آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کنٹرول لائن پر کشیدگی: ’ایک مقام پر تو پاکستانی اور انڈین چوکیوں میں 25 میٹر کا فاصلہ ہوتا تھا‘
- مصنف, سوامی ناتھن نٹراجن
- عہدہ, بی بی سی
’پہلے ہم ایک دوسرے پر لائٹ اور میڈیم مشین گنز سے فائرنگ کرتے ہیں۔ اس کے بعد عموماً مارٹر گولے مارے جاتے ہیں۔ گذشتہ چند سالوں میں ہم نے دونوں جانب سے آرٹلری کا استعمال بھی دیکھا ہے۔ جب صورت حال بگڑ جاتی ہے تو ہمارے سینیئر کمانڈر پاکستان میں اپنے ہم منصبوں سے بات کرتے ہیں تاکہ صورت حال بہتر ہو جائے۔‘
یہ الفاظ ہیں انڈین آرمی کے ایک ریٹائرڈ افسر کے جو اپنی فوج اور پاکستانی فوج کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر ہونے والی جھڑپوں کی روداد بیان کر رہے ہیں۔
جوہری ہتھیاروں سے لیس انڈیا اور پاکستان کے دس لاکھ فوجی اس متنازع علاقے میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
انڈیا اور پاکستان دونوں کے ایک ایک ریٹائرڈ افسر نے بی بی سی کو ایک فوجی کی نظر سے بتایا کہ دشمن کی توپوں ک سامنے کام کرنے، رہنے، کھانے پینے، سونے اور جاگنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
پاکستانی افسر کہتے ہیں ’امن ہر کسی کو پسند ہوتا ہے۔ امن ایک مثالی خیال ہے۔ کبھی کبھی آپ کو امن کے لیے جنگ کرنا پڑتی ہے۔‘
ان کے انڈین ہم منصب کہتے ہیں ’آپ یا ماریں یا مر جائیں۔ اس میں سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘
جھڑپیں
انڈین آرمی کے ریٹائرڈ افسر کرنل ماروگنانتھٹ کہتے ہیں ’بارڈر پر صورت حال میں کبھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ صورت حال ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔ ہم اپنی پوسٹوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ہماری پوسٹیں چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔‘
یہ چھیننے چھنانے کی لڑائی لگی رہتی ہے۔ جس کے پاس بھی اونچائی کا مقام ہوتا ہے وہ علاقے میں غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سیکنڈ لفٹیننٹ کے طور پر ماروگنانتھٹ (جو صرف ایک نام استعمال کرتے ہیں) کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول کی حفاظت پر تعینات کیا گیا تھا۔
انھوں نے بتایا ’یہ سنہ 1993 کی بات ہے۔ اس وقت پاکستان انڈیا میں عسکریت پسندوں کو گھسانا چاہ رہا تھا۔ فرنٹ لائن پر ہمارا کام تھا انھیں روکنا۔ جب بھی دوسری طرف سے فائرنگ شروع ہوتی ہمیں پتا چل جاتا کہ یہ عسکریت پسندوں کو کوور فراہم کرنے کی کوشش ہے۔ تو ہم ہوشیار ہو جاتے ہیں اور عسکریت پسندوں کو ڈھونڈنے لگتے۔‘
چوکنا ہونا
شروع میں پاکستان کا موقف تھا کہ انھوں نے عسکریت پسندوں کی صرف اخلاقی حمایت کر رکھی ہے۔ مگر شدید بین الاقوامی دباؤ کے پیشِ نظر پاکستان نے انڈیا میں دہشت گردی میں ملوث کچھ شخصیات اور تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے پر اتفاق کر لیا۔
دوسری جانب اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک ریٹائرڈ پاکستانی کرنل نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے جب کشمیر میں تعینات کیا گیا تو جنگ بندی تھی۔ مگر ہم پھر بھی مکمل طور پر الرٹ پر تھے۔‘
پاکستان نے حال ہی میں 26 منتخب افسران کے علاوہ تمام ریٹائرڈ افسران کے میڈیا سے بات کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ بی بی سی کی جانب سے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ذریعے ان منتخب افسران سے بات کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔
تاہم پونچھ سیکٹر میں ایک بٹالین کو کمانڈ کرنے والے ایک پاکستانی افسر نے بی بی سی سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بات کرنے کی حامی بھر لی۔
