انڈیا: پارلیمانی انتخابات سے پہلے نریندر مودی کا آخری داؤ

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

گذشتہ دسبمر میں گجرات کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دوبارہ اقتدار میں تو آ گئی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی تمام کوششوں کے باوجود ان کی جماعت کی کارکردگی پہلے کے مقابلے میں خاصی خراب رہی اور وہ بس ہارنے سے بچ گئی۔

اتر پردیش اور راجستھان میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی بی جے پی کو خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ انتخابی نتائج بی جے پی کے لیے وارننگ بن کر آئے۔

ماہرین اور خود بی جے پی کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس ایک عرصے سے یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک کے کسان اور دیہی آبادی بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان میں حکومت کے خلاف بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ حکومت نے اس خطرے کو محسوس کر لیا تھا لیکن حالات بہتر کرنے کے لیے حکومت کے پاس وقت بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مودی حکومت نے آئندہ برس پارلیمانی انتخابات سے قبل اپنا آخری بجٹ پیش کرتے ہوئے زراعت اور کسانوں پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی ہے۔ نریندر مودی نے اس بجٹ میں انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی داؤ کھیلا ہے۔ انھوں نے ملک کے غریب طبقے کے لیے پانچ لاکھ روپے کے میڈیکل بیمے کی تجویز پیش کی ہے۔

اس سکیم سے 50 کروڑ لوگوں کو بڑی بیماریوں کے علاج کے لیے پانچ لاکھ روپے کے بیمے کا تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ یہ ایک بڑی سکیم ہے اور اس سے غریب آبادی کو یقیناً بہت فائدہ ہو گا۔ اس سے حکومت کی شبیہ بہتر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

لیکن وقت بہت کم ہے اور عوام کا موڈ تیزی سے بدل رہا ہے۔ عوام کو مودی حکومت سے جو بڑی بڑی امیدیں تھیں وہ اب بے یقینی میں بدل رہی ہیں۔ جمعرات کو جس وقت وزیر خزانہ ارون جیٹلی پارلیمان میں بجٹ پیش کر رہے تھے اسی وقت راجستھان سے دو پارلیمانی اور ایک اسمبلی نشست کے ضمنی انتخابات کے نتائج بھی آ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

یہ تینوں سیٹیں پہلے بی جے پی کے پاس تھیں لیکن ضمنی انتخابات میں ان تینوں سیٹوں پر کانگریس نے بی جے پی کو زبردست شکست سے ہمکنار کیا ہے۔ بی جے پی ان نتائج سے سکتے میں ہے اور ہوا کے بدلتے ہوئے رخ کو محسوس کر رہی ہے۔

گذشتہ دنوں جو بجٹ مودی حکومت نے پارلیمان میں پیش کیا وہ حکمراں بی جے پی کی اسی گھبراہٹ کا عکاس ہے۔ حکومت نے اس بجٹ کے ذریعے ہوا کا رخ بدلنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کتنا کامیاب ہو گی یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن بجٹ کا پہلا اثر سٹاک مارکیٹ پر بہت منفی رہا۔ بجٹ کے اگلے روز سٹاک مارکیٹ ایک دن کے اندر 800 پوائنٹس نیچے گر گئی۔ یہ گذشتہ ڈیڑھ برس میں ایک دن کے اندر کی سب سے بڑی گراوٹ تھی۔

رواں سال راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان تینوں ریاستوں میں بی جے پی اقتدار میں ہے۔ ان ریاستوں سے جو اشارے مل رہے ہیں وہ بی جے پی کے لیے پریشان کن ہیں۔ گجرات کے نتائج کے بعد کانگریس کا اعتماد بھی بڑھ گیا ہے۔ ان ریاستوں میں وہ نوجوان قیادت اور نئی حکمت عملی کے ساتھ پہلے سے ہی سرگرم ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاست دان ہیں۔ وہ ہاری ہوئی بازی کو بھی پلٹنے کا فن اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کے پاس بجٹ کے بعد ایک اور آخری داؤ ہے جس کا استعمال وہ ماضی میں کامیابی سے کرتے آئے ہیں اور وہ ہے ہندو قوم پرستی اور مذہب کی سیاست۔

اس وقت آسام کی پوری آبادی کی شہریت کے کاغدات کی جانچ پڑتال چل رہی ہے۔ آئندہ مہینوں میں آسام کے شہریوں کی ایک حتمی فہرست جاری ہونے والی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس عمل میں آسام کے لاکھوں مسلم باشندے شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں اور انھیں بنگلہ دیشی قرار دیا جا سکتا ہے۔

بے جے پی نے اپنے انتحابی منشور میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک سے غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو نکال باہر کرے گی۔ وہ اسے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ان شہریوں کو بنگلہ دیشی ثابت کرنا تو مشکل ہو گا لیکن مسلمانوں سے نفرت کی اس فضا میں بی جے پی اس ایشو کو اپنے آخری انتخابی ہتھیار کے طورپر استعمال کرے گی لیکن ملک کی بدلتی ہوئی فضا میں مذہبی پھوٹ کی سیاست کیا ایک بار پھر بی جے پی کے لیے کارگر ثابت ہو گی؟ یہ آنے والے ان انتخابات میں پتہ چل سکے گا۔