کشمیر: ووٹنگ سے دو روز قبل بی جے پی رہنما کا قتل

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں سنیچر کے روز مشتبہ شدت پسندوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما غلام محمد میر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

وہ وادی کے اننت ناگ ضلعے میں بی جے پی کے نائب صدر تھے اور انھیں علاقے میں لوگ اٹل بہاری واجپئی کے تعلق سے 'اٹل' کہتے تھے۔

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹر پر ان کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں بی جے پی کو مضبوط کرنے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ ان کے ٹویٹ کے بعد انڈیا میں 'غلام محمد' ٹرینڈ کر رہا ہے۔

یہ واقعہ اننت ناگ لوک سبھا نشست پر ہونے والے عام انتخابات کے تیسرے مرحلے کی ووٹنگ سے دو دن قبل رونما ہوا ہے۔

تیسرے مرحلے میں چھ مئی کو پیر کے روز ووٹ ڈالے جانے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سنہ 2019 کے عام انتخابات کے دوران انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں یہ پہلا سیاسی قتل ہے۔

بی جے پی نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے انڈیا کے تفتیشی ادارے سی بی آئی سے تحقیقات کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے لکھا: 'جموں کشمیر بی جے پی رہنما غلام محد میر کے قتل کی شدت کے ساتھ مذمت کرتا ہوں۔ جموں کشمیر میں پارٹی کو مضبوط کرنے میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ اس قسم کے تشدد کو ہمارے ملک میں کوئی جگہ نہیں۔ ان کے اہل خانہ اور خیرخواہوں کے ساتھ تعزیت۔'

پولیس نے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق غلام محمد میر کا قتل ویری ناگ کے علاقے نوگام میں ان کے گھر پر حملے کے دوران ہوا ہے۔ شدید طور پر زخمی غلام محمد میر کو علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کی موت ہو گئی۔ پولیس کے مطابق معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس نے بتایا کہ تین افراد میر کے گھر آئے اور ان کے کار کی چابی مانگی۔ گاڑی کو لے جاتے ہوئے انھوں نے میر کو گولی مار دی۔ پولیس نے حملہ آوروں کو پکڑنے کے لیے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

تاہم ابھی تک نہ تو حملہ آور پکڑے گئے ہیں اور نہ ہی کسی تنظیم نے میر پر حملے کی ذمہ داری ہی لی ہے۔

سی بی آئی کی تحقیقات کا مطالبہ

بی جے پی نے غلام محمد میر کے قتل کو 'بزدلی' قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

پارٹی کی ریاستی یونٹ کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا ہے کہ میر ایک طویل عرصے سے بی جے پی سے منسلک تھے۔ اننت ناگ لوک سبھا سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار اور ریاستی نائب صدر صوفی یوسف نے اس حملے کے متعلق سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

غلام محمد میر سرپنچ تھے۔ وہ دو بار اسمبلی انتخابات میں امیدوار بھی تھے لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی تھی۔