وہ کہتے ہیں ’کچھ پوسٹیں خوب چھپائی گئی ہوتی تھیں اور ہمیں مشکل سے نظر آتی تھیں۔ مگر ہمیں پتا تھا کہ وہ یہاں پر ہیں۔‘
’کچھ علاقوں میں ہماری پوسٹیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہوتی ہیں۔ ایک مقام پر انڈین چوکیاں ہم سے 25 میٹر کی دوری پر تھیں۔‘
دشمن کا سامنا کرنا
دشمن کے اتنے قریب رہنا ایک پرسکون احساس نہیں ہے۔ انڈین آرمی میں فوجی اور نوجوان افسر اگلی چوکیوں پر عموماً ایک یا دو ماہ ہی رہتے ہیں۔
کرنل ماروگنانتھٹ یاد کرتے ہیں ’ہمارے درمیان کبھی فاصلہ 150 میٹر ہوتا تھا۔ میں انھیں اپنے ہتھیار صاف کرتے دیکھ سکتا تھا۔‘
’ایک اور دورے کے دوران میں جس چوکی پر تعینات تھا وہ زیادہ اونچی سطح پر نہیں تھی۔ اگرچہ میں انھیں دیکھ نہیں سکتا تھا مگر مجھے معلوم تھا کہ وہ ہمیں مسلسل دیکھ رہے ہیں۔‘
’اگرچہ خوف ایک عام احساس ہے مگر فوجی تربیت نے مجھے پریشانی سے دور رکھا تھا۔ میں اپنی کمانڈ میں موجود فوجیوں کے سامنے اپنا خوف ظاہر نہیں کر سکتا تھا۔ میں اپنی کمانڈ میں فوجیوں کو کہتا کہ کچھ بھی ہو جائے ہم نے چوکی نہیں چھوڑنی۔‘
پاکستانی کرنل کہتے ہیں ’میں انڈینز کے بالکل سامنے ایک ایسی ہی چوکی پر ایک رات رکا تھا۔ وہاں ایسا ماحول تھا کہ جب آپ کو ایک بار اس کی عادت ہو جائے تو آپ زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں۔ میری کمانڈ میں فوجی میری ذمہ داری تھے اور یہ اضافی دباؤ پیدا کرتا تھا۔‘
بگڑتی صورتحال
اچھے ہتھیاروں سے لیس اور اچھی تربیت یافتہ جب دو فوجیں جو کہ ایک دوسرے کی نفرت کا برابر جذبہ رکھتی ہوں آمنے سامنے ہوں تو حالات آسانی سے بگڑ سکتے ہیں۔
کرنل ماروگنانتھٹ کہتے ہیں ’ایک دفعہ ہمارا ایک فوجی پاکستانی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ بٹالین میں غم و غصے کا ماحول تھا اور جلد ہی انتقام کا خیال سب کو آنے لگا۔ ہم افسران نے فوجیوں کو ٹھنڈا کیا اور انھیں یقین دلایا کہ ہم اس کا جواب دیں گے۔‘
’ہم نے ایک قریبی چوکی سے جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کی اور دشمن کے فوجی مارے۔‘
ایسے ہی بارڈر پر حالات خراب ہونے لگتے ہیں۔
پاکستانی کرنل بتاتے ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے فائرنگ کا تبادلہ تو نہیں ہوا مگر اکثر فوجی جذباتی ہو جاتے تھے۔
’جب بھی ہمیں خبر ملتی کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مظالم ہو رہے ہیں ہمارے فوجیوں کو غصہ چڑھ جاتا۔ ان کو نارمل ہونے میں کئی دن لگ جاتے تھے۔‘
موسم
بارڈر پر صرف دشمن سے ہی خطرہ نہیں ہوتا۔ ادھر ہمالیہ کے خوبصورت برف سے ڈھکے پہاڑ بھی دونوں طرف کے فوجیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔
پاکستانی افسر کہتے ہیں ’نمونیا اور سینے کے انفیکشن بڑے مسائل ہیں۔ کسی بیمار کو وہاں سے واپس لے جانا چار لوگوں کی زندگی کا خطرہ مول لینا ہے۔‘
انڈین کرنل بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔
اونچائی پر جا کر آپ کو عجیب احساس ہوتا ہے۔ آپ کو کم از کم چھ دن لگتے ہیں موسم کا عادی ہونے میں۔‘
’ہماری تقریباً آدھی ہلاکتیں موسم کی وجہ سے ہوتی تھیں جیسے کہ فروسٹ بائٹ کی وجہ سے۔‘
گرج چمک
ادھر پہاڑوں میں قدرت بھی عجیب موڑ کاٹ لیتی ہے۔
کرنل ماروگنانتھٹ کو شمسا بری رینج پر سنہ 1997 میں تعینات کیا گیا تھا جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں لیپا وادی کے اطراف ہے۔
انھوں کا کہنا تھا ’مجھے یاد ہے کہ دیوالی کے روز اچانک سے تیز گرج چمک ہوئی۔ میری پوسٹ 3600 میٹر کی اونچائی سے بھی اوپر ہے اور اس اونچائی پر بادل گرجنے کی آواز سے آپ سہم جاتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا ’اس بجلی کے چمکنے سے پہاڑ کی چوٹی پر آگ لگنے کا خدشہ بھی تھا۔‘
