نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں خاص کیا تھا

انڈیا میں ہونے والے عام انتخابات میں بے جے پی کی بھرپور کامیابی کے بعد نریند مودی نے دوسری مدت کے لیے انڈین وزیراعظم کے عہدے کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔

جمعرات کی شام نئی دلی میں صدارتی محل میں منعقد ہونے والی اس تقریبِ حلف برداری میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

اپوزیشن کے چند رہنماؤں نے تقریب کا بائیکاٹ بھی کیا۔

تاہم مودی کے اہم سیاسی حریف راہل گاندھی اپنی والدہ سونیا گاندھی اور کانگریس کے دیگر سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئے۔

اس تقریب کی خاص بات یہ بھی تھی کہ مودی کے ساتھ نئی کابینہ کے اراکین نے بھی حلف اٹھایا۔

ان میں بی جے پی کے صدر امت شاہ بھی شامل تھے جنھیں اس الیکشن میں جماعت کی کامیابی کا سرخیل سمجھا جاتا ہے۔

حالیہ انتخابات میں بی جے پی اتحاد نے لوک سبھا کی 545 نشستوں میں سے 354 پر کامیابی حاصل کی ہے۔

مودی نے اس الیکشن میں وارانسی سے پانچ لاکھ سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔

وہ 1971 کے بعد وہ پہلے ایسے انڈین رہنما بن گئے جن کی جماعت نے لگاتار دو انتخابات میں اپنے بل بوتے پر ایوان میں اکثریت حاصل کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق حلف برداری کی تقریب میں سات ہزار مہمان شریک ہوئے۔

راشٹرپتی بھون میں منعقدہ اس تقریب میں جیسے ہر کوئی انڈیا کے نئے منتخب وزیراعظم کی جھلک کے لیے بے تاب تھا۔

تقریب کے دوران نریندر مودی کے حامی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر انھیں کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے رہے۔

یہ جشن اور مبارکباد مودی کے علاوہ انتخابی مہم کے اہم کردار اور ان کے قریبی ساتھی امت شاہ کے لیے بھی تھی۔

انڈیا کے پڑوسی ممالک کے رہنماؤں نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ ان پڑوسی ممالک میں سے بنگلہ دیش، سری لنکا، میانمار، نیپال اور بھوٹان شامل تھے۔

عالمی رہنماؤں کے علاوہ اس تقریب میں اہم کاروباری شخصیات، کھیل اور فلم کی دنیا سے ستاروں نے بھی شرکت کی۔

فلمی ستاروں میں کرن جوہر، رجنی کانت اور کنگانا روناوت نے شرکت کی جبکہ مکیش امبانی بھی اپنی اہلیہ کے ہمراہ موجود تھے۔

انڈین میڈیا کے مطابق بل گیٹس کو بھی اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی تاہم وہ شریک نہ ہوسکے۔

یاد رہے کہ اس تقریب کے لیے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کو مدعو نہیں کیا گیا اور پاکستانی میڈیا نے بھی اس تقریب کو نہیں دکھایا۔