آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان طالبان، امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ’شاندار پیشرفت‘، لیکن امن معاہدے میں وقت لگے گا
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، دوحہ
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے آٹھویں دور کے تیسرے روز اعلی امریکی اور طالبان ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوئی ہیں لیکن امن معاہدے پر دستخط اور اس کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی کامیابی کے اعلان میں مزید کتنے دن، ہفتے یا پھر مہینے لگیں گے، لیکن تیسرے روز کے اختتام پر بھی دونوں فریق پراُمید نظر آئے۔
امریکی وفد کے سربراہ اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے تیسرے روز کے اختتام پر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا: ’کابل میں پچھلے ہفتے اچھی پیشرفت کے ساتھ، میں نے گذشتہ کئی دن دوحہ میں گزارے اور اُن مسائل پر توجہ دی جو طالبان کے ساتھ ممکنہ ڈیل طے کرسکتے ہیں، جس سے فوجوں کا انخلا ہوسکتا ہے۔ ہم نے شاندار پیشرفت کی۔‘
یہ بھی پڑھیے
اُدھر دوحہ ہی میں طالبان دفتر کے ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف دو مسائل پر بات چیت جاری ہیں۔
ان ذرائع کے مطابق افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کا انخلا اور افغان سرزمین کا امریکہ اور اُن کے حامیوں کے خلاف مستقبل میں استعمال نہ ہونا شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ امریکی حکام پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ان کی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں جنگ بندی بھی شامل ہے تاہم طالبان ذرائع کے مطابق جنگ بندی بین الافغان مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوسکتی ہے نہ کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے ایجنڈے میں۔
طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شامل امریکی وفد کے ذرائع کے مطابق طالبان کے ساتھ امن معاہدے کی تکمیل اور اس کے اعلان میں ابھی کچھ دن لگ سکتے ہیں۔
اس سے قبل زلمی خلیل زاد نے مذاکرات کے اس دور کے آغاز پر کہا کہ طالبان نے امن معاہدے کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے اور وہ خود بھی اچھے معاہدے کے لیے تیار ہیں۔
کابل، اسلام آباد اور واشنگٹن میں امریکہ اور طالبان کے درمیان آٹھویں دور کے آغاز کے پہلے ہی دن سے بڑی اُمیدیں رکھی گئی تھیں اور ہر طرف سے یہ کہا جاتا رہا کہ اس بیٹھک میں امن معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے۔
لیکن آٹھویں دور کے تیسرے دن کے اختتام پر بھی امن معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور زلمی خلیل زاد کی دوحہ سے نئی دہلی روانگی نے اس تاثر کو ایک بار پھر رد کر دیا۔
اگرچہ زلمی خلیل زاد منگل کے روز ہونے والے مذاکرات میں نہیں شامل ہوں گے لیکن ذرائع کے مطابق ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان بات چیت جاری رہے گی۔
دیکھیے دوحہ سے ہمارے ساتھی خدائے نور ناصر کا مراسلہ
واشنگٹن اور کابل پراُمید ہیں کہ امریکہ-طالبان امن معاہدے کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہو جائیں گے، جس میں طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جائیں گے۔
تاہم طالبان کی جانب سے اتوار کے روز اُن کی مذاکراتی ٹیم کے رکن ملا شہاب الدین دلاور کا ایک آڈیو انٹرویو نشر کیا گیا ہے جس میں وہ ایک بار پھر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھنے سے انکار کرتے سنائی دیے۔
ملاشہاب الدین دلاور کہتے ہیں: ’ہمارا مؤقف پہلے ہی دن سے بالکل صاف ہے کہ ہم کابل کے ادارے کو رسمی طور پر ’حکومتی ادارہ‘ تسلیم نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے مذاکرات کریں گے۔ البتہ بین الافغان مذاکرات میں اگر کابل کا ادارہ دیگر افغان ٹیموں کی طرح شریک ہوتا ہے تو وہ الگ بات ہے۔‘