آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں پاکستانی امداد سے محمد علی جناح ہسپتال کا قیام
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کی مالی معاونت سے بنائے گئے ایک دو سو بستروں کے جدید ہسپتال کا افتتاح کر دیا گیا جس کا نام بانیِ پاکستان محمد علی جناح کے نام پر جناح ہسپتال رکھا گئی ہے۔
سنیچر کو کابل میں دو سو بستروں پر مشتمل اس ہسپتال کا افتتاح پاکستان کے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور افغانستان کے صحت عامہ کے وزیر ڈاکٹر فیروزالدین فیروز نے کیا۔ جبکہ افغان نائب صدر محمد سرور دانش نے بطور مہمان خصوصی اس تقریب میں شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے!
ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق دو سو بستروں کے اس جدید ہسپتال کی تعمیر پر دو کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز کی لاگت آئی ہے۔ پاکستان حکومت کے جانب سے یہ ہسپتال باقاعدہ طور پر افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ جناح ہسپتال افغانستان کے صحت عامہ کے شعبے میں پاکستان کی جانب سے ایک اہم حصہ ہے۔ انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے افغان عوام کے لیے پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تمام ممکن اقدامات اٹھاتے رہیں گے اور یہ کہ پاکستانی وزیراعظم افغانستان کو مستحکم، محفوظ، پرامن، خوشحال اور خودمختار دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔
افغان وزیر برائے صحت عامہ ڈاکٹر فیروز نے حکومت پاکستان کی جانب سے جناح ہسپتال کا تحفہ دینے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انھوں نے صحت عامہ کے لیے افغان شہر لوگر میں ایک کروڑ نوے لاکھ ڈالرز کی لاگت سے 100 بستروں پر مشتمل ایک اور زیر تعمیر نائب امین اللہ خان ہسپتال اور جلال آباد میں نشتر کڈنی سینٹر سمیت دیگر منصوبوں میں پاکستان کی معاونت کی تعریف بھی کی۔
اس موقع پر پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ خان کا کہنا تھا کہ جناح ہسپتال پاکستان کی جانب افغانستان کی ترقی میں ایک ارب ڈالر کی مالی معاونت دونوں ممالک کے لوگوں میں رابطے کو وسیع اور گہرا کرنے کی پالیسی کے مقصد کے حصول میں ایک فلیگ شپ منصوبہ تھا۔