انڈین سوشل میڈیا پر بائیکاٹ سرف ایکسل کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟

انڈیا میں ہولی کے تہوار کے لیے بنایا گیا ڈٹرجنٹ کا ایک اشتہار جس میں ایک ہندو بچی اپنے مسلمان دوست کی مدد کر رہی ہے، شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر #BoycottSurfExcel کا ٹرینڈ، گذشتہ ماہ کے آخر سے اب تک انڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہے۔

تاہم ایسے صارفین بھی ہیں جو #SurfExcel کا ٹرینڈ استعمال کر کے اس بحث میں نہ صرف حصہ لے رہے ہیں بلکہ اس اشتہار کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

ایک منٹ کے اس اشتہار میں ہولی کے تہوار کے موقع پر سفید لباس میں ملبوس ایک ہندو بچی ہولی کھیلتے لوگوں کے درمیان اپنے مسلمان دوست کو بچانے کے لیے (جس نے نماز پڑھنے کے لیے جانا ہوتا ہے) سارے رنگ خود پر لگوا لیتی ہے۔ اس اشتہار میں انڈین معاشرے میں ہندو مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

27 فروری کو جاری کیے گئے اس اشتہار کو اب تک یو ٹیوب پر 80 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دل موہ لینے والے مواد کے باوجود اس اشتہار کو دائیں بازو کی جماعتوں اور انڈین سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے اور وہ اسے ’لو جہاد‘ کو بڑھاوا دینے والا قرار دے رہے ہیں۔

اسی حوالے سے ایک انڈین صارف، سرف ایکسل سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ یہ بالکل احمقانہ ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم کیسے دینی ہے۔ ’مذہب میں واشنگ پاؤڈر کا کیا کام؟‘

کیسلے کمار کو بھی اس اشتہار پر بہت غصہ ہے۔ بائیکاٹ سرف ایکسل کا ٹیگ استعمال کرکے وہ پوچھتے ہیں کہ ہر بار ہندو لڑکیوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ ساتھ ہی ایک ہندو لڑکے کی برقعے میں ملبوس لڑکی کو ہولی کے رنگ لگاتے تصویر پوسٹ کر کے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ آپ لو جہاد کو فروغ کیوں دے رہے ہیں؟‘

پنکجھ کمار نے تو سرف ایکسل انڈیا کو یہ تک کہہ دیا کہ ’پہلے اپنا دماغ صاف کرو، پھر میرے کپڑے صاف کرنا۔‘

اور روہت جاننا چاہتے ہیں کہ کیا مستقبل میں ہندو لڑکے اور مسلمان لڑکی والا بھی کوئی اشتہار ہوگا؟

حتیٰ کہ کچھ انڈین صارفین تو سرف ایکسل کو پاکستانی پراڈکٹ تک قرار دے رہے ہیں۔

لیکن جہاں اتنے انڈین سوشل میڈیا صارفین سرف ایکسل کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جنہیں یہ اشتہار بہت پسند آیا۔

آکاش بینرجی اس اشتہار کو ٹویٹ کرکے طنزیہ انداز میں کہتے ہیں، سرف ایکسل کی اتنی جرات کیسے ہوئی کہ وہ رنگ، پیار، ہنسی، مستی، معصومیت، ثقافتی احترام، تعلق اور خوش اخلاقی سب کچھ ایک منٹ کے اندر دکھا دیں؟ یہ اس سب کام پر پانی پھیر دیتا ہے جو اب تک ہم نے کیا ہے۔ ساتھ ہی وہ پوچھتے ہیں کہ کیا ہم احمق ہیں؟ ’میں دوبارہ کہہ رہا ہوں اس اشتہار کو شئیر مت کیجئیے۔‘

اصلی ہیرا نامی ایک اور انڈین صارف تو چاہتے ہیں کہ اس اشتہار کو سال کا بہترین اشتہار قرار دیا جائے۔

لینا شرما بھی اسے ایک شاندار اور بہترین اشتہار مانتی ہیں۔

ہیرینی کیلامار کہتی ہیں وہ دو کلو سرف کے زائد پیکٹ اس لیے لے رہی ہیں کیوں کہ وہ اپنے آپ کو یہ یاد دلانا چاہتی ہیں کہ ہم اچھے لوگ ہیں، جو مل جل کر رہتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ ’بچوں کے ذہن میں کوئی تعصب نہیں ہوتا جب تک کہ انہیں یہ سکھایا نہ جائے۔‘