آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرناٹک: ایک پرائیویٹ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے قتل کے الزام میں چانسلر گرفتار
- مصنف, عمران ہاشمی
- عہدہ, بنگلورو سے بی بی سی ہندی کے لیے
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں ایک نجی یونیورسٹی پر کنٹرول کے لیے دو بھائیوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں یونیورسٹی کے چانسلر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چانسلر پروفیسر سدھیر انگر پر یونیورسٹی کے ایک سابق وائس چانسلر کے قتل کا الزام لگایا ہے۔ مقتول سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ایپا ڈورے کے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے پروفیسر مدھوکر انگر سے قریبی تعلقات تھے اور پروفیسر مدھوکر اور گرفتار ہونے والے پروفیسر سدھیر آپس میں بھائی ہیں۔ ان دونوں میں الائنس یونیورسٹی پر کنٹرول کے لیے جھگڑا چل رہا تھا۔
مذکورہ یونیورسٹی تقریباً دس برس پہلے بنی تھی جب حکومت نے نجی یونیورسٹیاں کھولنے کی اجازت دی تھی۔
پروفیسر سدھیر پر الزام ہے کہ انہو ں نے اپنے بھروسے کے ایک ملازم سورج سنگھ کو اپنے بھائی اور پروفیسر ڈورے پر نظر رکھنے کے لیے کہا تھا۔
پولیس کے مطابق پروفیسر سدھیر نے کچھ عرصے بعد سورج سنگھ کو کرائے کے قاتل تلاش کرنے کا حکم دیا اور اس کام کے انہیں ایک کروڑ روپے دیے۔
بنگلورو پولیس کے کشمنر بھاسکر راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ سورج سنگھ نے اقرار جرم کر لیا ہے اور پولیس اس کیس میں ایک سینیئر وکیل کے کردار کے بارے میں بھی تفتیش کر رہی ہے۔
پولیس کی تفتیش
پولیس کمشنر نے بتایا کہ پروفیسر ڈورے کے قتل کے بعد پروفیسر مدھوکر کے گھر کے باہر سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے تھے۔ ڈاکٹر ڈورے کی لاش ایک پارک سے ملی تھی اور ان کے جسم پر زخموں کے نشان تھے۔
پولیس نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان دشمنی کے بارے میں انہوں معلوم تھا اسی لیے اس قتل کے بعد انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے سدھیر انگر سے پوچھ گچھ کی اور پھر اسی کی بنیاد پر وہ سورج سنگھ تک پہنچی۔ ’سورج سنگھ نے بتایا کہ سدھیر سنگھ کہ کہنے پر انہوں نے قتل کی سپاری دی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یونیورسٹی میں کنٹرول کے لیے دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے پر دو درجن سے زیادہ مقدمات کر رکھے تھے۔ یونیورسٹی میں بزنس سٹڈیز، قانون اور انجنیئرنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں تقریباً سات ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ یونیورسٹی پہلے بھی تنازعات کا شکار رہی ہے اور اس پر سرکاری سطح کی ایک تفتیش کے بعد ایک بار مالی بے ضابتگیوں کا بھی الزام لگ چکا ہے۔
مقتول ڈاکٹر ڈورے کی اہلیہ نے بتایا کہ کچھ برس پہلے تنازعات کی وجہ سے وہ یونیورسٹی چھوڑ گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائیوں کے درمیان کافی کشمش تھی۔ انہوں نے کہا اب ہزاروں طالب علموں کے مستقبل کے بارے میں فکر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تین نومبر کو یونیورسٹی میں کانووکیشن ہونا ہے لیکن یونیورسٹی کا کوئی نمائندہ میڈیا سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یونیورسٹی کے رجسٹرار
پروفیسر مدھو سودن مشرا نے ادارے کی ویب سائیٹ پر میڈیا سے اپیل کی ہے کہ پروفیسر مدھوکر انگر کے بیان کو سرکاری بیان نہ سمجھا جائے۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت نے پروفیسر مدھوکر اور ان کے ساتھیوں پر یونیورسٹی داخلے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
پروفیسر سدھیر انگر اس سے پہلے ایک آئی ٹی فرم میں اعلیٰ عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ وہ کئی کمپنیوں میں کنسلٹنٹ بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی بزنس سکولوں میں پڑھا بھی چکے ہیں۔ انہوں نے آئی آئی ٹی ممبئی سے بی ٹیک کیا تھا اور آئی آئی ایم احمد آباد سے ڈپلوما کیا تھا۔
مدھوکر انگر نے ٹیکساس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہے اور 1997 میں کارنیگی فاؤنڈیشن کے پروفیسر آف دی یئر تھے۔