آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: عمران خان کے غصے کی ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟
- مصنف, فیکٹ چیک ٹیم
- عہدہ, بی بی سی نیوز
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی ایک ویڈیو اس دعوے کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہے کہ 'جموں و کشمیر کے معاملے پر کسی بھی ملک کی حمایت حاصل نہ ہونے کے سبب عمران خان غصے میں ہیں اور اسی وجہ سے میڈیا والوں کے ساتھ انھوں نے بدتمیزی کی‘۔
تقریباً تین منٹ کی اس ویڈیو میں عمران خان کے ساتھ پاکستان کے موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد بھی نظر آ رہے ہیں۔
گذشتہ تین دنوں میں اس ویڈیو کو 20 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا گیا ہے۔ اس وائرل ویڈیو میں ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان ناراض ہو کر پریس کانفرنس میں موجود تمام لوگوں کو خاموش رہنے کا کہہ رہے ہیں۔
آرٹیکل 370 سے متعلق یہ بھی پڑھیے
بی بی سی نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اس ویڈیو کو پچاس ہزار سے زیادہ بار شیئر کیا جا چکا ہے اور جنھوں نے اس ویڈیو کو فیس بک یا ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ 'آرٹیکل-370 پر کسی بھی ملک کی حمایت نہ ملنے پر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔'
انڈیا کی جانب سے اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی خصوصی دفعات کو ختم کرنے کے فیصلے پر پاکستان کھل کر تنقید کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چین نے اس معاملے میں پاکستان کے حق میں کچھ بیانات دیے ہیں لیکن بیشتر ممالک نے جموں و کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کا دوطرفہ مسئلہ قرار دیا ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا کہ آرٹیکل 370 سے متعلق کہہ کر وزیر اعظم عمران خان کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ہے اس ویڈیو کا جموں و کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو کافی پرانی بھی ہے۔
وائرل ویڈیو کی حقیقت؟
ریورس امیج سرچ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ویڈیو جون سنہ 2015 کا ہے۔ اس وقت عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بھی نہیں تھے۔
سنہ 2015 میں پاکستان میں مسلم لیگ (نواز)' پارٹی کی حکومت تھی اور نواز شریف اس ملک کے وزیر اعظم تھے۔
جبکہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے چیئرمین عمران خان پاکستان میں حزب اختلاف کے بڑے رہنماؤں میں شامل تھے۔
انٹرنیٹ پر میڈیا کی کچھ پرانی رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو آٹھ جون سنہ 2015 کی ہے۔
ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے نجی چینل سماء ٹی وی نے لکھا: 'راولپنڈی شہر میں ایک جلسہ عام میں میڈیا سے گفتگو کے دوران اپنے حامیوں پر ناراض ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان۔
لیکن اس ویڈیو میں ترمیم کر کے سوشل میڈیا پر صرف اتنا ہی حصہ استعمال کیا گیا ہے جب ناراض ہو کر عمران خان لوگوں کو خاموش رہنے کے لیے کہتے ہیں۔
پورا معاملہ کیا تھا؟
درحقیقت اس ویڈیو کے وقت عمران خان نے اپنے حامیوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کی تھی اور پریس کانفرنس میں انھوں نے میڈیا والوں سے کہا کہ 'پنجاب پولیس کا کردار ٹھیک نہیں ہے'۔
سات جون 2015 کی شام کو عمران خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی ایک ٹویٹ کیا تھا۔
انھوں نے لکھا تھا 'یہ جان کر حیرت ہوئی کہ صادق آباد راولپنڈی میں پولیس نے دو نوجوانوں کو ہلاک کیا ہے۔ نواز شریف نے پنجاب پولیس کو قاتل بنا دیا ہے۔'