘

دوسری طرف انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نیٹو کو اپنی ’خارجہ پالیسی کے ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ روسی صدر نے نیٹو کو ایک 'فوجی اتحاد' قرار دیا۔

بین الاقوامی ہتھیاروں کی دوڑ پر صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’روس ایک ایسا فریق ہے جسے (ہتھیاروں کی عالمی دوڑ میں) سب سے کم فرق پڑے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’روس کی فوجی قابلیت کسی سے مماثلت نہیں رکھتی' یہ بات سامنے رکھتے ہوئے کہ 'ان کے ملک کا عسکری بجٹ دنیا میں 7ویں نمبر پر آتا ہے۔‘

روسی صدر نے عندیہ دیا کہ ان کے ملک کی سب سے بڑی پٹرو کیمیکل کمپنی 'سیبور' سعودی عرب میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

پوتن کا دورہ سعودی عرب

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی صدر سعودی عرب میں پیر کو تیل کی تجارت سے متعلق معاہدوں پر دستخط کریں گے اور خلیج میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گے۔

اس سے قبل بھی صدر پوتن نے خلیج میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے روس کی جانب سے پیشکش کی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب گذشتہ سال واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر سنہ 2015 کے جوہری معاہدے سے خود کو علیحدہ کر لیا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے ایران کے تیل کے شعبے پر از سر نو پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔

سعودی عرب اور امریکہ دونوں ہی نے ایران پر جون اور جولائی میں خلیج میں ہونے والے دو آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم تہران کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