’ہم نے فوراً اپنے تمام جنریٹر بند کیے، ریڈیو کا سارا سامنا منقطع کیا اور اپنے مورچوں میں چلے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ کنٹرول لائن کے پار پاکستانی بھی یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔‘
امداد
ناہموار اراضی کی وجہ سے بہت سی پوسٹیں سڑک کے ساتھ منسلک نہیں ہیں۔ ہیلی کاپٹر اور خچر عام طور پر ضروری سامان کی آمد و رفت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایک پاکستانی کرنل نے بتایا ’کشمیر میں سڑک بہت تنگ اور خراب ہے۔ ہمارے بہت سے فوجی گاڑی کے الٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں۔‘
میری تعیناتی کے دوران میرے دو فوجی گاڑیوں کے حادثوں میں ہلاک ہوئے۔
بارڈر پر ڈیوٹی دینا ایک کٹھن کام ہوتا ہے کیونکہ فوجیوں کو کئی ماہ اپنے خاندانوں سے دور رہنا پڑتا ہے اور وہ فیملی کی کچھ اہم تقریبات میں شرکت نہیں کر پاتے۔
کرنل ماروگنانتھٹ کہتے ہیں کہ فوجیوں کو ایس پوسٹوں پر ایک مہینے سے زائد عرصے تک نہیں رکھا جاتا جو دشمن کے گولیوں کی زد میں ہو جبکہ ایسے علاقے جو 3500 میٹر سے زائد کی بلندی پر ہوتے ہیں وہاں ایک بٹالین تین ماہ کے اندر تبدیل کر دی جاتی ہے۔
مورچے
کچھ اگلی پوسٹوں کو فوجی انجینئر کنکریٹ اور سٹیل کی پٹیوں کی مدد سے ڈیزائن اور تعمیر کرتے ہیں۔ ان میں چھوٹے فائر کو سہنے کی سکت ہوتی ہے۔
زیادہ تر پوسٹوں میں بنکرز موجود ہوتے ہیں۔
عارضی پوسٹوں کو پتھروں اور ریت کی بوریوں کی مدد سے مزید محفوظ بنایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ مورچوں کا مقصد دو یا تین مشین گن استعمال کرنے والوں کے لیے موزوں جگہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
مقابلہ کرنا
جب فوجیں سرحدوں کے اتنے قریب تعینات ہوتی ہیں تو ہر باریک چیز بھی ایک بڑے دھچکے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں۔
پاکستانی افسر کا کہنا ہے ’ہمارے ایک فوجی نے انڈیا کی پوسٹ پر ایک چھوٹی ڈش دیکھی۔ ہمیں لگا کہ شاید یہ ایک ریڈار ہے جس کے ذریعے ہماری فوج کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’ہم نے ایک میٹنگ بلائی تاکہ انڈین فوج سے یہ پوچھ سکیں کہ انھوں نے کیا نصب کیا ہے۔‘
انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ تو سیٹلائٹ ٹی وی ڈش ہے۔ میں تذبذب میں تھا کہ اب کیا کروں تو میں نے ایک اس سے بھی بڑی سٹیلائٹ ڈش اپنی طرف ایک آگے کی پوسٹ میں نصب کروا دی۔
متنازع علاقہ
کشمیر کا مسئلہ سنہ 1947 میں انڈیا کی تقسیم کے وجہ سے پیدا ہوا۔ اس میں مسلح جدوجہد کا عنصر سنہ 1989 میں آیا۔
دنیا کے نقشے کے مطابق انڈیا کشمیر کا 45.1 فیصد حصے کا انتظام سنبھالتا ہے جبکہ پاکستان 38.2 بقیہ حصہ چین کے زیرِ انتظام ہے۔
انڈیا اور چین کے درمیان موجود لداخ خطے میں سرحد پر پچھلی دہائی میں دونوں ملکوں کی جانب سے بڑی تعداد میں فوجیں تعینات کی گئی ہیں۔
لیکن اس کے باوجود یہ خطہ سنہ 1962 کی سرحدی جنگ کے بعد سے کسی بھی بڑی کشیدگی سے محفوظ رہا ہے۔ دوسری جانب انڈیا اور پاکستان کی فوجیں ایک دوسرے کا سامنا ایک انتہائی کشیدہ ماحول میں کرتی ہیں۔
پچھلے 30 برسوں میں دونوں اطراف سے سینکڑوں فوجی سرحد پر فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے ہیں۔
ایک پاکستانی کرنل نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'ڈیوٹی کے دوران آپ کو جان بھی دینی پڑسکتی ہے۔ حب الوطنی، ریجمنٹ کا فخراور کشمیر سے وابستگی ہمارے جذبے بلند رکھتی ہے۔‘
انڈین کرنل نے ان سے اتفاق کیا اور کہا 'ایک بھارت کے تصور سے وابستگی ہمارے حوصلے بلند رکھتا ہے۔'