آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریپ، با اثر سیاستدان، بی جے پی اور متعدد ہلاکتیں، یہ حقیقت ہے یا کوئی فلمی کہانی
انڈیا کی ریاست اترپردیش کا شہر اناؤ ایک ایسی خبر کے سبب سرخیوں میں ہے جس نے لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آیا یہ حقیقت ہے یا کسی فلم کی کہانی۔ جس میں ایک نابالغ لڑکی کے ریپ سے لے کر اس کے گھر والوں کو ہراساں کرنا اور اس کے والد کا قتل بھی شامل ہے۔
چند روز پہلے ہی ریپ کی شکار لڑکی، اس کے وکیل اور دو گواہوں کی کار کو رائے بریلی کے نزدیک ایک ٹرک نے اڑا دیا۔ گواہ ہلاک اور لڑکی اور اس کا وکیل نازک حالت میں ہسپتال میں ہیں اور اب یہ کیس سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے
لڑکی کے گھر والوں کا الزام ہے کہ لڑکی کی کار کو ٹکر اور گواہوں کی موت حادثاتی نہیں بلکہ سوچا سمجھا قتل ہے۔ ان کے قتل کی سازش کا الزام رکن اسمبلی کلدیپ سینگر پر لگایا جا رہا ہے جن پر پہلے ہی لڑکی کے ریپ کا الزام ہے اور وہ ہمیشہ اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کے وکیل اودیش سنگھ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی کار کا ٹرک سے ٹکرانا محض ایک حادثہ ہے۔
لڑکی جس کی عمر اب انیس سال ہے اپنے وکیل اور دو رشتے داروں کے ساتھ کار میں سوار اپنے چاچا سے ملنے جا رہی تھی جو اس وقت جیل میں قید ہیں۔
راستے میں رائے بریلی کے نزدیک غلط سِمت سے آ نے والے ایک ٹرک نے انھیں ایک زور دار ٹکر ماری اور گاڑی میں سوار لڑکی کی چاچی اور خالہ نے موقع پر دم توڑ دیا جبکہ لڑکی اور وکیل کو انتہائی نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹ میں اترپردیش پولیس کے سربراہ اوم پرکاش سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسے حادثہ قرار دیا۔ یہ بات قابِلِ ذکر ہے کہ ٹرک کی نمبر پلیٹ پر کالی سیاہی لگائی گئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اناؤ شہر سے بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی کے ایم ایل اے کلدیپ سینگر جو پہلے ہی ریپ کے الزام میں جیل میں تھے اب ان پر قتل کا مقدمہ بھی درج ہو گیا ہے۔
2017 میں ایک سترہ سال کی نا بالغ لڑکی نے ایم ایل اے کلدیپ سینگر پر ریپ کا الزام لگایا تھا۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ وہ ملازمت کے سلسلے میں کلدیپ سینگر سے ملنے گئی تھی لیکن اسے قید کر کے ایک ہفتے تک اس کے ساتھ ریپ کیا گیا۔
لڑکی کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ بار بار شکایت کے باوجود بھی پولیس نے ایف آئی آر نہیں درج کی جس کے بعد انھیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔
متاثرہ لڑکی کے گھر والوں نے میڈیا کے ساتھ بات چیت میں الزام لگایا تھا کہ اس دوران ایم ایل اے اور اس کے لوگ انھیں دھمکاتے رہے۔ لڑکی کا کہنا تھا کہ انصاف کے لیے انھوں نے ہر اہلکار سے مدد کی اپیل کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔
لڑکی کا کہنا تھا کہ پچھلے سال ایم ایل اے کے بھائی اتل سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے ان کے والد کے ساتھ مار پیٹ کی اور بعد میں پولیس نے ان کے والد کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر کے انھیں جیل میں ڈال دیا۔
پریشان ہو کر پچھلے سال آٹھ اپریل کو متاثرہ لڑکی نے اپنی ماں کے ساتھ لکھنؤ میں وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے باہر خود کو آگ لگا کر خود کشی کرنے کی کوشش کی لیکن انھیں بچا لیا گیا اور اگلے ہی دن لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں موت ہو گئی اور معاملہ شہ سرخیوں میں آ گیا۔
چار مہینے بعد ہی لڑکی کے والد کی پولیس حراست میں مبینہ مار پیٹ اور موت کے چشم دید اور پورے معاملے کے اہم گواہ کی پر اسرار حالات میں موت ہو گئی۔
معاملے کو سرخیوں میں آنے اور مختلف سماجی اور سیاسی حلقوں کے دباؤ کے بعد سی بی آئی کے سپرد کر دیا گیا۔ تحقیقات شروع ہوئیں لیکن کلدیپ سینگر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اور وہ اسے اپنے خلاف ایک سیاسی سازش قرار دیتے رہے۔ تیرہ اپریل 2018 کو سی بی آئی پوچھ گچھ کے لیے انھیں ساتھ لے گئی اور اسی دن الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر انھیں گرفتار کر لیا گیا۔
اب متاثرہ لڑکی کے رشتہ دار لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالج کے باہر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں جہاں لڑکی اور اس کے وکیل کا علاج جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کلدیھ سینگر ابھی تک بی جے پی کے رکن ہیں اور پارٹی میڈیا اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پا رہی کہ اس پورے معاملے کے باوجود بھی اب تک کلدیپ سینگر کو پارٹی سے کیوں نہیں نکالا گیا۔