آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈین انتخابات: کیا مودی کی ’قوم پرستی‘ کے نعروں میں روزی روٹی کے سوال ماند پڑ جائیں گے؟
- مصنف, کلیانکاری شنکر
- عہدہ, سیاسی تجزیہ کار
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر پلوامہ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے اور انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کی جانے والی ایئر سٹرائیک کے بعد انڈیا کے سیاسی حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔
سنہ 2019 میں ہونے والے عام انتخابات کا سب سے بڑا موضوع دہشت گردی بن گیا ہے۔ بالاکوٹ ایئر سٹرائک کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی بہتر صورت حال میں نظر آنے لگے ہیں۔
ان حالات میں روزگار، نوکریوں، رفائل جنگی جہازوں کا سودہ اور کاشتکاروں کے مسائل منظر سے ہٹ گئے ہیں۔ قومی سلامتی کا موضوع دیگر تمام مسائل کو نگل گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مودی اپنے آپ کو ایک مضبوط رہنماء کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو پاکستان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اسی وجہ سے حزب اختلاف مشکل میں نظر آ رہا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بی جے پی اور نریندر مودی انتخابی مہم میں اس صورتحال کا پورا استعمال کریں۔ لیکن اس سے انہیں ووٹ ملیں گے یا نہیں یہ ایک مختلف سوال ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عام طور پر جنگ جیسے حالات میں حکمران جماعت کو فائدہ ہوتا ہے کیوںکہ عوام جذبات میں ڈوبی ہوتی ہے۔
انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کو سنہ 1971 کی جنگ سے فائدہ پہنچا تھا۔ انہوں نے اپریل 1971سے لے کر دسمبر 1971 تک جنگ کی تیاری کی اور آخر کار اس جنگ میں فتح بھی حاصل کی۔
اندرا گاندھی نے اپنی تیاری کو اتنا پوشیدہ رکھا کہ جولائی میں انڈیا کے دورے پر آنے والے امریکی وزیر خارجہ کسنجر کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔ اس وجہ سے اس دور کے امریکی صدر رچرڈ نکسن اندرا گاندھی سے اس قدر ناراض ہوئے کہ انہیں ’اے وچ اینڈ اے بچ‘ تک کہہ ڈالا۔
این ڈی اے کی رہنمائی میں وزیر اعظم بننے والے اٹل بہاری واجپئی کو بھی کارگل کی جنگ کے دوران پوری ہمدردی حاصل ہوئی۔ حالانکہ اس کے بعد بی جے پی انتخابات تو جیتی لیکن اس کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہوا۔ حالات تب بہتر ہوئے جب امریکی صدر بل کلنٹن نے جوہری ہتھیاروں کے مالک دونوں ممالک کے درمیان جنگ کو روکنے کے لیے مداخلت کی۔
اب وزیر اعظم نریندر مودی بالاکوٹ ایئر سٹرائک کو اپنی فتح کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ تاہم سچائی یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی تب کم ہوئی جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک نے مداخلت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اپنے ٹوئیٹز اور بیانوں کے ذریعہ ایسا کرتے رہے۔
حکمران جماعت بی جے پی کو لگتا ہے کہ بالاکوٹ ایئر سٹرائک کے بعد مودی کے اقتدار میں واپس آنے کے مواقع پہلے سے بہتر ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دلچسپ بات یہ ہے کہ پلوامہ کے حملے سے قبل تین بڑی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیسگڑھ میں ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو کانگریس سے بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
حزب اختلاف کی پارٹیاں رفائل جہازوں کے سودے میں مبینہ کرپشن، روزگار اور کاشکاری کے مسائل پر بات کر رہی تھی اور مودی محتاط لہجہ اپنانے پر مجبور تھے۔
