آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بھوٹان میں مچھر مارنا بھی گناہ ہے!
'رات کے وقت یہاں بہت مچھر ہوتے ہیں ہم باہر نہیں رہ سکتے' مادھوی شرما مسکراتے ہوئے یہ باتیں کر رہی تھیں جنکا کنبہ دھان کی کاشت کرتا ہے اور یہ لوگ مویشی پال کر اپنی گذر بسر کرتے ہیں۔
مادھوی بھوٹان کے جنوبی علاقے کے ایک گاؤں سمتیلِنگ کی رہنے والی ہیں۔ انکے گھر والے شام کا وقت باورچی خانے میں گذارتے ہیں جہاں وہ کھلے چولہے پر کھانا پکاتے ہیں اور اس کے دھوئیں سے کیڑے مکوڑے بھاگ جاتے ہیں۔
مادھوی شرما نے دسویں جماعت تک پڑھائی کی ہے اور سرکاری مہموں کے سبب انہیں ڈینگو اور ملیریا کے بارے میں کافی معلومات ہیں اور یہ دونوں ہی بیماریاں مچھروں سے پھیلتی ہیں۔
مادھوی کا خاندان کبھی بھی اپنے گھر کے ارد گرد پانی جمع نہیں ہونے دیتا۔اور یہ لوگ مچھر دانی لگا کر سوتے ہیں جو حکومت کی جانب سے تقسیم کی گئی ہے۔
ان لوگوں کے گھر میں سال میں دو مرتبہ کیڑے مار دوا چھڑکی جاتی ہے اور گھر کی دیواروں پر مٹی اور گوبر پوتا گیا ہے۔
بھوٹان میں ملیریا کتنا بڑا مسئلہ ہے
مچھردانی، کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ اور لوگوں کو مچھروں سے ہونے والی بیماریوں سے آگاہ کرنا یہ سب حکومتِ بھوٹان کے ملیریا کی روک تھام سے متعلق سرکاری سکیموں کا حصہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پروگرام 1960 میں شروع ہوا تھا لیکن اس کا اثر 1990 میں نظر آنا شروع ہوا۔
1994 میں بھوٹان میں ملیریا کے 40 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے اور ان میں سے 68 کی موت ہو گئی تھی لیکن 2018 تک ملیریا کے محض 54 کیس ہی ہوئے۔ملیریا لوگوں کی جان بھی لے سکتا ہے یہ جانتے ہوئے بھوٹان کی حکومت اس بیماری کو اپنے ملک سے جڑ سے ختم کرنے کی مہم چلا رہی ہے۔
ملیریا سے لڑائی میں کس طرح کے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے
کیا بھوٹان ملیریا سے پاک ملک کافی پہلے بن سکتا تھا ۔بھوٹان میں اس بیماری سے لڑنے میں ایک مذہبی رکاوٹ بھی ہے۔ بھوٹان ایک بودھ ملک ہے اور اس مذہب میں کسی بھی جاندار کو مارنا گناہ تصور کیا جاتا ہے چاہے وہ بیماری پھیلانے والے کیڑے ہی کیوں نے ہوں۔
ان حالات میں ملیریا سے بچانے والی ادویات کو چھڑکنے میں والے عملے کو کافی مخالفت کا سامنا ہوتا تھا۔تقریباً دس سال پہلے تک شدید مخالفت کے سبب دوا چھڑکنے والوں کو زبردستی لوگوں کے گھروں میں گھسنا پڑتا تھا۔
ملیریا کے متاثرین کو ہسپتال میں رہنا پڑتا ہے۔
انڈیا میں کام کرنے والے بھوٹانی باشندوں کی ملک میں واپسی پر جانچ کی جاتی ہے کہ کہیں وہ ملیریا کے جراثیم ساتھ لیکر تو نہیں آئے اور اگر کسی میں ملیریا کے جراثیم پائے جاتے ہیں تو اسے کم از کم تین روز تک ہسپتال میں رکھا جاتا ہے تاکہ مریض کا مناسب علاج کیا جا سکے۔
انڈیا اور بھوٹان کے تعلقات بہت نازک بھی ہیں اور پیچیدہ بھی۔ بھوٹان کی سرحد سے ملحق انڈین ریاست آسام میں نسلی تشدد کے سب بڑی تعداد میں لوگ بھاگ کر بھوٹان پناہ لیتے تھے جس کے سبب ملیریا کی سکیم متاثر ہوتی تھی اور بھوٹان اور انڈیا کے درمیان تعاون کی بھی کمی ہے لیکن اب آہستہ آہستہ دونوں کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے ۔
ملک کو ملیریا سے پاک کرنے میں بھوٹان نے جتنی پیش رفت کی ہے انڈیا نے اتنا پیش رفت نہیں کی۔ماہرین کہتے ہیں کہ بھوٹان نے ملیریا سے جس طرح مقابلہ کیا ہے وہ بہت سے ممالک کے لیے ایک سبق ہے خاص طور پر مچھروں پر قابو کرنا۔
بھوٹان میں اس کی کامیابی کی ایک وجہ حکومت کی قوتِ ارادی بھی تھی۔ حکومت نے پوری طاقت کے ساتھ اس مہم کو چلایا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس مہم کے ساتھ جوڑا اور سبھی نے اس مہم کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری کو سمجھا۔