بی جے پی کو اس بات کا ڈر بھی پریشان کر رہا تھا کہ عوام حکومت کے خلاف ہو سکتی ہے۔ لیکن پلوامہ اور بالاکوٹ کے بعد اب حالات ڈرامائی طور پر تبدیل ہو چکے ہیں۔ اور ایسے میں مودی ایک بار پر دہشتگردی کے موضوع کے ساتھ آگے آئے ہیں۔
پلوامہ حملے نے بی جے پی کو انتخابات کے لیے اپنی حکمت عملی پو دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اس سے قبل حکمران جماعت رام مندر اور ترقی کو عام انتخابات کا بڑا موضوع بنا کر پیش کر رہی تھی۔ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس بھی ’مندر اور گائے‘ پر بحث میں مصروف تھی۔
یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ 22 فروری کو آر ایس ایس کے ایک اجلاس میں رام مندر جیسے موضوعات کو پیچھے کر کے دہشت گردی کو آگے لایا گیا۔ اس اجلاس میں ایسے رہنما کی ضرورت پر زور دیا گیا جو دہشت گردی سے لڑ سکے۔
پلوامہ میں حملے کے بعد حزب اختلاف مودی کو کسی طرح کا فائدہ نہیں دینا چاہتی تھی۔ لیکن بالاکوٹ سٹرائیک کے بعد اسے حکومت کی حمایت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم حزب اختلاف نے یہ حمایت بہت زیادہ دنوں تک نہیں دکھائی۔ کیونکہ اب بی جے پی اور حزب اختلاف، دونوں ہی پلوامہ کو مرکز بنا کر اپنی اپنی سیاست کر رہے ہیں۔
حزب اختلاف کی کچھ پارٹیوں نے ایئر سٹرائیک پر شک کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے کردار کی مذمت کی۔ یہ بھی سوال کیا گیا کہ حملہ آور اتنا بارود لے کر پہنچا کیسے؟ ان سوالات کے جواب میں نریند مودی اور بی جے پی نے سوال پوچھنے والوں کو ملک مخالف قرار دینا شروع کر دیا۔
حزب اختلاف اب جوابی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس حکومت پر حملہ کرنے کے لیے بہت سے مسائل ہیں جن میں زیادہ تر بی جے پی کے خود ہی پیدا کیے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند دنوں میں حزب اختلاف نے مل کر ایئر سٹرائیک کے ثبوتوں کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
حزب اختلاف کے پاس دوسرا راستہ ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور فیصلوں کو چیلینج کرنے والی آوازوں کو ملک بھر میں سامنے لائے۔
حزب اختلاف کی تیسری حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ رفائل جہازوں کے سودے، روزگار اور کاشتکاروں کے مسائل کو زور شور سے واپس لے کر آئے۔
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ حزب اختلاف پلوامہ کے حملے کے بارے میں خفیہ اداروں کی ناکامی کو ہتھیار بنا کر حکومت کو گھیرے۔ حزب اختلاف کی یہ حکمت عملی اس لیے بھی کامیاب ہو سکتی ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد خفیہ اداروں کی ناکامی کی بات خود انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے تسلیم کی تھی۔
اگر حزب اختلاف ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو انتخابات سے دو ماہ قبل تک بی جے پی کے لیے حالات مشکل ہو جائیں گے۔
اب حزب اختلاف کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ پرانے مسائل کو دوبارہ آگے کیسے لائے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوگی؟ کوئی نہیں جانتا کہ قومی سلامتی سے متعلق جزباتی ماحول میں عوام کا جھکاؤ کس جانب ہوگا۔ ایسے میں بی جے پی کی قوم پرستی کی حکمت عملی پر سوال کھڑے کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
کیا عوام قوم پرستی کے جذبات میں بہہ کر مودی کے لیے ووٹ کرے گی یا وہ نوکریوں اور کاشتکاری کی مسائل کے بارے میں سوچے گی؟ یہ تو اسی دن پتہ چلے گا جب انتخابات کے نتائج سامنے آئیں گے۔ اس وقت حزب اختلاف کے لیے سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مل کر صحیح راستہ تلاش کریں۔